دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

ان کے اس نظریہ سے اتنا ثابت ہے کہ زمانہ تابعین کی ایجادات بھی بری نہیں ، تو مصافحہ مذکورہ کی ممانعت کے ثبوت میں صرف صحابہ کرام کے نہ کرنے سے استدلال ناقص وناتمام ہے ، اپنے ہی نظریہ کے مطابق یہ بھی ثابت کرنا تھا کہ زمانہ تابعین میں بھی اس کا وجود وثبوت نہیں ۔ (ت)

فتح اﷲ المعین حاشیہ کنز وغنیہ ذوی الاحکام حاشیہ درر و حاشیہ مراقی الفلاح ونسیم الریاض شرح شفائے امام قاضی عیاض ومجمع بحارا لانوار ومطالب المومنین ومسوی شرح مؤطا وتکملہ شرح اربعین علامہ برکوئی للعلامہ محمد آفندی وحدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ للعلامۃ النابلسی وفتوٰی امام شمس الدین بن امام سراج الدین حا نوتی وغیرہم علمائے حنفیہ کی تصریحات جلیلہ بھی دیکھی ہوتیں کہ صاف صاف مصافحہ مذکورہ اور اسی طرح مصافحہ عید کو بھی جائز بلکہ مستحسن بلکہ سنت بتاتے ہیں ۔ درمختار میں ہے :

اطلاق المصنف تبعاللدرر والکنز والوقایۃ و المجمع والملتقی وغیرھا یفید جوازھا مطلقا ولو بعد العصر وقولھم انہ بدعۃ ای مباحۃ حسنۃ کما افادہ النووی فی اذکارہ وغیرہ فی غیرہٖ ۔[1]

درر ، کنز ، وقایہ ، مجمع ، ملتقی ، وغیرہا کے اتباع میں مصنف نے بھی یہاں مصافحہ کا ذکر مطلق رکھا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مصافحہ مطلقا جائز ہے خواہ بعد عصرہی کیوں نہ ہو ، اور لوگو ں کا یہ کہنا کہ وہ بدعت ہے تو اس سے مراد بدعت مباحہ حسنہ ہے ، جیسا کہ امام نووی نے اذکار میں اوردوسرے علماء نے دوسری کتابوں میں افادہ فرمایا ہے ۔ (ت)

اصلاح وایضاح میں ہے :

کُرہ تقبیل الرجل وعناقہ فی ازار واحد وجاز مع قمیص کمصافحتہ[2]۔

آدمی کابوسہ دینا اور معانقہ کرنا ایك ازار میں مکروہ ہے اور کرتا پہن کر ہو تو جائز ہے۔ جیسے مصافحہ جائز ہے ۔ (ت)

حدیقہ ندیہ میں ہے :

بعض المتاخرین من الحنفیۃ صرّح بالکراھۃ فی ذلك ادعاء بانہ بدعۃ مع انہ داخل فی عموم سنۃ المصافحۃ مطلقا۔  [3]

بعض متاخرین حنفیہ نے اس مصافحہ کے بدعت ہونے کا دعوٰی کرتے ہوئے اسے صراحۃً مکروہ بتایا ہے باجود یکہ وہ مطلق مصافحہ کے عموم میں داخل ہو کر مسنون ہے۔ (ت)

مجمع البحارمیں ہے : ھِیَ مِنَ الْبِدَعِ الْمبَاحَۃِ[4] ( یہ مصافحہ ان بدعتوں سے ہے جو مباح ہیں ۔ ت)آپ کی اسی ردالمحتارمیں بعد نقل عبارت امام نووی ہے :

قال الشیخ ابوالحسن البکری وتقییدہ بما بعد الصبح والعصر علی عادۃ کانت فی زمنہ والافعقب الصلوات کلھا کذلک ،  کذافی رسالۃ الشُّرُنْبُلاَلیِ فی المصافحۃ ونُقِلَ مثلہ عن الشمس الحانوتی وانہ اَفتٰی بہ مستدلا بعموم النصوص الواردۃ فی مشروعیتھا وھو الموافق لما ذکرہ الشارح من اطلاق المتون [5]۔

شیخ ابوالحسن بکری فرماتے ہیں امام نووی نے بعد فجر و عصر کی قید کے ساتھ مصافحہ کا ذکر اس لئے فرمایا کہ ان کے زمانے میں یہی رائج تھا ، ورنہ بعد فجر وعصر کی طرح تمام نمازوں کے بعد مصافحہ جائز ہے۔ یہی علامہ شرنبلالی کے اس رسالہ میں ہے جو انھوں نے مصافحہ کے بارے میں لکھا ہے اور اسی کے مثل علامہ شمس الدین حانوتی سے منقول ہے۔ انھوں نے جوازِ مصافحہ کے بارے میں وارد شدہ احادیث اور نصوص سے استدلال فرماتے ہوئے اس مصافحہ کے بھی جائز ہونے کا فتوٰی دیا ہے۔ اور یہی اس کے موافق ہے جو شارح ( صاحب درمختار علاء الدین حصکفی ) نے متونِ فقہ کا اطلاق ذکر کیا ہے ۔ (ت)

شاہ ولی اﷲ دہلوی مسوّٰی میں کلامِ امام نووی نقل کرکے کہتے ہیں :

اقول :  وھکذا ینبغی ان یقال فی المصافحۃ یوم العید [6] ۔

میں کہتا ہوں جس طرح امام نووی نے مصافحہ بعد فجر وعصر کے جواز میں استدلال کیا ہے یہی استدلال مصافحہ روز عید میں بھی جاری ہونا چاہئے۔ (ت)

اوربعض نسخِ مسوی میں “ والمعانقۃ یوم العید ایضا “ ( اور روزعید کے “ معانقہ “ میں بھی ۔ ت) بھی ہے۔

 “ مناصحۃ فی تحقیق مسائل المصافحۃ “ میں تکملہ شرح اربعین سے ہے :

لاوجہ لجواب ابن حجر الشافعی وقد سُئل عن المصافحۃ بعد الصلٰوۃ فقال ھی بدعۃ انتھی ،  لان حالۃ السلام حالۃ اللقاء لان المصلی لما احرم صار غائبا عن الناس مقبلا علی اﷲ تعالٰی ،  فلما ادی حقہ قیل لہ ارجع الی مصالحك وسلم علی اخوانك لقد ومك عن غیبتک ،  و لذلك ینوی القوم بسلام کما ینوی الحفظۃ واذاسلم یندب المصافحۃ اوتسن کالسلام ،  کما اجاب شیخ الاسلام شیخ مشائخنا شمس الدین محمد بن سراج الدین الحانوتی وقد رفع لہ ھذا السؤال فقال نص العلماء علی ان المصافحۃ للمسلم لا للکافر مسنونۃ من غیر ان یقیدوھا بوقت دون وقت لقولہ علیہ الصلوٰۃ والسلام من صافح اخاہ والمسلم وحرّك یدہ تناثرت ذنوبہ و نزلت علیھا مأۃ رحمۃ تسعۃ وتسعون منھا لاسبقھما وواحدۃ لصاحبہ                                  

علامہ ابن حجر شافعی نے مصافحہ بعدنماز سے متعلق جواب دیتے ہوئے اسے بدعت کہا ہے ، ان کے اس جواب کی کوئی قابل قبول وجہ نہیں ، اس لئے کہ مصافحہ بعد نماز بھی مصافحہ اول ملاقات ہے کیونکہ سلام نماز کی حالت ، حالتِ ملاقات ہے ۔ اس لئے کہ جب مصلی نے تحریمہ باندھ لیا تو انسانوں سے غیر حاضر اور خدا کی طرف متوجہ ہوگیا ، پھر جب حقُّ اﷲ کی ادائیگی سے فارغ ہوا تو اس سے کہا گیاکہ اب اپنے کاموں اور مصالح کی طرف واپس ہو اور اپنے مسلمان بھائیوں کو سلام کر ، کیونکہ تو اپنی غیر حاضری اور غیبت سے آرہا ہے اسی لئے تو اپنے سلام میں لوگو ں کی بھی نیت کرے گا ، جیسے محافظ فرشتوں کی نیت کرے گا ، اور جب سلام کیا تو مصافحہ اس کے لئے مندوب یا مسنون ہے ، جیسے سلام ، اسی طرح شیخ الاسلام ہمارے مشائخ کے شیخ شمس الدین محمد بن سراج الدین حانوتی نے جواب دیا ہے ، ان



[1]    درمختار کتاب الحظروالا باحۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٦ /  ٣٨١

[2]    اصلاح وایضاح

[3]    الحدیقۃ الندیہ الخلق الثامن والاربعون الخ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ٢ /  ١٥٠

[4]    مجمع البحار الانوار تحت لفظ صفح مطبوعہ نو ل کشور لکھنؤ ٢ /  ٢٥٠

[5]    ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٦ /  ٣٨١

[6]    مسوّٰی باب استحباب المصافحۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ /  ٢٢١

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن