30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
مسئلہ١٤٥٠ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ معانقہ حالتِ سفر کا بھی جائز ہے یا نہیں ؟ اور یہ کہ جو اُسے قدوم مسافر کے ساتھ خاص اور اس کے غیر میں ناجائز بتاتا ہے ، قول اس کا شرعًا کیسا ہے؟
الجواب :
کپڑوں کے اوپر سے معانقہ بطور برّوکرامت و اظہار محبت۔ بے فساد نیت وموادِّ شہوت ، بالاجماع جائز جس کے جواز پر احادیث کثیرہ وروایات شہیرہ ناطق ، اور تخصیص سفر کا دعوٰی محض بے دلیل ، احادیثِ نبویہ و تصریحاتِ فقہیہ اس بارے میں بروجہ اطلاق وارد ، اور قاعدہ شرعیہ ہے کہ مطلق کو اپنے اطلاق پر رکھنا واجب اور بے مدرك شرعی تقیید وتخصیص مردود باطل ، ورنہ نصوصِ شرعیہ سے امان اُٹھ جائے ، کما لا یخفی ف٢ ( جیسا کہ مخفی نہیں ۔ ت)
ف١ : معانقہ کی تائے مدوّرہ حسب قاعدہ “ ہ “ مانی گئی ہے اس لئے اس کا عدد٤٠٠ نہیں بلکہ٥ ہوگا اور پور ے نام کاعدد١٧٠٧ نہیں بلکہ١٣١٢ ہوگا۔ (مترجم)
ف٢ : ان ہی سطور میں اعلیحضرت نے پورے فتوے کا ماحصل اور تمام اعتراضات کا جواب ذکر کردیا ، ان جامع سطور کی قدرے تشریح درج ذیل ہے (باقی برصفحہ آئندہ)
ا بن ف١ ابی الدنیا کتاب الاخوان اوردیلمی مسند الفردوس اور ابوجعفر عقیلی حضرت تمیم داری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے راوی واللفظ للعقیلی :
انہ قال سألت رسول اﷲ صلی تعالٰی علیہ وسلم عن المعانقۃ فقال تحیۃ الامم و
میں نے رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے معانقہ کو پوچھا ، فرمایا : تحیّت ہے امتوں کی ، اور ان
جوازِ معانقہ کی مندرجہ ذیل شرطیں ہیں :
(١) معانقہ کپڑوں کے اوپر سے ہو ۔
(٢) نیکی ، اعزاز اور اظہار محبت کے طور پر ہو۔
(٣) خرابی نیت اور شہوت کا کوئی دخل نہ ہو۔
مذکورہ بالاشرطوں کے ساتھ معانقہ سفر ، غیر سفر ہر حال میں جائز ہے۔
دلیل : اس کا ماخذوہ روایات واحادیث ہیں جن میں قیدِ سفر کے بغیر معانقہ کا ثبوت ہے ، جو لوگ صرف آمدِ سفر کے بعد معانقہ جائز بتاتے ہیں ان کا جواب یہ ہے :
تمام احادیث وروایات میں مطلق طور پر جوازِ معانقہ کا ثبوت ہے ، یہ کسی حدیث میں نہیں کہ بس سفر سے آنے کے بعد معانقہ جائزہے ، باقی حالات میں ناجائز __ بلکہ بعض احادیث سے صراحۃً آمدِ سفر کے علاوہ حالات میں بھی معانقہ کا ثبوت فراہم ہوتا ہے۔
(٤) شریعت کا قاعدہ ہے کہ جو حکم ، مطلق او رکسی قید کے بغیر ہو ، اسے مطلق ہی رکھنا واجب وضروی ہے ،
(٥) معانقہ کے بارے میں جب یہ حکم مطلق او رقید سفر کے بغیر ہے ، تو اسے مطلق رکھتے ہوئے سفر ، غیر سفر ہر حال میں
معانقہ جائز ہوگا۔
(٦) ہاں اگر کسی حکم میں خود شریعت کی جانب سے تخصیص اور تقیید کا ثبوت ہو تو اس حکم کو مخصوص او رمقید ضرور مانا جائے گا__ مگر معانقہ کے بارے میں سوا اُن شرائط کے جو ابتدا میں ذکر کی گئیں آمد وسفر وغیرہ کی کوئی قید نہیں ۔
لہذا جواز معانقہ کے بارے میں بے دلیل شرعی آمدِ سفر کی قید لگانا محض باطل اور نا مقبول ہے۔ ( مترجم)
ف١ : یہاں سے دلیل کی تفصیل فرمائی ، سب سے پہلے ایك حدیث ذکر کی جس سے معانقہ کی تاریخ آغاز معلوم ہوتی ہے ، پھر فقہ حنفی کے مستند مآخذ سے وہ نصوص تحریر فرمائے جن کا حاصل ابتداءً رقم فرماچکے۔ ( مترجم)
صالح وُدِّھم وانّ اول من عانَقَ خلیل اﷲ ابراھیم [1]۔
کی اچھی دوستی ، او بیشك پہلے معانقہ کرنے والے ابراہیم خلیل اﷲ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام۔
خانیہ میں ہے :
ان کانت المعانقۃ من فوقِ قمیصٍ او جُبّۃٍ جاز عند الکل اھ[2] ملخصا۔
اگر معانقہ کُرتے یا جُبّے کے اوپر سے ہو تو سب کے نزدیك جائز ہے اھ ملخصًا (ت)
مجمع الانہر میں ہے :
اذا کان علیھما قمیص اوجبۃ جاز بالاجماع [3] اھ ملخصا۔
گر معانقہ کرنے والے دونوں مردوں پر کُرتا یا جُبّہ ہو تو یہ معانقہ بالاجماع جائز ہے اھ ملخصا (ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع