دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

ابن قطان نے صحیح قراردیا ، طبرا نی کی اوسط میں حضرت ابن عباس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا   سے ہے کہ سنت یہ ہے کہ یوم الفطر کو کھانے کے بغیر نہ نکلا جائے اور یوم النحر کو نماز سے واپسی پر کھا یا جائے۔ (ت)

بہر حال یہ امر استحبابی ہے یعنی کرے ثواب ، نہ کرے تو حرج نہیں ، ایسے امر کے ترك کو حکم عدولی نہیں کہہ سکتے اور نماز میں نقص کا تو کوئی احتمال ہی نہیں ، درمختار میں ہے :

یندب تاخیر اکلہ عنھا وان لم یضح ولو اکل لم یکرہ [1] اھ باختصار

یوم النحر میں کھانا مؤخر کرنا مندوب ہے اگر چہ قر بانی نہ دینی ہو اور اگر کھایا تو اس میں کراہت نہیں اھ اختصارًا (ت)

ردالمحتار میں ہے :

ای یندب الامساك عما یفطر الصائم من صبحہ الٰی ان یصلی قال فی البحر وھم مستحب ولا یلزم من ترك المستحب ثبوت الکراھۃ اذ لا بدلھا من دلیل خاص اھ وفی البدائع ان شاء ذاق وان شاء لم یزق والادب ان لایذوق شیأ الٰی وقت الفراغ من الصلٰوۃ حتی یکون تناولہ من القرابین[2] اھ اھ مختصرا واﷲ تعالٰی اعلم             

یعنی نماز کی ادائیگی تك ہر اس شی سے رکنا مندوب ہے جس سے صائم کا روزہ افطار ہوتا ہے ، بحر میں فرمایا : یہ مستحب ہے اور ترك مستحب سے کراہت لاز م نہیں آتی کیونکہ ا س کے لئے مستقل دلیل ضروری ہے اھ بدائع میں ہے اگر چاہے تو چکھ لے اور نہ چاہے نہ چکھے ، اور ادب یہی ہے کہ نماز سے فارغ ہونے سے پہلے کوئی شے نہ کھائے یہاں تك کہ اس کا تناول قربانی کے جانور سے ہو ۔ اھ مختصرًا واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ١٤٤٤ : زید بغیر کچھ اپنی رائے ظاہر کرے علمائے حاضرہ کی تحقیق وثبوت شہادت صحیح جان کر سہ شنبہ کو دس ذی الحجہ یقینی جان کر عید الاضحی کی امامت کراتا ہے لیکن شب سہ شنبہ کو ایك بڑے متدیّن مستند عالم تشریف لائے اور انھوں نے ثبوت رؤیت صحیح نہ جان کر سہ شنبہ کو عید نہیں کی ، لوگوں سے کوشش کرائی گئی کہ کسی صورت سے مجھ کو ثبوت رؤیت معلوم ہو جائے تو میں بھی عید کروں مگر کسی سے پتا نہیں چلا جن کے پاس ثبوت گزرا وہ اس قدر فرماکر گئے کہ مجھے سچّا جانتے ہیں تو عیدکریں ورنہ جواب کچھ نہیں ، ا س وجہ سے ایك عالم صاحب نے عیدنہیں کی ان کے موافق موجود علماء میں سے ایك عالم اور ہوگئے زید امامت وخطبہ سے فارغ ہو کر یوں کہتا ہے کہ دینی بھایؤ! آج عید ہے ، اور نماز بھی پڑھئے مگر قربانی جو دس گیارہ بارہ کو جائز ہے بجائے سہ شنبہ کے چہار شنبہ کو کرو احتیاطًا تو بہتر ہو ، اس آخری فقرہ پر سوال ہوتا ہے لوگوں کی جانب سے کہ کیا مطلب احتیاط کا ، تو زید جواب دیتا ہے کہ اگر آج قربانی کرو تو جن علماء نے عید نہیں وہ فرمائیں گے کہ قربانی نہیں ہوئی اور اگر چہار شنبہ کو کرو گے تو سب بالاتفاق فرمائیں گے کہ صحیح ہے اور اختلاف سے بچنا اولٰی ، زید کا اس فقرہ کے تلفظ سے مجرم شرعی ہے یا نہیں ، اور جو لوگ مشورہ کرکے اور لوگوں کو فراہم کر کے اپنے زعم میں زید کو ذلیل کر نا چاہتے ہیں کوشش بلیغ کرتے ہیں کہ جرم ثابت ہو ، یہ لوگ اچھا کام کرتے ہیں یا نا محمود؟

الجواب :

زید اس فقرہ کے سبب مجرم شرعی نہیں کہ احتیاط کرنے اور اختلاف معتبر شرعی سے بچنے کا حکم شرع مطہر میں ہے اتنی بات پر جو اسے ذلیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اچھا کام نہیں کرتے بلکہ گناہ کے ساعی ہیں رسول اﷲ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  فرماتے ہیں :

کل المسلم علی المسلم حرام مالہ وعرضہ ودمہ حسب امرئ من الشرع ان یحقر اخاہ المسلم [3]۔  رواہ ابوداؤد و ابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔

مسلمان کا سب کچھ دوسرے مسلمان پر حرام ہے اُ سکا مال ، اُس کا آبرو ، اس کا خون ، آدمی کے بد ہونے کو یہ بہت ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے۔ اسے ابوداؤد اور ابن ماجہ نے حضرت ابو ھریرہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت کیا ہے۔

البتہ وہ نماز کہ پڑھی اس میں بہت شقوق ہیں جن میں سے ملخص یہ کہ اگر وہ جن کو علمائے حاضرہ کہا رسمی علماء ہیں نہ کہ فقیہ ماہر جن کے فتوے پر اعتماد جائز ہو ، ان کی تحقیق پر وثوق جائز نہ تھا اور اگر اس وقت تك ان کی بات زید کے حق میں لائق وثوق تھی اور جب دوسرے عالم جن کو بڑے متدین مستند عالم کہا ہے انھوں نے وہ ثبوت صحیح نہ جانا تو زید کو اگلوں کے بیان پر وثوق نہ رہا ، اور سہ شنبہ کو دسویں ہونا بے ثبوت ہوگیا ، پھر نماز پڑھی تو نماز ہی نہ ہوئی کہ نماز کے لئے جس طرح وقت شرط ہے یونہی اعتقاد مصلی میں وقت آجانا شرط ہے مثلًا اگر صبح کی نماز پڑھی اور اسے طلوعِ صبح میں شبہ تھا ، نماز نہ ہوئی اگر چہ واقع میں صبح ہوگئی ہو۔ ردالمحتار میں ہے :

وکذا یشترط اعتقاد دخول فلو شك لم تصح صلوتہ وان ظھر انہ قد دخل [4] ۔

اسی طرح اس کے دخول کا اعتقاد بھی شرط ہے لہذا اگر شك ہوا تو نماز صحیح نہ ہوگی اگر چہ ظاہر یہی ہو کہ وقت شروع ہوچکا ہے ۔ (ت)

اور اگر وہ قابل وثوق تھے اور اسے وثوق ہی رہا تو قربانی میں احتیاط کی کیا حاجت تھی ، اور تھی تو کیا نماز میں احتیاط درکار نہ تھی ، عید الاضحی کی نماز بھی بارھویں تك ہوسکتی ہے اگر چہ بلاعذر تاخیر مکروہ ہے ، تنویرا لابصار میں ہے :

یجوز تاخیرھا الٰی ثالث ایام النحر بلا عذر مع الکراھۃ وبہ بدونھا [5]۔  واﷲ تعالٰی اعلم

 



[1]    درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ /  ۱۱۶

[2]    ردالمحتار باب العیدین مصطفی البابی مصر ١ /  ٦١٨

[3]    سنن ابن ماجہ باب حرمۃ المومن ومالہ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ٢٩٠

[4]    ردالمحتار با ب شروط الصلوٰۃ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ ١ /  ٢٩٦

[5]    درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ /  ١١٦

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن