دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

حدیث اول۱ : بخاری و مسلم ونسائی وابن ماجہ بطُرُقِ عدیدہ سیدنا ابو ہریرہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے راوی وھذا لفظ مؤلَّف منھا دخل حدیث بعضھم فی بعض ( آئندہ الفاظ ان متعدد روایات کا مجموعہ ہے ، بعض کی احادیث بعض میں داخل ہیں ۔ ت)

قال خرج النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فجلس بفناء بیت فاطمۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا فقال اُدعی الحسن بن علی فحبستہ شیئافظننت انھا تلبسہ سخابا او تغسلہ فجاء یشتد وفی عنقہ السخاب فقال النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بیدہ ھکذا فقال الحسن بیدہ ھکذا حتی اعتنق کل منھما صاحبہ فقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اللھم اِنیّ اُحبُّہ ،  فَاَحِبَّہ ،  وَاَحِبَّ مَنْ یُّحِبُّہ ،  [1]۔                   

یعنی ایك بارسید عالم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  حضرت بتول زہرا   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کے مکان پر تشریف لے گئے اور سید نا امام حسن   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کو بلایا ، حضرتِ زہرا نے بھیجنے میں کچھ دیر کی ، میں سمجھا انھیں ہار پہناتی ہوں گی یا نہلا ررہی ہوں گی ، اتنے میں دوڑتے ہوئے حاضر آئے ، گلے میں ہار پڑا تھا ، سید عالم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے دست مبارك بڑھائے حضور کو دیکھ کر امام حسن نے بھی ہاتھ پھیلائے ، یہاں تك کہ ایك دوسرے کو لپٹ گئے ، حضور نے “ گلے لگا کر “ دعا کی : الہٰی! میں اسے دوست رکھتا ہوں تو اسے دوست رکھ اور جو اسے دوست رکھے اسے دوست رکھ۔   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  وعلٰی حِبِّہٖ وبارك وسلم۔

حدیث دوم۲ : صحیح بخاری میں امام حسن   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے مروی :

کان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یا خُذ بیدی فیُقعدنی علی فخِذِہٖ ویقعد الحسین علٰی فخِذِہ الاُخرٰی ویَضُمُّناَ ثم یقول رب انی ارحمھما فار حمھما [2] ۔

نبی   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  میرا ہاتھ پکڑ کر ایك ران پر مجھے بٹھا لیتے اور دوسری ران پر امام حسین کو ، اورہمیں “ لپٹا لیتے “ پھر دعا فرماتے : الہٰی! میں ان پر رحم کرتا ہوں تو ان پر رحم فرما۔

حدیث سوم۳ : اسی میں حضرت عبداﷲ بن عباس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا   سے روایت ہے :

ضَمَّنیِ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الٰی صدرہ ۔  فقال اللھم علمہ الحکمۃ [3]۔

سید عالم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے مجھے “ سینے سے لپٹایا “ پھر دُعا فرمائی : الہٰی! اسے حکمت سکھا دے۔

حدیث چہارم۴ : امام احمد اپنی مُسْنَد میں یعلٰی   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے راوی :

ان حسنًا وحُسینا رضی اﷲ تعالٰی عنہما یستبقا الٰی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فضمّھما الیہ [4] ۔

ایك بار دونوں صاحبزادے حضور اقدس   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے پاس آپس میں دوڑ کرتے ہوئے آئے حضور نے دونوں کو “ لپٹالیا “

حدیث پنجم۵ : جامع ترمذی میں انس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے حدیث ہے :

سُئِلَ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ای اھل بیتك احبّ الیك قال الحسن والحسین وکان یقول لفاطمۃ ادعی لی ابنی فیشمھما ویضمھما[5]۔

سید عالم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے پوچھا گیا حضور کو اپنے اہل بیت میں زیادہ پیارا کون ہے؟ فرمایا : حسن اور حسین۔ اور حضور دونوں صاحبزادوں کو حضرت زہرا سےبلوا کر “ سینے سے لگالیتے “ اور ان کی خوشبوُ سُونگھتے ،   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  وعلیہم و بارك وسلم۔

حدیث ششم۶ : امام ابوداؤد اپنی سُنن میں حضرت اُسید بن حُضیر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روای :

بینما ھو یحدث القوم وکان فیہ مزاحٌ بینما یضحکھم فطعنہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی خاصرتہ بعود فقال اصبرنی قال اصطبر قال ان علیك قمیصًا ولیس علیّ قمیص فوضع النبی صلی اﷲ تعالٰی عیہ وسلم عن قمیصہ

اس اثنا میں کہ وہ باتیں کررہے تھے اور ان کے مزاج میں مزاح تھا ، لوگوں کو ہنسارہے تھے کہ سید عالم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے لکڑی ان کے پہلو میں چبھوئی ، انھوں نے عرض کی مجھے بدلہ دیجئے ، فرمایا : لے۔ عرض کی : حضور تو کرتا پہنے ہیں اور میں ننگا تھا۔ حضور اکرم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے کرتا  اُٹھایا

فا حتضنہ و جعل یقبّل کشعہ قال انما اردت ھذا یارسول اﷲ [6]۔

انھوں نے حضور کو اپنی “ کنار میں لیا “ اور تہیگاہِ اقدس کو چُومناشروع کیا پھر عرض کی : یا رسول اﷲ! میرا یہی مقصود تھا۔

ع   دلِ عشّاق حیلہ گر باشد

( عاشقو ں کے دل بہانہ تلاش کرنے والے ہوتے ہیں )

  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  وعلٰی کل من احبہ وبارك وسلم۔

 



[1]   الصحیح للمسلم باب فضل الحسن والحسین مطبوعہ راولپنڈی ٢ /  ٢٨٢

[2]   الصحیح البخاری باب وضع الصبی فی الحجر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢ /  ٨٨٨

[3]    الصیح البخاری مناقب ابن عباس مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ /  ۵۳۱

[4]    مسند احمد بن حنبل مناقب ابن عباس مطبوعہ دارالفکر بیروت ٤ /  ١٧٢

[5]    جامع ترمذی مناقب الحسن والحسین مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۴۰ ۔ ۵۳۹

[6]    سنن ابوداؤد باب قُبلۃ الجسد ( کتاب الادب) مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ /  ٣٩٣

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن