30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے جو محل مقرر کیا ہے اسے وہیں رکھے ، تو نمازوں کے بعد مصافحہ کرنے والے کو روکا اور زجر کیا جائے گا اس لئے کہ وہ خلاف سنت فعل کا مرتکب ہے اھ ردالمحتار (حاشیہ ذیل میں مندرج امام نووی کی عبارتِ اذکار پر
عــــہ : کتبہ المعترض حاشیۃ علی مانُقل فی الفتاوی المکنویۃ فی عبارۃ الاذکار للامام النووی رحمہ اﷲ تعالٰی من قولہ “ لابأس بہ فان اصل المصافحۃ سنۃ وکونھم حافظوا علیہا فی بعض الاحوال وفرطوا فی کثیر من الاحوال اواکثرھا لایخرج ذلك البعض عن کونہ من المصافحۃ التی ورد الشرع باصلھا “ اھ ١٢ منہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ (م)
فتاوٰی مولوی عبدالحی لکھنو ی میں امام نووی کی کتاب اذکار سے منقولہ عبارت پر بریلی کے معترض مولوی صاحب نے یہ حاشیہ لکھا ہے امام نووی کی عبارت یہ ہے : “ اس مصافحہ میں کوئی حرج نہیں ، اس لئے کہ اصل مصافحہ سنت ہے ، اور اکثر حالات میں لوگ مصافحہ کے اندر کوتاہی کرنے کے ساتھ صرف بعض حالات میں اگر مصافحہ کی پابندی کرتے ہیں تو اس سے بعض حالات والا مصافحہ (مثلًا مصافحہ بعد نماز) اس مصافحہ جائزہ کے دائرے سے خارج نہ ہوگا جس کی اصلیت شرع سےثابت ہے۔ (ت)
اتیان السنۃ فی بعض الاوقات لایسمی بدعۃ مع ان عمل الناس فی الوقتین المذکورین لیس علی وجہ الاستحباب المشروع ، لان محل المصافحۃ المذکورۃ اوّل الملاقاۃ وقد یکون جماعۃ یتلاقون من غیر مصافحۃ ویتصاحبون بالکلام وبمذاکرۃ العلم وغیرہ مدۃ مدیدۃ ثم اذا صلوا یتصافحون فاین ھذا من السنۃ المشروعۃ وبھذا صرح بعض العلماء بانھا مکروھۃ عہ و ح انھا من البدع المذمومۃ [1] کذافی المرقاۃ۔
اعتراض کرتے ہوئے مولوی صاحب مذکور نے حاشیہ لکھاہے)ظاہر ہے کہ امام نووی کے کلام میں ایك طرح کا تعارض ہے ۔ اس لئے کہ اگر لوگ بعض اوقات “ سنت کے مطابق “ مصافحہ کرتے ہیں تواسے بدعت نہیں کہا جائے گا ۔ لیکن فجر وعصر کے بعد کا عمل استحبابِ مشروع کے طور پر نہیں ہے اس لئے کہ جائز مشروع مصافحہ کا محل بس اول ملاقات ہے ، اور یہاں تو بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کچھ لوگ ملاقات بلامصافحہ کرتے ہیں اور دیر تك گفتگو و علمی بحث وغیرہ میں ایك ساتھ رہتے ہیں پھر جب نماز پڑھ لیتے ہیں تو مصافحہ کرتے ہیں ، یہ سنت مشروعہ کہاں ! اسی لئے تو بعض علماء نے صراحۃً فرمایا ہے کہ یہ مکروہ ہے اور اس کا شمار مذموم بدعتوں میں ہے ، یہی عبارت مرقاۃ میں ہے ۔ (ت)
عیدثانی میں
تحریر جواب وتقریر صواب وازالۂ اوہام وکشفِ حجاب___ یعنی اس تحریر کی نقل جو برسم جواب مولوی معترض کے پاس مرسل ہوئی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
جناب مولانا ! دام مجد کم ، بعد ماھو المسنون ملتمس ، فتوٰی فقیر دربارۂ معانقہ کے جواب میں مجموعہ فتاوٰی مولوی عبدالحی صاحب لکھنوی جناب نے ارسال فرمایا اور اس کی جلد اول صفحہ ۵۲۸طبع اول میں جوفتوٰی معانقہ
عــــہ : ھکذا بخطہ ولیست بھذہ الحاء فی عبارۃ المرقاۃ ولا لہا محل فی العبارۃ کما لا یخفی ۱۲منہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ (م)
صاحب موصوف کی تحریر میں اسی طرح یہ “ ح “ بنی ہوئی ہے مگر یہ عبارۃ مرقاۃ میں نہیں ہے ، عبارت میں اس کا موقع بھی نہیں جیسا کہ ظاہر ہے ۔ (ت)
مندرجہ ہے پیش کیااور اس کے حاشئے پر تائید کچھ عبارت ردالمحتار مرقاۃ بھی تحریر فرمادی ، سائل مُظہر کہ جب جناب سے یہ گزارش ہوئی کہ آیا یہ مجموعہ آپ کے نزدیك مُسْتَنَد ہے تو فرمایا : “ ہمارے نزدیك مستند نہ ہوتا تو ہم پیش کیوں کرتے “ ۔ اور واقعی یہ فرمانا ظاہر وبجا ہے ، فقیر کو اگر چہ ایسے مُعارضَہ کا جواب دینا ضرور نہ تھا مگر حسبِ اصرار سائل ، محض بغرض احقاقِ حق وازہاق باطل چند التماس ہیں ، معاذاﷲ کسی دوسری وجہ پر حمل نہ فرمائیے فقیر ہر محسن مسلمان کو مستحق ادب جانتا ہے خصوصًا جناب تو اہل علم سادات سے ہیں ، مقصود صرف اتنا ہے کہ جناب بھی بمقتضائے بزرگی حسب و نسب وعمر وعلم ان گزارشوں کو بنظر غور تحقیق حق استماع فرمائیں ، اگر حق واضح ہو تو قبول مرجوح ومامول کہ علماء کے لئے رجوع الی الحق عارض نہیں بلکہ معاذاﷲ اصرار علی الباطل____ قال تعالٰی :
فَبَشِّرْ عِبَادِ ﴿ۙ۱۷﴾ الَّذِیۡنَ یَسْتَمِعُوۡنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوۡنَ اَحْسَنَہٗ ؕ [2] ف۱۔
تو خوشی سناؤ اُن بندوں کو جو کان لگا کر بات سُنیں پھراس کے بہتر پر چلیں ۔ (ت)
التماس اوّل : اس مجموعہ فتاوٰی سے استناد الزامًا ہے یا تحقیقًا؟ علی الاول فقیر نے کب کہاتھا کہ کسی مُعاصر کی تحریر مجھ پر حجت ہے ، علی الثانی پہلے دلیل سے ثابت کرنا تھا کہ یہ کتاب خادمان علم پر احتجاجًا پیش کرنے کے قابل ہے ف۲۔
ف۱ : حاصل یہ ہے کہ ہم نے معانقہ عید کا جواز احادیث کریمہ سے ثابت کیا ، مستند فقہی عبارتیں پیش کیں ، اس احادیث اور نصوص سے مدلل فتوے کے جواب میں آپ مولوی عبدالحی صاحب کا فتوٰی مستند بناکر پیش کررہے ہیں ، ایسی مخالف دلیل کا جواب تو کوئی ضروری نہ تھا مگر سائل کے اصرار پر حق کو حق دکھانے اور باطل و ناحق کو مٹانے کی خاطر آپ کی خدمت میں چند التماس ہیں ، ان التماسوں کا مقصد صرف یہ ہے کہ آپ بنگاہ غور دیکھیں اگر حق واضح ہوتو آپ سےاسے قبول کرلینے کی امید ہے اس لئے کہ حق کی طرف رجوع اور اسے قبول کرلینا علماء کے لئے عار نہیں بلکہ معاذاﷲ باطل وناحق بات پر اڑے رہنا شانِ علماء کے خلاف ہے ۔ (ت)
ف۲ : توضیح : آپ نے میرے فتوے کے جواب میں مولوی عبدالحی صاحب کا مجموعہ فتاوی مستند بناکر پیش کیا ہے اس کی دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں :
(۱) یا تو مجھے الزام دینا مقصود ہے کہ دیکھئے آپ کی مستند اور مانی ہوئی کتاب میں (باقی اگلے صفحہ پر)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع