30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوم : شاید جناب نے اس مجموعہ کو اِستِیْعَابًا ملاحظہ نہ فرمایا اس میں بہت جگہ وہ مسائل وکلمات ہیں جو آج کل کے فرقہ مانعین کے بالکل مخالف و قالع اصل مذہب ہیں ۔ تَمثیلًا ان میں سے چند کا نشان دوں ۔
جلد اول صفحہ ۵۳۱ پر لکھتے ہیں : “ کتب فقہیہ میں نظائر اس کے بہت موجو دہیں کہ ا زمنہ سابقہ میں اُن کاو جود نہ تھا مگر بسبب اَغراض صالحہ کے حکم اس کے جواز کا دیا گیا “ ۔ [1]
صفحۃ ٢٩٤ پر ہے : “ الوداع یا الفراق کا خطبہ آخر رمضان میں پڑھنا اور کلمات حسرت ورخصت کے ادا کرنا فی نفسہٖ امر مباح ہے بلکہ اگر یہ کلمات باعث ندا مت وتوبۂ سامعان ہوئے تو امید ثواب ہے مگر اس طریقہ کا ثبوت قرونِ ثلثہ میں نہیں [2]
جلددوم صفحہ ١٧٠ میں ہے :
کسے کہ می گوید کہ وجودیہ وشہودیہ از اہل بدعت اند قولش قابل اعتبار نیست ومنشاء قولش جہل وناواقفیت است ازاحوالِ اولیاء واز معنی توحید وجودی وشہودی وشاعرے کہ ذم ہر دوفرقہ ساخت قابل ملامت ست [3]۔
جو کہتاہے کہ وجودیہ اور شہودیہ اہل بدعت سے ہیں اس کاقول قابل اعتبار نہیں ، اور اس کے قول کی بیناد یہ ہے کہ وہ اولیاء کے احوال اور توحید وجودی و شہودی کے معنی سے جاہل وبے خبر ہے اور جس شاعر نے دونوں فرقوں ( وجود یہ وشہودیہ ) کی مذمت کی ہے وہ قابل ملامت ہے ۔ (ت)
صفحہ ۴۲۱ پر ہے : شغل برزخ اس طورپر کہ حضرات صوفیہ صافیہ نے لکھا ہے نہ شرك ہے نہ ضلالت۔ ہاں افراط وتفریط اس میں منجر ضلالت کی طرف ہے۔ تصریح اس کی مکتوبات مجدد الف ثانی
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
آپ کے خلاف ہے ، مگر میں نے کب کہا کہ ا س زمانے کے کسی عالم کی تحریر مجھ پر حجت ہے۔
(۲) یا یہ کہ آپ نے خود تحقیقی طور پر اُسے سب کے لئے معتمد اور مستند جان کر پیش کیا ہے۔ تو آپ کو پہلے دلیل سے ثابت کرناتھا کہ یہ کتاب قابل استدلال اور علماء پر حجت وسند بنا کر پیش کرنے کے لائق ہے۔ اور جب یہ دونوں صورتیں صحیح نہیں تواس مجموعہ فتاوٰی کو یہاں پیش کرنا ہی بے محل ہے ۔ (مترجم)
میں جابجا موجود ہے[4] ف۱ جلد سوم صفحہ۸۵ میں ہے :
سوال : وقتِ ختم قرآن در تراویح سہ بار سورۂ اخلاص می خوانند مستحسن است یا نہ؟
جواب : مستحسن ست [5]۔
سوال : تراویح میں ختم قرآن کے وقت تین بار سورہ اخلاص پڑھتے ہیں یہ مستحسن ہے یا نہیں ؟
جواب : مستحسن ہے۔ (ت)
صفحہ ١٢٧ پر ہے :
سوال : بسم اﷲ نوشتن برپیشانی میت ازانگشت درست ست یا نہ؟ جواب : درست ست [6]۔
سوال : انگلی سے میت کی پیشانی پر بسم اﷲ لکھنا درست ہے یا نہیں ؟ جواب : درست ہے ۔ (ت)
صفحہ ١٥٢ میں ہے :
درمجالس مولد شریف کہ از سورۂ والضحی تا آخر می خوانند البتہ بعد ختم ہر سورۃ تکبیر می گویند راقم شریك مجالس متبرك بودہ ایں امررامشاہدہ کردم ہم درمکہ معظمہ وہم درمدینہ منورہ وہم درجدہ [7]۔
میلاد شریف کی محفلوں میں سورۂ والضحی سے آخر قرآن تك پڑھتے ہیں ہر سورۃ ختم کرنے کے بعد تکبیر کہتے ہیں ، راقم نے ان متبرك محفلوں میں شریك ہوکر اس امر کامشاہدہ کیا ہے مکہ معظمہ میں بھی ، مدینہ منورہ میں بھی اور جدہ میں بھی ۔ (ت)
طرفہ یہ کہ صفحہ ١٢٠ پر لکھتے ہیں :
ف١ : ارواح سے توجہ طلبی ، تصور شیخ ، شغلِ برزخ وغیرہ سے متعلق اعلٰیحضرت قدس سرہ ایك مدلل رسالہ ہے الیاقوت الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ (١٣٠٩ھ) جس میں نصوص علماء اور مستند ینِ مانعین کی عبارتوں سے اس کا جواز ثابت فرمایا ہے۔ قابل مطالعہ ہے ۔ (مترجم)
سوال : پارچہ جھنڈا سالار مسعود غازی درمصرف خود آرد یا تصدق نماید :
جواب : ظاہرًا دراستعمال پارچہ مذکور بصرف خودوجہے موجب بزہ کاری باشد نیست و اولی آنست کہ بمساکین وفقرادہد [8] ۔
[1] مجموعہ فتاوٰی عبد الحی
[2] مجموعہ فتاوٰی عبدالحی کتاب الحظر والاباحۃ مطبوعہ مطبع یوسفی لکھنؤ ٢ / ٢٤ ۔ ٢٥
[3] مجموعہ فتاوٰی عبدالحی کتاب الحظروالاباحۃ مطبوعہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۲ / ۵۸
[4] مجموعہ فتاوٰ ی عبدالحی
[5] مجموعہ فتاوٰ ی عبدالحی باب التراویح مطبوعہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ / ۵۷
[6] مجموعہ فتاوٰ ی عبدالحی باب مایعلق بالموتی مطبوعہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ / ۱۲۳
[7] مجموعہ فتاوٰ ی عبدالحی باب القرأۃ فی الصلوٰۃ مطبوعہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ / ۵۲
[8] مجموعہ فتاوٰی باب مایحل استعمالہ ومالا یحل مطبوعہ مطبع یوسفی لکھنؤ ٣ / ١١٦
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع