دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

ہدایہ میں ہے :

قالوا الخلاف فی المعانقۃ فی ازار واحدٍ واما اذا کان علیہ قمیص اوجُبۃ فلا باس بھا بالاجماع وھو الصحیح [1]۔

طرفین ( امام اعظم وا مام محمد) اور ابو یوسف میں اختلاف ایك تہمد کے اندر معانقہ کے بارے میں ہے لیکن جب معانقہ کرنے والا کُرتا یا جبہّ پہنے ہو تو بالاجماع اس میں کوئی حرج نہیں اور یہی صحیح ہے۔ (ت)

در مختار میں ہے :

لوکان علیہ قمیص او جبۃ جاز بلاکراھۃ بالاجماع وصححہ فی الھدایہ وعلیہ المتون [2] ۔

اگر اس کے جسم پر کرتا یا جبہ ہو تو بلا کراہت بالاجماع جائز ہے ، ہدایہ میں اسی کو صحیح قراردیا ، متون فقہ میں یہی ہے ۔ (ت)

شرح نقایہ میں ہے :

عِناقُہ اذاکان معہ قمیص او جبۃ

اس کا معانقہ جب اسی طرح ہو کہ کُرتا یا جبّہ

او غیرہ لم یُکرہ بالاجماع وھو الصحیح [3] اھ ملخصا۔

یا کچھ حائل ہو تو بالاجماع مکروہ نہیں ، اور یہی صحیح ہے اھ ملخصًا (ت)

اسی طرح امام نسفی نے کافی پھر علامہ اسمٰعیل نابلسی نے حاشیہ درر مولٰی خسرو وغیرہا میں جزم کیا ، اور یہ وقایہ و نقایہ و اصلاح وغیرہا متون کا مفاد ، اور شروح ہدایہ وحواشی درمختار وغیرہا میں مقرر ان سب میں کلام مُطلق ہے کہیں تخصیص سفر کی بُو نہیں ۔

اَ شِعَّۃُ اللّمعات میں فرماتے ہیں :

اما معانقہ اگر خوف فتنہ نباشد مشروع ست خصوصًا نزد قدوم از سفر [4]۔

معانقہ میں اگر فتنے کا خوف نہ ہو تو جائز و مشروع ہے خصوصًا جب سفر سے آرہا ہو۔ (ت)

یہ “ خصوصًا “ بطلانِ تخصیص پر نصِّ صریح __ رہیں احادیث نہی ، ان میں زید کے لئے حجت نہیں کہ ان سے اگر ثابت ہے تو نہی مطلق۔ پھر اطلاق پر رکھے تو حالتِ سفر بھی گئی ، حالانکہ اس میں زید بھی ہم سے موافق ۔ اور توفیق پر چلئے تو علماء كرام فرماتے ہیں وہاں معانقہ بروجہ شہوت مراد۔ اور او پر ظاہر کہ ایسی صورت میں تو بحالتِ سفربھی مصافحہ بھی ممنوع ، تابمعا نقہ چہ رسد ف١ ۔

ف١ : یہ اُن احادیث سے استدلال کا جواب ہے جن میں معانقہ سے ممانعت آئی ہے۔ تو ضیح جواب یہ ہے کہ احادیث میں ممانعت مذکور ہے۔ اب اگر ان سے مطلقًا ہر حال میں ممانعت مراد لیں تو سفر ، غیر سفر ہر جگہ معانقہ ناجائز ہوگا جب کہ سفر سےآنے کے وقت مانعین بھی معانقہ جائز مانتے ہیں ۔ اس لئے وہ اگر احادیث نہی ہمارے خلاف پیش کریں تو خود ان کے بھی خلاف ہوں گی ___ لامحالہ جوازِ معانقہ اور ممانعتِ جواز دونوں قسم کی حدیثوں میں تطبیق کرنا ہوگی ، اور دونوں کے ایسے معنی لینے ہوں گے جن سے تمام احادیث پر عمل ہوسکے ___ اور تطبیق یوں ہے کہ جہاں معانقہ سے ممانعت ہے وہاں معانقہ بطور شہوت مراد ہے __ اور جہاں جواز معانقہ کا ثبوت ہے وہاں معانقہ بے شہوت وفساد نیت مراد ہے جیسا کہ ہم نے ابتداءً ذکر کیا __ او رظاہر ہے کہ معانقہ بطور شہوت تو سفر سے آنے کے بعد بھی ناجائز ہے بلکہ اس طرح تو معانقہ کیا مصافحہ بھی ناجائزہے۔ احادیث جواز منع کے درمیان تطبیق مختلف فقہاء کرام نے فرمائی ہے اعلٰیحضرت   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے ان کا حوالہ کتاب میں پیش کردیا ہے ۔ (مترجم)

امام فخرالدین زیلعی تبیین الحقائق اور اکمل الدین بابرتی عنایہ اور شمس الدین قہستانی جامع الرموز اور آفندی شیخی زادہ شرح ملتقی الابحر اور شیخ محقق دہلوی شرح مشکوٰۃ او رامام حافظ الدین شرح وافی اور سیدی امین الدین آفندی حاشیہ شرح تنویر اور مولٰی عبدالغنی نابلسی شرح طریقہ محمدیہ میں ، اور ان کے سوا اور علماء ارشاد فرماتے ہیں :

وھذا لفظ الاکمل ،  قال وَفّق الشیخ ابو منصور ( یعنی الماتریدی امام اھل السنۃ وسید الحنفیۃ ) بین الاحادیث فقال المکروہ من المعانقہ ماکان علی وجہ الشھوۃ وعبر عنہ المصنف ( یعنی الامام برھان الدین الفرغانی) بقولہ ازارواحدٍ فانہ سبب یفضی الیھا فاما علٰی وجہ البِر والکرامۃ اذاکان علیہ قمیص او جبۃ فلا باس بہ [5]۔       

( یہ اکمل الدین بابرتی کے الفاظ ہیں ) انھوں نے فرمایا شیخ ابو منصور ( ماتریدی ، اہل سنت کے امام اور حنفیہ کے سردار) نے( معانقہ کے جواز و منع دونوں طرح کی) حدیثوں میں تطبیق دی ہے ، انہوں نے فر مایا مکروہ وہ معانقہ ہے جو بطور شہوت ہو ۔ اور مصنف ( یعنی امام برہان الدین فرغانی صاحب ہدایہ) نے اسی کو ایك تمہید میں معانقہ کرنے سے تعبیرکیا ہے ، اس لئے کہ یہ سبب شہوت ہو سکتا ہے ، لیکن نیکی او راعزاز کے طور پر کُرتا یا جُبہ پہنے ہوئے معانقہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ (ت)

اور کیونکر روا ہوگا کہ بے حالتِ سفرمعانقہ کو مطلقًا ممنوع ٹھہرائے حالانکہ احادیث کثیر میں سید عالم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے بارہا بے صورت مذکورہ بھی معانقہ فرمایاف١ ۔

ف١ : یہاں سے استدلال نے ایك دوسرا رنگ اختیار کیا ، اعلٰیحضرت   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  نے سولہ احادیث ان کے حوالوں کے ساتھ پیش فرمائی ہیں جن میں اُسی معانقہ کا ذکر ہے جو نیکی ، اعزاز اور اظہار کے طور پر ہے___ خرابی نیت اور مواد شہوت سے ہر طرح دور ہے ___ مگر بے حالت سفر ہے ___ لہذا احادیث سے صراحۃً یہ ثبوت فراہم ہوجاتا ہے کہ صرف قدومِ سفر کے بعد ہی نہیں بلکہ دیگر حالات میں بھی معانقہ بلاشبہ جائز درست ہے ۔ اور جب خود سرور عالم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے ان تمام احوال میں معانقہ کا ثبوت حاصل ہوجاتاہے تو کوئی دوسرا اسے “ بدعت و ناروا “ کہنے کا کیا حق رکھتا ہے ! (مترجم)

 



[1]    ہدایہ کتاب الکراہیۃ مطبوعہ مطبع یوسفی لکھنؤ ٤ /  ٤٦٦

[2]    درمختار کتاب الحظر والاباحۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ٢ /  ٢٤٤

[3]    شرح نقایہ ( ملاّ غازی) کتاب الکراہیۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ /  ٢٢٩

[4]    اشعۃ اللمعات باب المصافحۃ والمعانقہ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ٤ /  ٢٠

[5]    العنایۃ مع فتح القدیر شرح ہدایہ کتاب الکراھیۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۸ /  ٤٥٨

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن