30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ان سے پوچھا : عورت کے لئے سب سے بہتر کیا ہے؟ عرض کی : یہ کہ کوئی نامحرم اُسے نہ دیکھے۔ حضور نے گلے سے لگالیا___ ان سب صورتوں میں ابتدائے لقا کا وقت کہاں تھا کہ معانقہ فرمایا گیا ، ___ یوں ہی پیار سے اپنے بچوں ۔ بھائیوں ، زوجہ کو گلے لگانا شاید اول ملاقات ہی پر جائز ہوگا۔ پھر ممانعت کی جائے گی؟
یوں ہی مصافحہ بعد نماز فجر وعصر اگر کسی وقت کے روافض نے ایجاد کیا اور خاص ان کا شعار رہا ہو ، اور بدیں وجہ اس وقت علماء نے اہلسنت کے لئے اسے ناپسند رکھا ہو تو معانقہ عید کا زبردستی اسی پر قیاس کیونکر ہو جائے گا ، پہلے ثبوت دیجئے کہ یہ “ رافضیوں کا نکالا اور انھیں کا شعار خاص ہے “ ورنہ کوئی امر جائز کسی بدمذہب کے کرنے سے ناجائز یا مکروہ نہیں ہوسکتا ۔ لاکھوں باتیں ہیں جن کے کرنے میں اہلسنت وروافض بلکہ مسلمین وکفار سب شریك ہیں ۔ کیا وہ اس وجہ سے ممنوع ہوجائیں گی؟
بحرالرائق ودرمختار و ردالمحتار وغیرہا ملاحظہ ہوں کہ “ بد مذہبوں سے مشابہت اُسی امر میں ممنوع ہے جو ۱فی نفسہٖ شرعا مذموم یا ۲اس قوم کا شعار خاص یا ۳خود فاعل کو ان سے مشابہت پیدا کرنا مقصود ہو ورنہ زنہار وجہ ممانعت نہیں “ رہا صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا نہ کرنا ، یہ دلیل منع نہیں ہوسکتا ، آپ تینوں کتب مُسْتَنَدہ اَعْنِی مجموعہ فتاوٰی وردالمحتار ومرقاۃ شریف اور ان کے سوا صد ہا کتب معتمدہ ا سکے بطلان پر گواہ ہیں ، فقہاء کرام سیکڑوں چیزوں کو یہ تصریح فرماکر کہ نو پیدا ہیں ، جائز بلکہ مستحب ومستحسن بلکہ واجب بتاتے اور مُحدَثات کو اقسامِ خمسہ کی طرف تقسیم فرماتے ہیں ۔ مجموعہ فتاوٰی کی عبارتیں گزریں ۔ ردالمحتار میں ہے :
قولہ ای صاحب بدعۃ ای محرمۃ والا فقد تکون واجبۃ کنصب الادلۃ للردعلی اھل الفرق الضالۃ وتعلم النحو المفھم الکتاب والسنۃ ومندوبۃ کا حداث نحو رباط ومدرسۃ وکل احسانٍ لم یکن فی الصدر الاول ومکروھۃ کزَخْرَفَۃِ المساجد ومباحۃ کالتوسع بلذ یذالمآکل والمشارب و الثیاب کما فی شرح الجامع الصغیر للمناوی عن تھذیب النووی ومثلہ فی الطریق المحمدیۃ للبرکوی[1]۔
شارح کا قول “ جو صاحب بدعت “ یہاں بدعت سے مراد حرام بدعت ہے ، ورنہ بدعت واجب بھی ہوتی ہے ، جیسے گمراہ فرقوں کا رد کرنے کے لئے دلائل قائم کرنا علم نحو سیکھنا جس سے کتاب وسنت سمجھ سکیں ، مستحب بھی جیسے سرائے اور مدرسہ جیسی چیزیں تعمیر کرنا ، اور ہر وہ نیك کام جو زمانہ اول میں نہ رہا ہو ، مکروہ بھی جیسے مسجدوں کو آراستہ ومنقش کرنا۔ مباح بھی جیسے کھانے پینے کی لذیذ چیزوں اور کپڑوں میں وسعت وفراخی کی راہ اختیار کرنا ، جیسا کہ علاّمہ مناوی کی شرح جامع صغیری میں علاّمہ نووی کی کتاب تہذیب سے منقول ہے ، اور اسی طرح علامہ برکوی کی کتاب “ الطریق المحمدیہ “ میں مذکور ہے ۔ (ت)
مرقاۃ شریف میں ہے :
احداث مالاینازع الکتاب والسنۃ کما سنقررہ بعدلیس بمذموم [2] ۔
ایسا فعل ایجاد کرنا جو کتاب وسنت کے مخالف نہ ہو برا نہیں ، جیسا کہ ہم آگے ثابت کریں گے ۔ (ت)
پھر ایك صفحہ کے بعد بدعت کا واجب وحرام ومندوب ومکروہ ومباح ہونا مفصلًا ذکر فرمایا۔ عالمگیری میں ہے :
لاباس بکتابۃ اَسَامی السور وعدد الآی
مصحف شریف میں سورتوں کے نام ، اور آیتوں کی
وھوان کان احد اثا فھو بدعۃ حسنۃ وکم من شیئ کان احداثا وھو بدعۃ حسنۃ [3]۔
تعداد لکھنے میں کوئی حرج نہیں ، اور وہ اگر چہ نئی ایجاد اور بدعت ہے مگر بدعت حسنہ ہے اوربہت سی چیزیں ایسی ہیں جو نو ایجاد تو ہیں مگر بدعتِ حسنہ ہیں ۔ (ت)
امام ابن الہمام فتح القدیر میں رکعتیں قبل مغرب کا حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وصحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے ثا بت نہ ہونا ثابت کر کے بتاتے ہیں :
ثم الثابت بعد ھذا ھو نفی المندوبیۃ اما ثبوت الکراھۃ فلا الاان یَّدُلَّ دلیل اخر [4] ۔
پھر اس ساری بحث کے بعد صرف یہ ثابت ہوا کہ نماز مغرب سے پہلے دو رکعتیں مندوب ومستحب نہیں لیکن مکروہ ہونا ثا بت نہیں ، ہاں اگر ثبوتِ کراہت پر کوئی اور دلیل ہو تو البتہ ۔ (ت)
مع ہذا حضرات مانعین زمانہ تین قرن تك اختیار تشریع مانتے ، اور مُحدثاتِ تابعین کو بھی غیر مذموم جانتے ہیں تو صرف فعل صحابہ سے استدلال ان کے طور پر بھی ناقص وناتمام ہے ف١۔ کلام ان مباحث میں طویل ہے کہ ہم نے اپنے رسائل عدیدہ میں ذکر کیا یہاں بھی دوحرف مجمل کافی ہیں وباﷲ التوفیق۔
پنجم : ردالمحتار ومرقات کی یہ عبارتیں اگرجناب نے دیکھیں تو درر وغرر و کنزالدقائق و وقایہ و نقایہ و مجمع و منتقی واصلاح وایضاح وتنویر وغیرہا عامہ متونِ مذہب کے اطلاق ملاحظہ فرمائے ہوتے جنھوں نے مطلقًا بلاتقیید وتخصیص مصافحہ کی اجازت دی ، درمختار وحاشیہ علامہ طحطاوی وشرح علامہ شہاب شلبی و
ف۱ : مانعین کسی چیز کی ایجاد اور جائز ومشروع قراردینے کا اختیار صرف تین زمانوں تك محدود مانتے ہیں :
(۱) زمانہ رسالت (۲) زمانہ صحابہ (٣) زمانہ تابعین
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع