دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

الیھا ای الجبانۃ لصلٰوۃ العید سنۃ وان وسعھم المسجد الجامع ھوا لصحیح [1] اما واجب نیست اگربہ مسجد شہرنمازگزارند قطعادرست وبے خلل باشد اگر چہ ترك سنت کردہ باشند فی ردالمحتار الواجب مطلق التوجہ لاالتوجہ الی خصوص الجبانۃ [2] وتکرار نماز عید درمصر واحد بمواضع کثیرہ بالاتفاق جائز ست فی الدرالمختار تؤدی بمصر واحد بمواضع کثیرۃ اتفاقا [3] واقتداء بفاسق معلن مکروہ تحریمی قریب بحرام ست وھو الذی یقتضیہ الدلیل ولایعدل عن درایۃ ما وافقتہا روایۃ ،  علامہ ابراھیم حلبی درغنیہ فرمودہ یکرہ تقدیم الفاسق کراھۃ تحریم وکذا المبتدع [4] پس تاوقتیکہ نماز پس مصالحے صحیح القراء ۃ سلیم العقیدہ زنہار اقتدا بانکنند اما اگر ظلما نماز دیگر مساجد بند کردہ شود وجز باقتدائے اور اہے نیابند مجبورباشند ومعذو ر و وبال ایں ظلم و جبر برگردن آں فاسق مغرور لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ-[5]  نماز عید از اعظم شعائر اسلام ست بایں علت عارضہ ترکش نتواں گفت فی                               

جماعت عید کے لئے جبانہ ( نماز کی وہ جگہ جو جنگل میں بنائی جائے )کی طرف نکلنا سنت ہے اگر چہ جامع مسجد میں لوگوں کی گنجائش ہو ، اور یہی صحیح ہے لیکن نکلنا واجب نہیں ، اگر چہ شہر کی مسجد میں نماز پڑھ لی تو یقینا درست ہے اس میں کوئی کمی نہیں اگر چہ سنت کا ترك ہوا ہے ، ردالمحتار میں ہے کہ واجب مطلق نکلنا ہے نہ کہ مخصوص عیدگاہ کی طرف نکلنا ،

اور ایك شہر میں تکرارِ نماز عید بالا تفاق جائز ہے ، درمختار میں ہے کہ ایك شہر میں بالاتفاق متعدد مقامات پر عید ادا کی جاسکتی ہے ، فاسق معلن کی اقتداء مکروہ تحریمی حرام کے قریب ہے ، اور دلیل کا تقاضا بھی یہی ہے اور اس درایت سے عدول مناسب نہیں جو روایت کے موافق ہو ، علامہ ابراہیم حلبی غنیہ میں فرماتے ہیں فاسق کی تقدیم مکروہ تحریمی ہے اور اسی طرح بدعتی کی ، جب تك کسی صالح صحیح القرأۃ سلیم العقیدہ کی اقتداء میسر ہو ہر گز کسی فاسق کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے اگر ظلمًا دیگر مساجد نماز کے لئے بند کردی گئی ہیں اور اس کی اقتداء کے علاوہ اورکوئی راستہ نہیں تو اب مجبوری اور معذوری ہے ، اس کا

ردالمحتار عن المعراج قال اصحابنا لا ینبغی ان یقتدی بالفاسق الا فی الجمعۃ لانہ فی غیرھا یجد اماما غیرہ اھ  قال فی الفتح وعلیہ فیکرہ فی الجمعۃ اذا تعددت اقامتھا فی المصر علی قول محمد المفتی بہ لانہ بسبیل الی التحول [6] وایناکہ برنکاح وامامت جمعہ واعیاد ازجانب نصاری وغیرہم حکام زمانہ مقرر باشند از عہدہ قضا جز اسم بے مسمی ولفظ بے معنی بہرہ ندارند پس حکم قضائے ایشاں چہ گفتہ آید حکم برموجود باشد و قضائے ایشاں خود معدوم ست کہ حقیقت درکنار صورت قضاہم ندار دآرے اگر مراد آنست کہ فساق رابایں کار ہا معین کر دن جواب آنست کہ ہر گز نشاید حال امامت خود حالے شدو غرض از تولیت انکحہ توثیق و اشہاد ست وآں خود از فاسق حاصل نباشد۔ واﷲ تعالٰی اعلم

وبال بھی اس فاسق پر ہی ہوگا اور اﷲ تعالٰی کسی نفس کو اس کی طاقت سے بڑھ کر حکم نہیں دیتا ، نماز عید اسلام کے عظیم شعائر میں سے ہے ، اس عارضہ کی وجہ سے اسے ترك نہ کیا جائے ، ردالمحتار میں معراج کے حوالے سے ہے کہ ہمارے اصحاب نے فرمایا جمعہ کے علاوہ فاسق کی اقتداء نہ کی جائے کیونکہ دوسری نمازوں میں کسی دوسرے کی اقتداء ہوسکتی ہے اھ فتح میں ہے کہ اس بنا پر جمعہ میں بھی اقتداء مکروہ ہے کیونکہ امام محمد کے مفتٰی بہ قول کے مطابق شہر میں متعدد جگہ جمعہ ہوسکتا ہے تو دوسرے مقام کی طرف چلے جانا ممکن ہوا اور یہ جو نصارٰی کی طرف سے نکاح ، امامتِ جمعہ واعیاد کے لئے عہدہ قضاء پر مقرر لوگ ہیں ، یہ اسم بے مسمی اور لفظ بے معنی ہیں ، ان کی قضا کیا حقیقت رکھتی ہے حکم موجود پر ہوگا اور ان کی قضا خود معدوم ہے جو درحققیت قضا ہی نہیں ، اگر سوال یہ ہے کہ ایسے فاسق لوگوں کو اس عہدہ پر مقرر کرنا کیسا ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ ہرگز جائز نہیں ، اور امامت کا معاملہ خود اہم ہے ، والی بنانے سے مقصد ان کی توثیق واشہاد ہے جو فاسق سے حاصل نہیں ہوتی۔ واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ ١٤٤٢ :      از دمن خرد ملك پرتگال محلہ کھارا موڑ مرسلہ مولوی محمد ضیاء الدین صاحب١٠ محرم الحرام ١٣١٨ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عید گاہ ایك چھوٹی سی بستی میں ١٢٢٦ھ سے بنی ہوئی ہے ، بعض مسلمان اہل شہر کو اپنے محلہ سے ربع میل کے قریب مسافت طے کر کے جانا پڑتا ہے اور بعض اہل محلہ ربع میل سے بھی کم چل کر داخل عیدگاہ ہوجاتے ہیں ، سال مذکور سے جملہ اہل شہر اُسی عیدگاہ میں برابر نماز عید ادا کرتے رہے ، حال میں ان اشخاص نے جن سے بہت نزدیك عیدگاہ تھی بباعث نفسانیت دنیوی کے عیدگاہ میں نماز عید پڑھنا ترك کردیا حالانکہ ان کو کسی نے عیدگاہ سے ممانعت بھی نہیں کی ، آخر صرف اسی نفسانیت کی بنا پر یا کسی مفسد کے بہکانے سے یہ بات اپنی طبیعت سے گھڑلی کہ ہم بانیانِ عیدگاہ کی طرف والے عیدگاہ میں داخل ہونے سے منع کرتے ہیں بایں وجہ ہم نے عیدگاہ میں دوگانہ ادا کرنا ترك کردیا ، دو تین سال سے میدان میں جو عیدگاہ کے قریب ہے نماز عید پڑھتے تھے امسال ان کا ارادہ اسی میدان میں دوسری عیدگاہ کی تعمیر کا ہے ، تو آیا ان چند اشخاص کو صورتِ مذکورہ بالا میں اپنی جدید گاہ کا ایسے مختصر شہر میں تعمیر کرنا ازرُوئے شرع شریف درست ہے یا نا درست؟ اگر درست ہے تو اب دو ٢ عیدگاہوں کے ہوجانے سے قلت جماعت عیدگاہ سابق موجب کمی ثواب ہے یانہیں ؟ اور باعث قلت ثواب کے ایسی حالت میں بانیانِ عیدگاہ جدید ٹھہریں گے یا نہیں ؟ اگر یہ لوگ ٹھہرے تو عیدگاہ سابق کو محض نفسانیتِ دنیوی کے سبب ترك کردینے والوں کی نیت اور ثواب کثیرکو قلیل کرنے والوں کی بابت ہماری شریعتِ مطہرہ کیا حکم کرتی ہے؟ بینوا توجروا

الجواب :

نماز عید ایك شہر میں متعدد جگہ اگر چہ بالاتفاق روا ہے مگر ایك شہر کے لئے دو عیدگاہ بیرون شہر مقرر کرنا زمان برکت نشان حضور سید عالم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے اب تك معہود نہیں نہ زنہار اس میں شرع مطہر ودین منور کی کوئی مصلحت خصوصًا ایسی چھوٹی بستی میں تو اگر اس میں اس کے سوا کوئی حرج نہ ہوتا تو اسی قدر اس فعل کی کراہت کو بس تھا کہ محض بے ضرورت شرعی ومصلحتِ



[1]    درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ /  ١١٤

[2]    ردالمحتار باب العیدین مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ /  ٦١٢

[3]    درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ /  ١١٦

[4]    غنیہ المستملی شرح منیہ المصلی فصل الامامۃ سہیل اکیڈمی لاہور ١ /  ٥١٣

[5]    القرآن ٢ /  ٢٨٦

[6]    ردالمحتار باب الامامۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ /  ٤١٤

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن