دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

مسئلہ ١١٤٩ :       یکم ذیقعدہ ١٣٣٧ھ

ایك شخص کچہری میں ملازم ہے فرصت کے وقت دن ورات میں مسجد میں قیام کرکے سوتا ہے اور کھانا وغیرہ کھاتاہے بہت عرصہ سے ، اب منع کرنے پر جواب دیا کہ میں نیت ِ اعتکاف کرلیتا ہوں کوئی حرج میرے قیام اور کھانے سونے میں نہیں ہے۔

الجواب :

اگر واقعی وہ ہربار نیت اعتکاف کرتا اور کچھ دیر ذکر الہٰی کرکے کھاتا سوتا ہے تو حرج نہیں ۔ واﷲتعالٰی اعلم

مسئلہ ١١٥٠ :       از بریلی                ٤ ربیع الاول ١٣٢٨ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی عالم اور کوئی شخص مسجد میں سوئے اور مسند تکیہ مسجد میں اندر مسجد کے لگائے اور کھانا مسجد میں ایك جماعت کے ساتھ کھائے اور اگالدان مسجد میں رکھے اور گھوڑے کی زین اور اوراسباب وغیرہ مسجد میں رکھے یہ سب شرع سے درست ہے نہیں ؟ بینواتوجروا

الجواب :

مسجد میں سونا۔ کھانا بحالتِ اعتکاف جائز ہے ، اگر جماعت معتکف ہو تو مل کر کھا سکتے ہیں ، بہر حال یہ لازم ہے کہ کوئی چیز ، شوربایا ِشیر وغیرہ کی چھینٹ مسجد مین نہ گرے ، اور سوائے حالتِ اعتکاف مسجد میں سونا یا کھانا دونوں مکروہ ہیں خاص کر ایك جماعت کے ساتھ کہ مکروہ فعل کا اور لوگوں کو بھی اس میں مرتکب بناتاہے۔ عالمگیری میں ہے :

یکرہ النوم والاکل فیہ الغیر المعتکف[1] ۔

مسجد میں سونا اور کھانا غیر معتکف کے لئے مکروہ ہے (ت)

مسند لگانا اگر براہ تکبّر ہے تو یہ خارج مسجد بھی حرام ہے۔

قال اﷲتعالٰی اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِیْنَ(۶۰) [2]

اﷲتعالٰی کا فرمان ہے : کیا نہیں ہے جہنم میں ٹھکانہ متکبرین کا۔ (ت)

اور اگر براہِ تکبر نہیں کسی دوسرے نے اس کے لئے رکھ دی یہ اس کی خاطر سے بدیں لحاظ کہ امیرالمومنین مولی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ الکریم فرما ئے ہیں :

لایابی الکرامۃ الاحمار[3]۔

عزت واحترام کا انکارکوئی گدھا ہی کرسکتاہے (ت)

ٹیك لگا کر بیٹھ گیا تو بھی یہ مسجد میں نہ ہونا چاہئے کہ ادب مسجد کے خلاف ہے ، ہاں ضعف یا درد کے سبب مجبور ہو تو معذور ہے ، اگالدان اگر پیك کے لئے رکھا ہے تو غیر معتکف کو مسجد میں پان کھانا خود مکروہ ہے ، اور اگر کھانسی ہے بلغم باربار آتا ہے اس ٖغرض کے لئے رکھا تو حرج نہیں ۔ اور گھوڑے کا زین وغیرہ اسباب بھی بلاضرورت شرعیہ مسجد میں رکھنا نہ چاہئے ، مسجدکو گھر کے مشابہ بھی کرنا نہ چاہئے ۔ رسول اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : ان المساجد لم تبن لھذا [4] (مساجد ان چیزوں کی خاطر نہیں بنائی جاتی ۔ ت) خصوصًا اگر چیزیں رکھے جن سے نماز کی جگہ رکے تو سخت ناجائز و گناہ ہے۔

قال اﷲتعالٰی

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ۔  [5]

اﷲ تعالی کا ارشاد گرامی ہے : اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالکم ہوسکتاہے جو اﷲ کے گھروں میں اﷲ کا نام لینے سے روکے (ت)

با ایں ہمہ یہ بھی یاد رکھنا فرض ہے کہ حقیقۃً عالمِ دین ہا دیِ خلق سُنّی صحیح العقیدہ ہو عوام کو اُس پر اعتراض اُس کے افعال میں نکتہ چینی اس کی عیب بینی حرام حرام حرام اور باعث سخت محرومی اور بدنصیبی ہے ، اول تو لاکھوں مسائل و احکام فرق نیت سے متبدل ہوجاتے ہیں رسول اﷲ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  فرماتے ہیں :

انماالاعمال بالنیات وانما لکل امریٔ مانوی[6]۔

اعمال کا مدار نیتوّں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ (ت)

علم نیّت ایك عظیم واسع علم ہے جسے علمائے ماہرین ہی جانتے ہیں ، عوام بیچارے فرق پر مطلع نہ ہو کر ان کے افعال کو اپنی حرکات پر قیاس کرتے اورحکم لگادیتے اور “ کارِ پاکاں راقیاس از خود مگیر “ کے ، مورد بنتے ہیں ، اسی مسئلہ میں دیکھئے شرعًا اعتکاف کے لئے نہ روزہ شرط ہے نہ کسی قدر مدت کی خصوصیت ۔ ولہذا مستحب ہے کہ آدمی جب مسجد میں جائے اعتکاف کی نیت کرلے۔ جب تك مسجد میں رہے گااعتکاف کا ثواب بھی پائے گا۔ علما اعتکاف ہی کی نیّت سے مسجد میں داخل ہوتے ہیں اور اب اُن کو سونا ، کھانا ، پیك کےلئے اگالدان رکھنا روا ہوگا ، اور اس سے قطع نظر بھی ہو تو جاہل کو سُنی عالم پر اعتراض نہیں پہنچتا ، رسول اﷲؐ کی حدیث میں عالمِ بے علم کی مثال شمع سے دی ہے کہ آپ جلے اور تمھیں روشنی و نفع پہنچائے ، احمق وہ جو اس کے جلنے کے باعث اسے بجھادینا چاہے اس سے یہ خودہی



[1]    فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب الخامس فی آداب المسجد مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ٥ /  ٣٢١

[2]    القرآن ، ٣٩ /  ۶۰

[3]    کنز العمال بحوالہ الدیلمی عن ابن عمر رضی اﷲ عنہ حدیث ۲۵۴۹۲ مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت ٩ /  ١٥٥

[4]    صحیح مسلم کتاب المساجد باب النہی عن نشد الضالۃ فی المسجد مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ١ /  ٢١٠

[5]    القرآن ٢ /  ١١٤

   [6] صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ /  ٢

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن