دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد ہے جس میں تین د ر و ازے لگے ہیں ، صبح کی نماز میں بوجہ سردی کے تنیوں دربند کرکے اورچراغ جلاکر لوگ نماز پڑھاکرتے ہیں او رنماز صبح اپنے وقت پر ادا کرتے ہیں ، ایك شخص کہتا ہے کہ چراغ جلاکر نماز نہ پڑھنا چاہئے منع ہے مگر کو ئی ثبوت اس کا نہیں دیتا ہے اس لئے دریافت طلب ہے کہ ایسا کرنے میں شرعًا کوئی قباحت ہے یا نہیں ؟ اور کہاں تك اس کا کہنا صحیح ہے ؟ مہربانی فرماکر جوا ب مع حوالہ کتبِ فقہ شریف عنایت ہو۔

الجواب :

وقت حاجت چراغ جلاکر نماز پڑھنے میں تو کوئی حرج نہیں ،

وفیہ حدیث تمیم الداری رضی اﷲتعالٰی عنہ وایقادہ القنادیل فی المجسد الشریف و استحسانہ من النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم و حدیث علی رضی اﷲتعالٰی عنہ لما رأی المسجدین ھو قال نوراﷲ قبر عمر کما نور مساجدنا [1]۔              

اس بارے میں حضرت تمیم داری   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے مروی حدیث ہے ، مسجد نبوی میں قندیلوں کا جلانا اور نبی اکرم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا انھیں پسند کرنا ثابت ہے ، اور وہ حدیث جس میں منقول ہے کہ جب حضرت علی   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے دونوں مساجد کو روشن دیکھا تو کہا : اﷲتعالٰی عمر (  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ) کی قبر کو اسی طرح روشن کرے جیسے انھوں نے مساجد کو روشن کیا۔ (ت)

مگر نماز کے وقت مسجد کے کواڑ بند کرنا ضرور ممنوع وبدعت سیئہ ہے درمختار میں ہے :

کرہ غلق باب المسجد الالخوف علی متاعہ بہ یفتی[2]  اھ

مسجد کا دروازہ بند کرنا مکروہ ہے البتہ اس صورت میں جائز ہے جب مسجد کا سامان چوری ہونے کا اندیشہ ہو ،

اقول :  ھذا فی غیروقت الصلٰوۃ لقول الشامی الافی اوقات الصلٰوۃ[3] فکیف عند نفس قیام الصلٰوۃ ھذا مردودباجماع اھل الصلٰوۃ۔

فتوٰی بھی اسی پر ہے اھ۔ میں کہتا ہوں یہ وقت نماز کے علاوہ میں ہے ، کیونکہ شامی نے کہا مگر اوقاتِ نماز میں دروازہ بند کرنا مکروہ ہے ، تو نماز کی جماعت ہورہی ہو تو اس وقت منع کیوں نہ ہوگا! اور اس کے مردود ہونے پر تمام اہل نماز کا اجماع ہے۔ (ت)

اس وقت چراغ روشن کرنا بھی اگر اسی کو اڑبند کرنے کی بنا پر ہو اگر بند نہ کریں چراغ کی حاجت نہ ہو تو یہ چراغ بھی بے حاجت کہ وہ حاجت بروجہ باطل ہے اور اگر اتنے اندھیرے سے پڑھتے ہیں کہ کھلے کو اڑوں میں بھی حاجت چراغ ہو تو یہ خلاف افضل ہے ، مذہب حنفی میں نمازِ فجر جس قدر وقت روشن کرکے پڑھی جائے زیادہ اجر ہے۔ واﷲتعالٰی اعلم۔

مسئلہ۱۱۵۷ :       از شہر بریلی محلہ گھیر جعفر خاں محمود علی خاں                     ۲۸ ذی القعدہ ١٣٣٨ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اندرونِ مسجد مرزائی یعنی ٹین کے دالان کے دروں میں بغرض زیبائش مسجد گملے درختاں پھول وغیرہ لٹکائے جانے کےلئے تیار کئے گئے ہین جن مین کہ کھادوغیرہ پاك مٹی کی دی گئی ہے۔ اب چند حضرات کو اعتراض ہے کہ نئی بات مسجد میں نہیں ہونا چاہئے۔ ازرُوئے شرع شریف کیا حکم ہے؟

الجواب :

اگر نمازی نگاہ کے سامنے ہوں تو مکروہ ہیں اور زیادہ بلند ہوں تو حرج نہیں ۔ واﷲتعالٰی اعلم

مسئلہ ۱۱۵۸ : از منصور پور متصل ڈاکخانہ شیش گڑھ تحصیل بہیڑی ضلع بریلی مسئولہ محمد شاہ خان         ٢٩ محرم ١٣٣٢ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس باب میں ، مسجد میں اکثر کاپیاں عربی کی ونقشجات وغیرہ چہار جانب دیواروں پر مسجد کی نصب کئے جاتے ہیں منجملہ اُن کے منبر کے قریب دیوار پر عربی مناجات ایسے موقع پر نصب یعنی چسپاں کئے جاتے ہیں کہ بروقت پڑھنے کے امام کے پسِ پشت یا اس سے کسی قدر اونچے یعنی قریب پس گردن عربی مناجات ہوتے ہیں ، ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟

الجواب :

ایسی چیزوں کا دیوارِ قبلہ میں نصب کرنا نہ چاہئے جس سے لوگوں کا نماز میں دھیان بٹے اور اتنی نیچی ہونا کہ خطبہ میں امام کی پشت اس کی طرف ہو ، یہ اور بھی نامناسب ہے۔ ہاں اگر اس سے بلند رہے تو یہ حرج اس میں نہ ہوگا ۔ واﷲتعالٰی اعلم

مسئلہ۱۱۵۹ : از علی گڑھ کالج مسئو لہ حضرت مولانہ محمد سیلمان اشرف صاحب بہاری(  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  ) پروفیسر دینیات ، خلیفہ اعلٰیحضرت   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ١٣٣٢ھ

مسجد مین طلائی نقش ونگار جائز ہے یا نہیں ؟ کیا نمازیوں کے پیشِ نظر گُل بوٹے چمکتے دمکتے مخل صلوٰۃ نہیں ؟ کیا اس طرح کی زیبائش مسجد کی من جہت معبد ہونے کے شایان شان نہیں ؟ محض مختصر جواب اس کا تحریر فرماکر فقیر کو ممنون فرمائیں ، یہاں مسئلہ درپیش ہے کالج کی مسجد منقش ومطلا کی جارہی ہے۔ فقط

الجواب :

مساجد میں زینت ظاہری زمانہ سلف صالحین میں فضول وناپسند تھی کہ اُن کے قلوب تعظیم شعائر اﷲ سے مملوتھے ولہٰذا حدیث میں مباہاۃ فی المساجد کو اشراط ساعت سے شمار فرمایا ، اور عبداﷲ ابن عباس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  نے فرمایا :

 



   [1] تاریخ الخلفاء فصل فی اولیاتِ عمر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص ٩٧

[2]    درمختار باب مایفسد الصلوٰہ وماکرہ فیھا مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ /  ٩٣

[3]    ردالمحتار باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیھا مطبوعہ مصطفے البابی مصر ۱ /  ۴۵۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن