30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سوال : سید سالار مسعود غازی کے جھنڈے کا کپڑا اپنے مصرف میں لائے یا صدقہ کردے؟
جواب : مذکورہ کپڑا اپنے مصرف میں لانے کے اند ر بظاہر گناہ کی کوئی وجہ نہیں ، اور بہتر یہ ہے کہ مساکین وفقراء کو دے دے ۔ (ت)
جناب سے سوال ہے کہ مولوی صاحب کے یہ اقوال کیسے؟ اور ان کے قائل ومعتقد کا حکم کیا ہے؟ خصوصًا شغلِ برزخ کو جائز جاننے والا معاذاﷲ مشرك یا گمراہ ہے یا نہیں ؟اور جس کتاب میں ایسے اقوال مندرج ہوں مستند و معتمد ٹھہرے گی یا پایہ احتجاج سے ساقط ہوگی؟ بینوا توجروا
سوم : مولوی صاحب نے اس فتوٰی میں معانقہ عید کی نسبت صرف اتنا حکم دیا ہے کہ “ ترك اس کا اولٰی ہے “ اس سے ممانعت درکنار اصلًا کراہت بھی ثابت نہیں ہوتی “ اَوْ لَوِیَّت ترکہ نہ مشروعیت واباحت کے منافی نہ کراہت کو مستلزم “ ف۱۔ ردالمحتار میں ہے :
الا قتصاد علی الفاتحۃ مسنون لاوَاجِب فکان الضم خلاف الاَولٰی وذلك لاینافی المشروعیۃ والاباحۃ بمعنی عدم الاثم فی الفعل والترك [1] ۔
نماز فرض کی تیسری چوتھی رکعتوں میں سورہ فاتحہ پر اکتفا کرنا صرف مسنون ہے ، واجب نہیں ، تو ان رکعتوں میں سورہ ملانا خلافَ اولٰی ہوگا اور یہ اس کے جائز ومباح ہونے کے منافی نہیں ، اباحت بایں معنٰی کہ کرنے نہ کرنے دونوں میں کوئی گناہ نہیں ۔ (ت)
ف١ : فقہاء اگر یہ حکم کریں کہ فلاں امر کا ترك بہتر ہے تواس سے ہرگز یہ نہیں ثابت ہوتاکہ وہ چیز ناجائز ہے بلکہ مکروہ ہونا بھی لازم نہیں آتا۔ یہ ایك عظیم قاعدہ ہے جو حفظ کرلینے کے قابل اور بہت سےمقامات میں مفید ہے۔ اس قاعدے کے پیش نظر مولانا عبدالحی صاحب نے معانقہ عیدکے متعلق جب صرف اتنا لکھا کہ اس کا نہ کرنا بہتر ہے تو اس سے معانقہ مذکورہ کا ناجائز یا مکروہ ہونا بالکل ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ کر لے تو کوئی حرج نہیں ۔ پھر ممانعتِ معانقہ کے بارے میں فتوٰی مذکور سے استدلال ہی بالکل بیکار اور اپنے خلاف استدلال ہے ۔ (ت)
اسی میں ہے :
صَرَّحَ فی البحر فی صلوۃ العید عند مسئلۃ الاکل بانہ لایلزم من ترك المستحب ثبوت الکراھۃ “ اذلا بُدَّلھا من دلیل خاص “ اھ واشار الٰی ذلك فی التحریر الاصولٰی بان خلاف الاولی مالیس فیہ صیغۃ نھی کترك صلوۃ الضحٰی بخلاف المکروہ تنزیھا [2]۔
بحرالرائق میں جہاں یہ مسئلہ کہ نماز عید سے پہلے کچھ کھا لینا مستحب ہے وہیں ہے کہ اس مستحب کو اگر کسی نے ترك کردیا تو وہ فعلِ مکروہ کا مرتکب نہ ہوگا ، کیونکہ ترك مستحب سے کراہت کا ثبوت لازم نہیں ، اس لئے کہ مکروہ ہونے کے لئے کوئی خاص دلیل ضروری ہے ، اور اس کی طرف تحریر اصولی میں بھی اشارہ کیا ہے کہ “ خلاف اولٰی وہ ہے جس میں ممانعت اور نہی کا صیغہ نہ ہو “ جیسے نماز چاشت کا ترك بخلاف مکروہ تنزیہی کے کہ اس میں نہی وممانعت کا صیغہ ہوتا ہے ۔ (ت)
پھر اگر جناب کے نزدیك بھی حکم وہی ہے جو مولوی صاحب نے اپنے فتوٰی میں لکھا تو تصریح فرمادیجئے کہ عید کا معانقہ شرعًا ممنوع نہیں ، نہ اس میں اصلًا کوئی حرج ہے ، ہاں نہ کرنا بہتر ہے کرلے تو مضائقہ نہیں ،
چہارم : آپ نے جو عبارات ردالمحتار ومرقات نقل فرمائیں ان میں معانقہ عید کی ممانعت کا کہیں ذکر نہیں ان میں تو مصافحہ بعد نماز فجر و عصر یا نماز پنجگانہ کا بیان ہے ، اور جناب کو منصب اجتہاد حاصل نہیں کہ ایك مسئلہ کو دوسرے پر قیاس فرماسکیں ، اگر فر مائے کہ “ جو دلائل اس میں لکھے ہیں یہاں بھی جاری “
اقول : یہ محض ہو س ہے اُن عبارتوں میں تین دلیلیں مذکور ہوئیں :
(١) محلِ مصافحہ ابتدائے ملاقات ہے نہ بعد صلوات۔
(٢) یہ مصافحہ مخصوصہ سنت روافض ہے۔
(۳) صحابہ کرام نے یہ خاص مصافحہ نہ کیا۔
یہ تینوں تعلیلیں اگرچہ فی اَنفُسہا خود ہی علیل اور ناقابل قبول ہیں کما حققناہ بتوفیق اﷲ تعالٰی فی فتاوٰنا ( جیسا کہ ہم نے اﷲ تعالٰی کی مدد سے اپنے فتوٰی میں اس کی تحقیق کی ہے ۔ ت) ولہذا قول اصح یہی ٹھہرا کہ وہ مصافحہ مخصوصہ بھی جائز ومباح ہے کما سنذکر ان شاء اﷲ تعالٰی ( جیسا کہ ہم ان شاء اﷲ تعالٰی آگے ذکر کریں گے ۔ ت) مگر ہمارے مسئلہ دائرہ یعنی معانقہ عید سے دو دلیل پیشیں کو تو اصلًا علاقہ نہیں ۔ محلِ “ مصافحہ “ خاص ابتدائے لقا ہو تو بھی “ معانقہ “ کی اس وقت سے تخصیص ہر گز مسلم نہیں ومن ادعٰی فعلیہ البیان ( جو مدعی ہوبیان اس کے ذمہ ۔ ت)
مولوی صاحب لکھنوی کا بے دلیل وسند لکھنا ممسوع نہیں ہوسکتا ۔ بلکہ معانقہ مثل تقبیل اظہار سرور وبشاشت و وداد و محبت ہے جیسے تقبیل خاص ابتدائے لقا سے مخصوص نہیں ، یوں ہی معانقہ۔
جناب نے فتوٰی فقیر میں حدیث عبداﷲ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا مروی کتاب السنۃ ابن شاہین ومعجم کبیر امام طبرانی ملاحظہ فرمائی ہوگی کہ حضور پر نور سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تالاب پیرنے میں امیر المومنین صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو گلے لگایا___ ونیز حدیث اُسیدبن حضیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مرویِ سُنن ابی داؤد کہ انھوں نے باتیں کرتے کرتے حضور والا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کُرتا اٹھانے کی درخواست کی حضور نے قبول فرمائی ، وہ حضور کے بدن اقدس سے لپٹ گئے اور تہی گاہ مبارکہ پر بوسہ دیا ___ ونیز حدیث صحیح مستدرك کہ اثنائے مجلس میں حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت ذی النورین سے معانقہ فرمایا __ ونیز حضرت بتول زہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کہ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع