30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دینی خلاف متوارث مسلمین ہے اور ایسا فعل ہمیشہ مکروہ ہوتا ہے ، درمختار باب العیدین میں ہے : لان المسلمین توارثوہ فوجب اتباعھم [1]( کیونکہ یہ مسلمانوں کے ہاں متوارث ہے لہذا ان کی اتباع لازم ہے ۔ ت) ردالمحتار کتاب الذبائح میں غایۃ البیان سے ہے : توارثہ الناس فیکرہ ترکہ بلا عذر[2] ( لوگوں کے ہاں متوارث ہے لہذا اس کا ترك بلاعذر مکروہ ہوگا ۔ ت)اور یہیں سے ظاہر کہ تعدد مساجد پنجگانہ پر اس کا قیاس نہیں ہوسکتا کہ وہ خود متوارث ومطلوب فی الشرع ہے ، سنن ابوداؤد و ترمذی وابن ماجہ میں ام المومنین صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے ہے :
امر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ببناء مساجد فی الدور وان تنظف و تطیب [3]۔
رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہر علاقے میں مسجد کی تعمیر اور ان کی نظافت وطہارت کا حکم دیا ۔ (ت)
جب یہ تعمیر مصلحت دینی سے خالی ہوئی اور اس میں کوئی مصلحت دنیوی نہ ہونا بدیہی ، تومحض عبث ہوئی اور ایسا ہر عبث ناجائز و ممنوع ہے ، ہدایہ میں ہے :
العبث خارج الصلٰوۃ حرام فما ظنك فی الصلٰوۃ[4]۔
عبث کام نماز سے باہر حرام تو نماز میں کیا حال ہوگا ۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
الفرق بین العبث والسفہ علی ماذکرہ بدر الدین الکردی ان السفہ مالا غرض فیہ اصلا والعبث فعل فیہ غرض لکن ، لیس بشرعی وعبارۃ غیرہ العبث مالیس فیہ غرض صحیح لفاعلہ[5]۔
عبث اور سفہ میں فرق بقول علامہ بدرالدین الکردی کے یہ ہے کہ سفہ وہ عمل جس میں کوئی غرض نہ ہو اور عبث وہ فعل جس میں غرض ہو لیکن شرعی نہ ہو ، دیگر لوگوں کے الفاظ میں عبث وہ فعل ہے جس کے فاعل کی غرض صحیح نہ ہو ۔ (ت)
یہ عمارت بے حاجت کی تعمیر ہوئی اور ہر عمارت بے حاجت اپنے بنانے والے پر روز قیامت وبال ہے ۔
کما وردت بہ احادیث عند البیھقی عن انس والطبرانی عن واثلۃ وفیہ عن غیرھما رضی اﷲ تعالٰی عنہم ۔
جیسا کہ اس پر بیہقی نے حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ، طبرانی نے حضرت واثلہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اور اس سلسلہ میں ان کے علاوہ صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے مرویات ہیں ۔ (ت)
جنگل میں بے حاجت شرعی ایك عمارت بنا کر کھڑی کردینا اسراف ہوا ا ور اسراف حرام ہے قال اﷲ : وَ لَا تُسْرِفُوْاؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ(۱۴۱) [6] ( اﷲ تعالٰی کا فرمان ہے : اور اسراف نہ کرو کہ اﷲ تعالٰی اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ ت) صورت مستفسرہ میں یہ سب شناعتیں خود اس فعل بے معنی میں موجود تھیں اگر چہ اس کی تعمیر براہٖ نفسانیت نہ ہو اور جبکہ یہ بناء براہٖ نفسانیت ہے جیسا کہ بیان سوال سے ظاہر ، تواس کا مذموم و مردود ہونا خود واضح و روشن ہے کما لا یخفی ، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
مسئلہ١٤٤٣ : از موضع مہچندی ضلع پیلی بھیت مرسلہ حاجی نصیر الدین صاحب ١٤محرم الحرام ١٣١٨ھ کیا فرماتے ہیں علمائے
دین اس مسئلہ میں کہ فرمایا رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کہ عید قرباں میں مستحب ہے کہ جب تك نماز نہ پڑھی جائے کھانا نہ کھائے یعنی جو کہ نگاہ رکھے اپنے آپ کو کھانے اور پینے سے اور جماع کرنے سے دن قربانی کے یہاں تك کہ پڑھی جائے نماز عید کی ، اب مرد مان اہل اسلام دن قربان کے دس ذی الحجہ کو اپنے مکان سے کھانا کھا کر اور حقہ پانی پی کر واسطے نماز عید کے عیدگاہ کو جاتے ہیں ، یہ حکم نہیں مانتے اور رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حکم عدولی کرتے ہیں توان کے واسطے شرع شریف سے کیا ہے ، پس اس امر میں اس سے کیا کہا جائے گا اور نماز ان کی صحیح طور پر ہوگی و یا کوئی نقصان ان کی نماز میں عائد ہوگا۔ بینوا توجروا
الجواب :
اس باب میں رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کوئی حدیث قولی جس طرح سائل نے ذکر کی وارد نہیں ، ہاں حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فعل ثابت ہوا ہے کہ عید قرباں میں نماز سے پہلے کچھ نہ کھاتے بعد نماز گوشتِ قربانی سے تناول فرماتے ۔
الترمذی وابن ماجۃ عن بریدۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان لا یخرج یوم الفطر حتی یأکل وکان لا یأکل یوما النحر حتی یصلی [7] ورواہ الدار قطنی فی سننہ حتی یرجع فیأکل من اضحیتہ [8] صححہ ابن قطان ۔ وفی اوسط الطبرانی عن ابن عباس رضی اﷲ
ترمذی اورابن ماجہ نے حضرت بریدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا کہ رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عیدالفطر کو کوئی چیز کھائے بغیر تشریف نہ لاتے اور یوم النحر کو نماز ادا کرکے تناول فرماتے ، اسے دارقطنی نے سنن میں ذکر کیا اور اس سلسلہ میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ یہاں تك کہ نماز سے واپس لوٹتے اور اپنی قربانی سے تناول فرماتے ، اسے
تعالٰی عنہما من السنۃ ان لایخرج یوم الفطر حتی یطعم ولایأکل یوم النحر حتی یرجع [9] ۔
[1] درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٧
[2] ردالمحتار کتاب الذبائح مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٢٠٨
[3] سنن ابن ماجہ اتخاذ المساجد فی الدو ر مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ٦٦
[4] الھدایۃ باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ المکتبہ العربیۃ کراچی ١ / ١١٩
[5] حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
[6] القرآن ، ٦ / ١٤١ و ٧ / ٣١
[7] جامع الترمذی باب فی صلوٰۃ العیدین مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ١ / ٧١
[8] سنن الدارقطنی كتاب العیدین حدیث ٧ مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان ٢ / ٤٥
[9] مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی والاوسط باب الاکل یوم الفطر الخ مطبوعہ دارالکتاب بیروت ٢ / ١٩٩
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع