دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

اندھیرے میں رہ جائےگا ، علماء کو چاہئے کہ اگر چہ خود نیت صحیحہ رکھتے ہوں عوام کے سامنے ایسے افعال جن سے ان کا خیال پریشان ہو نہ کریں کہ اس سے دوفتنے ہیں جو معتقد نہیں ان کا معترض ہونا غیبت کی بلا میں پڑنا عالم کے فیض سے محروم رہنا ، اور جو معتقد ہیں اُن کا اس کے افعال کو دستاویز بناکر بے علم نیت خود مرتکب ہونا عالم فرقۂ ملامتیہ سے نہیں کہ عوام کو نفرت دلانے میں اُس کا فائدہ ہو مسند ہدایت پر ہے ، عوام کو اپنی طرف رغبت دلانے میں اُن کا نفع  ہے ، حدیث میں ہے :

راس العقل بعدالایمان باﷲ التوددالی الناس[1]۔

ایمان باﷲ کے بعد سب سے بڑی عقلمندی لوگوں کے ساتھ محبت کرنا ہے۔ (ت)

دوسری حدیث صحیح میں ہے رسول اﷲ  فرماتے ہیں : بشرواولاتنفروا [2]____ (محبت پھیلاؤ نفرت نہ پھیلاؤ۔ ت) احیانًا ایسے افعال کی حاجت ہو تو اعلان کے ساتھ  اپنی نیت اور مسئلہ شریعت عوام کو بتادے ۔ واﷲتعالٰی اعلم

مسئلہ ۱۱۵۱ :        الہ آباد مسجد صدر مرسلہ حافظ عبدالمحمید صاحب فتحپوری                  ۱۶جمادی الاولٰی ۱۳۳۱ھ

اگر کوئی مسجد میں بآواز بلند درود و وظائف خواہ تلاوت کررہاہو اس سے علیحدہ ہو کر نماز پڑھنے میں بھی آواز کانوں میں پہنچتی ہے لوگ بھو ل جاتے ہیں خیال بہك جاتا ہے ، ایسے موقع پر ذکر بالجہر تلاوت کرنے والے کو منع کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ یعنی آہستہ پڑھنے کو کہنا بالجہر سے منع کرنا ، اگر نہ مانے تو کہاں تك ممانعت کرناجائز ہے ؟ اس کے متعلق کیا ارشاد فرماتے ہیں علمائے دین؟

الجواب :

بیشك ایسی صورت میں اسے جہر سے منع کرنا فقط جائز نہیں بلکہ واجب ہے کہ نہی عن المنکر ہے اور کہاں تك کا جواب یہ کہ تا حد قدرت جس کا بیان اس ارشاد اقدس ِ حضور سیّد عالم ؐ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  میں ہے :

من رأی منکم منکر افلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ وذلك اضعف الایمان[3]۔

جو تم میں کوئی ناجائز بات دیکھے اس پر لازم ہے کہ اپنے ہاتھ سے اسے مٹادے بند کردے ، اور اس کی طاقت نہ پائے تو زبان سے منع کرے ، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل سے اسے بُراجانے ، اور یہ سب میں کمتردرجہ ایمان کا ہے ۔ (ت)

اور جہاں لوگ اپنے کاموں مشغول ہوں اور قرآن عظیم کے استماع کے لئے کوئی فارغ نہ ہو وہاں جہرًا تلاوت کرنے والے پر اس صورت میں دوہرا وبال ہے ، ایك تو وہی خلل اندازیِ نماز وغیرہ کہ ذکر جہر میں تھا ، دوسرے قرآن عظیم کو بے حرمتی کے لئے پیش کرنا ۔ ردالمحتار میں ہے :

فی الفتح عن الخلاصۃ رجل یکتب الفقہ وبجنبہ رجل یقرأ القراٰن فلا یمکن استماع القراٰن فالاثم علی القاری  ،  وعلی ھذا الوقرأ علی

فتح میں خلاصہ سے ہے ایك آدمی فقہ لکھ رہاہے اور اس کے پاس دوسرا شخص قرآن کی تلاوت کررہاہے جبکہ قرآن کا سننا ممکن نہیں تو اب گناہ تلاوت کرنے والے پر ہے۔ اسی طرح اگر اُونچی

السطح والناس نیام یأثم اھ ای لانہ یکون سببا لاعراضھم عن استماعہ الانہ یوذیھم بایقاظھم[4]

جگہ پڑھتا ہے حالانکہ لوگ سوئے ہوئے تھے تو پڑھنے والا گنہگار ہوگا اس لئے کہ یہ شخص ان کے قرآن سننے سے اعراض کا سبب بنایا اس وجہ سے کہ ان کی نیند میں خلل واقع ہوگا۔ (ت)

اسی میں غینہ سے ہے :

یجب علی القاری احترامہ بان لا یقرأہ فی الاسواق ومواضع الاشتغال فاذا قرأہ فیھا کان ھوالمضیع لحرمتہ فیکون الا ثم علیہ دون اھل الاشتغال دفعًا للحرج[5]۔  واﷲتعالٰی اعلم

تلاوت کرنے والے پر یہ احترام لازم ہے کہ وہ بازار میں اور ایسے مقامات پر نہ پڑھے جہاں لوگ مشغول ہوں ، اگر وہ ایسے مقام پر پڑھتاہے تو وہ قرآن کا احترام ختم کرنے والا ہے لہٰذا دفع حرج کے پیشِ نظر یہ پڑھنے والا گنہگار ہوگا ، مشغول ہونے والے لوگ گنہگار نہ ہونگے۔ (ت) واﷲتعالٰی اعلم

مسئلہ ١١٥٢ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرح متین اس مسئلہ میں کہ ایك یا زیادہ شخص نماز پڑھ رہے ہیں یا بعد جماعت نماز پڑھنے آئے ہیں اور ایك یا کئی لوگ بآوازِ بلند قرآن یا وظیفہ یعنی کوئی قرآن کوئی وظیفہ پڑھ رہے ہیں یہاں تك کہ مسجد بھی گونج رہی ہے تو اس حالت میں کیا حکم ہونا چاہئے کیونکہ بعض دفعہ آدمی کا خیال بدل جاتا ہے اور نماز بھول جاتاہے۔

الجواب :

جہاں کوئی نماز پڑھتا ہو یا سوتا ہو کہ بآواز پڑھنے سے اس کی نماز یا نیند میں خلل آئے گا وہاں قرآن مجید و وظیفہ ایسی آواز سے پڑھنا منع ہے ، مسجد میں جب اکیلا تھا اور بآواز پڑھ رہاتھا جس وقت کوئی شخص نماز کے لئے آئے فورًا آہستہ ہوجائے۔ واﷲتعالٰی اعلم

مسئلہ١١٥٣ :     از ریاست نانپارہ ضلع بہرائچ محلہ توپ خانہ مرسلہ منشی حامد علی خان صاحب   ۲۷ رمضان المبارك ۱۳۳۶ھ

 



[1]     شعب الایمان فصل طلاقۃ الوجہ وحسن البشر الخ حدیث ٨٠٦١ مطبوعہ دارالکتب العربیہ بیروت ٦ /  ٢٥٥

[2]    صحیح البخاری کتاب العلم مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /  ۱۶ ، صحیح مسلم کتاب الجہاد باب تامیرالامراء علی البعوث الخ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ٢ /  ٨٢

[3]   صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان کون النہی عن المنکر من الایمان مطبوعہ نورمحمد اصح امطا بع کراچی ١ /  ٥١

   [4]  ردالمحتار فصل فی القراءۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ /  ٤٠٣

[5]    ردالمحتار فصل فی القراءۃ مطبوعہ مصطفٰی البابی مصر ١ /  ٤٠٣

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن