دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

کے سامنے یہ سوال پیش کیا گیا تھا توانھوں نے فرمایا علماء نے کافر سے تو نہیں مگر مسلمان سے مصافحہ کو کسی خاص وقت کی کوئی قید لگائے بغیر مسنون ہونے پر نص فرمایا ہے ، اسی لئے کہ حضور   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا ارشاد ہے : “ جس نے اپنے مسلمان بھائی سے مصافحہ کیا اور اپنے ہاتھ کو حرکت دی تو اس کے گناہ جھڑتے ہیں ، اور دونوں پر کل سو ١٠٠ رحمتیں نازل ہوتی ہیں ، نناوے ٩٩ اس کے لئے جس نے مصافحہ میں سبقت وپیش قدمی کی اور

وقال ایضا مامن مسلمین یلتقیان فیتصافحان الا غفر لھما قبل ان یتفرقا فالحدیث الاول یقتضی مشروعیۃ المصافحۃ مطلقا اعم من ان تکون عقب الصلوات الخمس والجمعۃ و العیدین او غیر ذلک ، ۔  لان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لم یقیدھا بوقت دون وقت والدلیل العام عند الحنفیۃ اذا لم یقع فیہ تخصیص من الادلۃ الموجبۃ للحکم قطعا ،  کالدلیل الخامس وقالوا لدلیل العام یعارض الخاص لقوتہ۔  والدلیل ھھنا عام لان صیغۃ “ مَن “ من صیغ العموم وکذانقل عن شیخ مشائخنا العلامۃ المقدسی حدیث “ من صافح مسلما وقال عند المصافحۃ اللھم صل علی محمد وعلٰی آل محمد لم یبق من ذنوبہ شیئ “ فصیغتہ ایضا من صیغ العموم ذکرہ الشُّرُنْبُلَالی فی رسالتہ المسماۃ “ بسعادۃ اھل الاسلام “[1]                               

ایك اس کے دوسرے ساتھی کے لئے “ اور حضور   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے یہ بھی فرمایا کہ “ جب دو مسلمان ایك دوسرے سے ملتے پھر مصافحہ کرتے ہیں تو جدا ہونے سے پہلے ان کی مغفرت ہو جاتی ہے “ پہلی حدیث کامقتضٰی ہے کہ مصافحہ مطلقًا جائز ومشروع ہو ، خواہ نماز پنجگانہ ، جمعہ وعیدین کے بعد ہو یاکسی اور وقت ، اس لئے کہ نبی   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے مصافحہ کو کسی خاص وقت سے مقید نہ فرمایا ، اور حنفیہ کے نزدیك دلیل عام کا بھی وہی رتبہ ہے جو دلیل خاص کا ہے جبکہ دلیل عام کا حکم کو قطعی طور پر لازم کرنے والی دلیلوں سے کوئی تخصیص نہ ہوئی ہو ، بلکہ وہ تو اس کے قائل ہیں کہ دلیل عام اتنی قوی ہوتی ہے کہ دلیل خاص کے معارض اور اس پر ترجیح یافتہ ہوا کرتی ہے ، اور یہاں دلیل مصافحہ بھی عام ہے ، اس لئے کہ حدیث میں کلمہ “ مَن “ ہے جو صِیَغِ عموم سے ہے ، یوں ہی ہمارے شیخ المشائخ علامہ مقدسی سے یہ حدیث منقول ہے “ جس نے کسی مسلمان سے مصافحہ کیا اور بوقت مصافحہ ( درود شریف) اللھم صل علٰی محمد وعلٰی آل محمد “ پـڑھا تو اس کے گناہوں سے کچھ باقی نہیں رہ جاتا “ اس حدیث کا صیغہ بھی عموم کا صیغہ ہے۔ اسے علامہ شرنبلالی نے اپنے رسالہ “ سعادۃ الاسلام “ میں ذکر کیا ہے ۔ (ت)

علامہ سید ابو السعود ازہری حا شیہ کنز میں فرماتے ہیں ؛

فی شرح لشھاب الشلبِی وما اعتادہ الناس بعد صلٰوۃ الصبح والعصر فلا اصل لہ لکن لابأس بہ [2] الخ۔

شہاب الدین شلبی کی شرح میں ہے : نماز فجر وعصر کے بعد جو مصافحہ را ئج ہے اس کی کوئی اصل نہیں ، مگر اس میں کوئی حرج بھی نہیں ۔ (ت)

غنیہ حاشیہ غرر ودرر باب صلوٰۃ العیدین میں ہے :

المستحب الخروج ماشیا والرجوع من طریق اٰخر والتھنئۃ بتقبل اﷲ منا و منکم لَاننکر کما فی البحر وکذا المصافحۃ بل ھی سنۃ عقب الصلوات کلھا عند کل لقی ولنا فیھا رسالۃ سمیتھا سعادۃ اھل الاسلام بالمصافحۃ عقب الصلٰوۃ والسلام “  [3]۔                         

عیدکے دن عیدگاہ کو پیادہ جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا یہی مستحب ہے ۔ اور بالفاظ تَقَبَّلَ اﷲ مِنَّا وَ مِنْکُمْ ( اﷲ ہمارے تمھارے عمل قبول فرمائے) مبارکباد پیش کرنا کوئی منکر اور بُرا نہیں ، جیسا کہ بحرالرائق میں ہے ، اسی طرح مصافحہ بھی ، بلکہ وہ تو تمام نمازوں کے بعد ہر ملاقات کے وقت سنت ہے اور اس بارے میں “ سعادۃ اھل الاسلام بالمصافحۃ عقب الصلوٰۃ والسلام “ نامی ہمارا ایك رسالہ ہے ۔ (ت)

فتح اﷲ المعین علٰی شرح العلامۃ الملامسکین میں ہے :

من المستحب اظھار الفرح والبشاشۃ ( الی قولہ) والتھنئۃبتقبل اﷲ منا ومنکم وکذا المصافحۃ بل ھی سنۃ عقب الصلٰوۃ کلھا و عند کل لقی۔  شرنبلالیۃ [4] ۔

عید کے دن مسرت و خندہ روئی ظاہر کرنا اور تقبل اﷲ منا ومنکم ( اﷲ ہم سے اور تم سے قبول فرمائے) کے ذریعہ مبارك باد دینا مستحب ہے ، اسی طرح مصافحہ بھی ، بکہ یہ تو تمام نمازوں کے بعد اور ہر ملاقات کے وقت سنت ہے ، شرنبلالیہ ۔ (ت)

علامہ سید احمد طحطاوی حاشیہ نورالایضاح میں فرماتے ہیں :

کذا تطلب المصافحۃ فھی سنۃ

اسی طرح مصافحہ بھی مطلوب ہے بلکہ یہ تو تمام نمازوں

عقب الصلوات کلھا [5]

کے بعد سنت ہے۔ (ت )

حاشیہ درمختار میں ہے :

تستحب المصافحۃ بل ھی سنۃ عقب الصلوات کلھا وعند کل لقی ،  ابوالسعود عن الشُّرُنْبُلَالیۃ [6]۔

 



[1]    مناصحۃ فی تحقیق مسألۃ المصافحہ

[2]    فتح المعین حاشیہ علی شرح ملا مسکین کتاب الکراھیۃ فصل فی الاستبراء مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /  ۴۰۲

[3]    غنیۃ ذوی الاحکام حاشیہ غرر باب صلوٰۃ العیدین مطبوعہ احمد مصر ١ /  ١٤٢

[4]    فتح المعین علی شرح العلامہ الملامسکین باب صلوٰۃ العیدین مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ /  ۳۲۵

[5]    حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح باب العیدین مطبوعہ نور محمد کراچی ص ۲۸۸

[6]    حاشیہ طحطاوی علی الدرالمختار باب العیدین دارالمعرفۃ بیروت ١ /  ٣٥٣

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن