دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

کیونکہ رسول اﷲ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی ظاہری حیات اور خلفاء راشدین   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  کے دور میں عیدگاہ افتادہ زمین تھی ، نہ وقف تھی اورنہ تعمیر شدہ تھی ۔ (ت)

(٢) صحراؤں جنگلوں کی افتادہ زمینیں بادشاہ کی ملك نہیں ہوتیں وُہ اصل ملك خدا ور رسول پر ہیں جل جلالہ و  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، حدیث میں ہے :

عادی الارض ﷲ ورسولہ [1]رواہ البیھقی فی الشعب عن طاؤس عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وعن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما وقفا۔

 افتادہ زمینیں اﷲ اور اس کے رسول   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی ہیں ، اسے بیہقی نے شعب الایمان میں طاؤس سے اور انھوں نے نبی اکرم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے روایت کیا ، اور حضرت ابن عباس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  سے یہ موقوفًا روایت ہے (ت)

حاکمِ وقت نے جب اجازت دے دی اور استر داد کا خوف نہ رہا اور مسلمانوں نے وقف کردی وقف صحیح لازم ہوگئی احکامِ مصلی اس پر جاری ہوں گے۔ (٣) نماز بلاکراہت صحیح ہے ،

لما مر ان الارض ﷲ ورسولہ جل وعلاوصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۔

جیسا کہ گزرا کہ زمین اﷲ جل وعلا اور اس کے رسول   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی ہے ۔ (ت)

(٤) محاط ہونا مفہوم مصلی میں داخل نہیں ،

لما قد منا ان الصلٰوۃ فی زمنہ و زمن الخلفاء کانت فی ارض بیضاء بدون بناء وما

پیچھے ہم نے بیان کیا کہ نماز عید سرورِ دوعالم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی ظاہری حیات اور خلفاء کے دور

فی القھستانی فلہ علی العادۃ الحادثۃ بناء قصد بہ التعریف لااشتراط بنا ء ۔  واﷲ تعالٰی اعلم

میں چٹیل میدان میں بغیر کسی عمارت کے ہوتی تھی ، اور قہستانی میں جو کچھ ہے وہ عادت معروفہ پر مبنی ہے یہ نہیں کہ بناء کو بطور شرط بیان کیاگیا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم ۔ (ت)

مسئلہ١٤٣٢ :      قاضی عبدالحمید صاحب از قصبہ کیکڑی ضلع اجمیر شریف                    ٢٨ محرم ١٣٣٢ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین وفضلائے شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجدِ عیدگاہ میں جبکہ مسلمانوں میں رنج ہو اور مذہب غیر ہو تواس صورت میں نماز عید کی دونوں گروہ اپنے اپنے امام کے ساتھ علیحدہ علیحدہ نماز و خطبہ ایك مسجد میں ادا کرسکتے ہیں یا نہیں ؟ جواب دو پروردگار اجر دے گا۔

الجواب :

نمازِ عید مثل نماز جمعہ ہے نمازِ پنجگانہ کی طرح نہیں جن میں ہر شخص صالح امامت کرسکتا ہے ، عیدین اور جمعہ کے لئے شرط ہے کہ امام خود سلطانِ اسلام ہو یا اُس کا نائب یا اس کا ماذون ، اور نہ ہو تو بضرورت جسے عام مسلمانوں نے امامتِ جمعہ وعیدین کے لئے مقرر کیا ہو ، ظاہر ہے کہ ایك مسجد میں ایك نماز کے لئے دو ٢ شخص امام مقرر نہیں ہوتے تو جوان میں مقرر نہیں ہے اسکی اور اس کے پیچھے والوں کی نماز نہ ہوگی اور یہاں اختلاف مذہب حنفیت وشافعیت عذر نہیں ہوسکتا ، ہاں اگر ایسا اختلاف مذہب ہے کہ ان میں ایك گروہ سُنیّ اور دوسرا وہابی یا غیر مقلد ، تو اس صورت میں اُس امام اور اُس کے مقتدیوں کی نما ز باطل محض ہے ، اور سنیوں پر لازم ہے کہ اپنا امام اپنے میں سے مقرر کریں ا نھیں کی نماز نماز ہوگی وبس واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ١٤٣٣ :      از شہر محلہ بازار صندل خاں مرسلہ ہدایت اﷲ صاحب                       ١١ ذی الحجہ ١٣٣٦ھ

زید عید کی نماز سے پہلے درزی کا کام کرتا رہا ، بکر نے کہا کہ زید نے نماز سے پہلے جتنی مزدوری کی وہ حرام ہے اس لئے کہ اس نے جتنا کام قبل از نمازکیا وہ ناجائز تھا ، آیا یہ صحیح ہے یا نہیں ؟

الجواب :

بکر محض غلط کہتا ہے جبکہ زید نے ادائے نماز میں قصور نہ کیا تو نہ قبل نماز کام کرنا حرام تھا نہ بعد نماز نہ اُس اُجرت میں کوئی حرج ہے ، ہاں اگر کام کے سبب نمازنہ پڑھتا تو وہ کام حرام ہوتا اُجرت پھر بھی حرام نہ تھی ، یہ تو حلت وحرمت کا حکم ہے البتہ مستحب ہے کہ ضرورت نہ ہو تو عید کے دن نماز سے پہلے متعلقات عید کے سوا کوئی دنیوی کام نہ کرے کہ خوشی کا دن ہے نہ کہ محنت کا ، اُس دن کا اور دنوں سے امتیاز چاہئے ، اسی واسطے ہر گروہ میں اپنی اپنی عیدوں کے دن تعطیل کا معمول ہے پھر بھی یہ کوئی واجب نہیں ، اور ضرورت ہو جب تو کوئی گنجائشِ کلام ہی نہیں ، واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ١٤٣٤ : نماز عید میں امام نے تکبیر تحریمہ کے بعد سورہ فاتحہ شروع الحمد اﷲ رب العٰلمین کہنے کے بعد مقتدی کے یاد دلانے پر تکبیر ثلٰثہ کہیں اور بعد تکبیرات دوبارہ قرات شروع کی ، اس شکل میں نماز ہوئی یا نہیں ؟

الجواب :

پہلی صورت میں نماز نہ ہوئی دوسری میں ہوگئی ، ایسا شخص احق بالا مۃ نہیں ہو سکتا۔ واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ١٤٣٥ :      از پیلی بھیت محلہ شیر مرسلہ حاجی حامد حسین صاحب و عزیز الدین صاحب ٣ شوال ١٣٣٧ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ، زید نے ایك مسجد میں جو شہر میں واقع ہے مقتدی بن کر نماز عید الفطر پڑھی ، بعد اس کے زید عیدگاہ کو گیا اور وہاں بکر امام تھا ، اُس سے نماز پڑھاتے وقت اخیر رکعت میں تکبیریں چھوٹ گئی تھیں جس سے نماز فاسد ہوگئی ، تب زید نے دوبارہ امام بن کر نماز عید الفطر پڑھائی حالانکہ وہ نماز مقتدی کی حالت میں پڑھ کر گیا تھا ، ایسی حالت میں زید کو نماز پڑھانا چاہئے تھا یا نہیں ؟ آیا زید کی نماز جو اس نے پیشتر مقتدی ہو کر پڑھی تھی صحیح ہے یاامام کی حالت میں ہے ؟ اور دیگر مقتدیان کی نماز جنھوں نے زید کے پیچھے کہ جس نے دوبارہ حالتِ امام میں نماز پڑھائی اُن کی نماز درست ہوئی یا نہیں ؟

 



[1]    الجامع الرموز مع فیض القدیر بحوالہ بیہقی حدیث ۵۳۶۳ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ٤ /  ٢٩٨

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن