30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الموافقۃ فی ھذا الامور من حسن الصحبۃ والعشرۃ اذ المخالفۃ موحشۃ و لکل قوم رسم لا بدّمن مخالقۃ الناس باخلاقھم کما وردفی الخبر لاسیّما اذاکانت اَخلاقافیھا حسن العشرۃ و لمجاملۃ وتطییب القلب بالمساعدۃ وقول القائل انّ ذٰلك بدعۃلم یکن فی الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہم وانما المحذور بدعۃ تراغم سنۃ مامورًا بھا ولم ینقل النھی عن شیئ من ھذا ( الٰی قولہ) وکذلك سائر انواع المساعدات اذقُصِدَبھا تطییب القلب واصطلح علیھا جماعۃ فلابأس بمساعدۃ الاّفیما ورد فیہ نھی لایقبل التاویل [1]۔
یعنی ان امور میں لوگوں کی موافقت کرنا حُسن صحبت اور معاشرت سے ہے اس لئے کہ مخالفت وحشت دلاتی ہے اور ہر قوم کی کچھ رسمیں ہوتی ہیں کہ ان میں ان کا حکم آیا خصوصًا وہ عادتیں جن میں حُسن معاشرت اور باہم اچھا برتاؤ اور موافقت کرکے دل خوش کرنا ہو اور کہنے والے کا کہنا یہ بدعت ہے ، صحابہ کے زمانے میں ہی نہ تھا ، تو کیا جو کچھ مباح کہا جائے سب صحابہ سے ہی منقول ہوتا ہے ، بُری تو وہ عادت ہے جو کسی سنت مامور بِہا کا رَد کرے اور اس فعل سے شرع میں کہیں ممانعت نہ آئی ۔ اس طرح تمام مساعدت کی باتیں جبکہ ان سے دل خوش کرنا مقصود ہو ، ایك گروہ کی رسم ہوگئی تو ان کی موافق کرنا کچھ حرج نہیں بلکہ موافقت ہی بہتر ہے مگر اُس صورت میں کہ صاف نہی وارد ہو جو قابل تاویل نہ ہو۔ (ت)
دیکھئے اطبّائے قلوب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے ارشاد یہ ہیں ، اﷲ عزّوجل جسے نیك توفیق دے وہی ان نفیس الہٰی ہدایتوں پر عمل کرے۔ حضرات مانعین ان سے منزلوں دورہیں ولاحول ولاقوۃ الاّ باﷲ العلی العظیم
بالجملہ اگر آپ کو مرقات پر عمل ہے تو صاف تصریح فرمادیجئے کہ بعد عید جو شخص معانقے کو ہاتھ بڑھائے اس سے انکار ہر گز نہ کیا جائے بلکہ فورًا معانقہ کرلیں ، افسوس کہ مرقاۃ سے سند لانا تو بالکل الٹاپڑا۔ مجھے جناب کی بزرگی سے امید ہے کہ شاید مرقاۃ شریف خود ملاحظہ نہ فرمائی ہو بلکہ مانعین زمانہ عبارات میں قطع وبرید وسرقہ کے عادی ہیں ، کسی سارق نے آدھی عبارت کہیں نقل کردی ہے آپ کے اعتماد پر اسناد کرلیا ، اب کہ پوری عبارت پر مطلع ہوئے ضرور حق کی طرف رجوع فرمائے گا وَاﷲُ الْمُوَفّق۔
نہم : بحمد اﷲ تعالٰی ہماری تحقیقات رائقہ سے آفتاب روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ معانقہ عید کو بدعتِ مذمومہ سے کچھ علاقہ نہیں بلکہ وہ سنت مباح کے اندر دائر ہے ، یعنی من حیث الاصل سنت اور من حیث الخصوص مباح ، اور بقصد حَسن محمود مُستَحسَن ، تو ظاہر ہواکہ عبارت ردالمحتار :
اِذَاتَرَدَّدَ الْحُکْمُ بَیْنَ سُنَّۃٍ وَّ بِدْعَۃ الخ [2]
جب حکم کسی سنت وبدعت کے درمیان دائر ہو تو ترك سنت کو ارتکاب بدعت پر ترجیح حاصل ہے ۔ (ت)
کو اسی مسئلہ سے اصلًا تعلق نہیں کہ وہاں بدعت سے مراد بدعتِ مذمومہ ہے۔ جب تو اس سے بچنے کے لئے سنت کا چھوڑنا تك گوارا کیا ورنہ بدعت مباحہ سے بچنا خودہی مطلب نہیں ، نہ کہ اس کے لئے سنت چھوڑ دینے کا حکم دیا جائے ، وھذا ظاھر علٰی کل من لہ حظاٌّ من عقل صفی ( یہ ہر اس شخص یر عیار ہے جسے پسندیدہ اور خالص عقل سے کچھ حصہ ملا ہے ۔ ت)
دہم : فتوٰی فقیر میں میاں اسمٰعیل دہلوی کی بھی عبارت تھی جس میں معانقہ عید کے مستحسن ہونے کی صاف تصریح ہے ، اس سے جناب نے کچھ تعرض نہ فرمایا بلکہ مجموعہ فتاوٰی وعباراتِ ردالمحتار و مرقاۃ پیش فرمائیں ۔ اس میں دو احتمال ہیں : ایك وہ ، طائفہ مانعین جس کے خوگر ہیں یعنی ہفواتِ باطلہ وخرافات عاطلہ میں دہلوی مذکور کا امام اکبر مانتے ہیں اور جو باتیں وہ بعلت مناقضت جس کا اس کے یہاں حد سے زائد جوش و خروش ہے اصول و فروعِ طائفہ کے خلاف لکھتا ہے دیوار سے مارتے ہیں ۔
دوم یہ کہ جناب کو اس سے کچھ کام نہیں جو کلام اس کا تصریحاتِ امثال مرقات وردالمحتار حتی کہ مولوی صاحب لکھنوی کے خلاف ہو قابل قبول نہیں ۔ اگر شق اخیر مختار ہے اور جناب کی انصاف پسندی سے یہی مامول ، توصراحۃً اس کی تصریح فرمادیجئے کہ جو مسائل تقویۃ الایمان وصراطِ مسقیم وایضاح الحق وغیرہا تصانیف شخص مذکور ، مولانا علی قاری وعلاّمہ شامی یہاں تك کہ مولوی صاحب لکھنوی او ران کے امثال کی تصریحات سے رد ہوتے ہیں ان کا بطلان تسلیم فرماتے جائیے ، امید کرتا ہوں کہ بہت مسائل نزاعیہ جن میں جہلائے مانعین کو بے حد شور وشغب ہے یوں بَاحْسَنِ وُجُوہ انفصال پائیں گے اور ہم آپ بتوفیقہٖ تعالٰی شخص مذکور کی ضلالتِ عقائد وبطالت مکائد پر متفق ہو کر حقِ ناصح کے اعلان میں باہم مُمِدّ ومعاون یك دیگر ہوجائیں گے۔
وباﷲ التوفیق والوصول الٰی سواء الطریق ، واٰخردعوٰنا ان الحمد ﷲ رب العٰلمین ، والصلٰوۃ و السلام علٰی سیدن المرسلین محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین ، اٰمین!
اور اﷲ ہی کی طرف سے توفیق اور سیدھی راہ تك رسائی ہے ، اور ہماری آخری پکار یہ ہے کہ ساری تعریف اﷲ کے لئے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے ، اور درود وسلام ہو رسولوں کے سردار محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور ان کی آل واصحاب سب پر ۔ خدا وند قبول فرما۔ (ت)
کتبہ ، عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی عُفِیَ عنہ بمحمد المصطفی النبی الامی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
_____________________
باب الاستسقاء (نمازِ استسقاء کا بیان)
مسئلہ ١٤٥١ : از محلہ کوٹ پرگنہ سنبھل ضلع مراد آباد مکان مولوی لئیق احمد صاحب مرسلہ مظہر حسین صاحب ٢٣ ذیقعدہ
١٣٣١ھ
نماز استسقاء نماز ہے یا دُعا ، اور استسقاء کیسے وقت میں ہونا چاہئے؟ بینوا توجروا
الجواب :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع