30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قال فی البحر ظاھرہ انہ یجوز الوطئ والبول والتخلی فیہ ولا یخفی مافیہ فان البانی لم یعدہ لذلك فینبغی ان لایجوز وان حکمنا بکونہ غیر مسجد وانما تظھر فائدتہ فی حق بقیۃ الاحکام و حل دخولہ للجنب والحائض [1] انتھی
بحر میں ظاہر عبارت بتا رہی ہے کہ وطی اور بول وبراز جائز ہے لیکن یہ واضح رہنا چاہئے کہ بانی نے اس کے لئے نہیں بنائی لہذایہ جائز نہیں ہونا چاہیے اگر چہ ہم اسے مسجد کا حکم نہیں دیتے اس کا فائدہ بقیہ احکام میں ظاہر ہوتا ہے اور اس میں جنبی اور حائضہ کے دخول کا جواز بھی انتہی (ت)
اسی میں ہے :
صحح تاج الشریعۃ ان مصلی العید لہ حکم المساجد [2]۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
تاج الشریعۃ نے عید گاہ کے لئے مسجدکے حکم کی تصحیح کی ہے ۔ (ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ١٤٤٨ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز عید کو امام نے اس طور ادا کیا کہ پہلی رکعت میں بعد ثناء کے اول قرأت سے چار تکبیریں کہیں ، دوسری رکعت میں قبل از قرأت کے چار تکبیریں کہیں اور قرأت کر کے نماز تمام کی پہلی رکعت میں بعد ثناء کے تین تکبیریں کہیں بعد کو قرأت اور دوسری رکعت میں اول میں تین تکبیریں کہیں اور قرأت ادا کرکے نماز تمام کی ، تو اس صورت سے نماز عید ہوگئی یا نہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب :
پہلی صورت میں دو باتیں خلافِ اولٰی کیں چار چار تکبیریں کہنی اور دوسری رکعت قبل قرأت تکبیر ہونی ، اور دوسری صورت میں یہی بات خلاف اولٰی ہوئی ، مگر دونوں صورتوں میں نہ نماز میں نقصان آیا نہ کسی امر ناجائز وگناہ کا ارتکاب ہوا ، ہاں بہتر نہ کیا ، درمختار میں ہے :
ھی ثلات تکبیرات فی کل رکعۃ ولو زاد تابعہ الی ستۃ عشر لانہ ماثور [3]۔
یہ ہر رکعات میں تین تکبیرات ہیں اگر امام اضافہ کردے تو سولہ تك اس کی اتباع کی جائے کیونکہ یہاں تك منقول ہیں ، (ت)
ردالمحتار میں ہے :
ذکر فی البحران الخلاف فی الاولویۃ ونحوہ فی الحلیۃ [4] ۔
بحر میں ہے کہ اختلاف اولٰی ہونے میں ہے ، اور اسی طرح حلیہ میں ہے (ت)
درمختار میں ہے : یوالی ندبابین القرأتین [5]
( دونوں رکعتوں کی قرأت کو تکبیراتِ زائدہ کے فصل کے بغیر ادا کرنا مستحب ہے ۔ ت)
ردالمحتار میں ہے :
اشار الی انہ لوکبر فی اول رکعتہ جاز لان الخلاف فی الاولویۃ [6]۔
اس میں اشارہ ہے کہ اگر چہ رکعت کی ابتداء میں تکبیر کہہ لی تو جائز ہے کیونکہ اختلاف اولٰی ہونے میں ہے ۔ (ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ١٤٤٩ : از اورنگ آباد ضلع گیا مرسلہ محمد اسمٰعیل مدرس مدرسہ اسلامیہ ١٥ صفر ١٣٣٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید عید الاضحی میں بعد اختتام نماز منبر پر گیا اور خطبہ شروع کیا ، اثنائے خطبہ اولٰی میں مستمعین سے ہی آپ لوگ ذرا زور سے سبحان اﷲ پڑھیں ۔ سب چپ رہے ، پھر دوبارہ سہ بارہ کہہ کر لوگوں کو مجبورکیا کہ کیوں نہیں پڑھتے ، تم لوگوں کا منہ کیوں بند ہوگیا ، تب لوگوں نے بآواز بلند سبحان اﷲ پڑھنا شروع کیا پھر لبیّك واﷲ اکبر کہلوایا پھر لا الٰہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ پڑھوایا پھر نعتیہ خطبہ پڑھ کر منبر پر بیٹھا اور اٹھ کر خطبہ شروع کیا ، ابھی خطبہ ثانیہ تمام ہونے نہ پایا تھا کہ لوگو ں کو کھڑے ہوکر یا نبی سلام علیك یا رسول سلام علیك پڑھنے کو کہا ، چناچہ لوگوں نے اٹھ کر زور زور سے یا نبی سلام علیك مع اشعار اردو کتب میلاد مروجہ ترنم سے پڑھا اورزید نے پھر کچھ اردو میں دعا مانگی اور خطبہ ثانیہ کو اسی طرح نا تمام چھوڑدیا آیا یہ فعل موافق سنتِ متوارثہ ہو ا یا خلاف سنت سراسر عبث اور ایسا کرنے والے پر عند الشرع کیا حکم لگا یا جائے گا؟ بینوا توجروا
الجواب :
حالت خطبہ میں کلام اگرچہ ذکر ہو مطلقًا حرام ہے اذا خرج الامام فلا صلوۃ ولاکلام [7]( جب امام آجائے تو صلوٰۃ وکلام نہیں ، ت) امام نے جو کچھ کیا سب بدعت شنیعہ سیئہ ہے ، اُن جاہلوں کا وبال بھی اس پر بغیر اس کے کہ ان کے وبال میں کمی ہو ، رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :
[1] ردالمحتار باب مایفسد الصلوٰۃ وما یکرہ فیہا مصطفی البابی مصر ١ / ٤٨٦
[2] ردالمحتار باب مایفسد الصلوٰۃ وما یکرہ فیہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٤٨٦
[3] درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٥
[4] ردالمحتار باب العیدین مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٦١٥
[5] درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٥
[6] ردالمحتار باب العیدین مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٦١٦
[7] نصب الرایۃ کتاب الصلوٰۃ باب صلوٰۃ الجمعۃ مطبوعہ المکتبہ الاسلامیہ الریاض ٢ / ٢٠١ ، فتح الباری کتاب الجمعۃ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ٢ / ٣٣٨
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع