دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

مستخلص میں زیر قول کنز ، لم تقض ان فاتت مع الامام ( قضا نہ کی جائے اگر امام کے ساتھ رہ گئی ہو ۔ ت) لکھتے ہیں :

معناہ لو لم یصل رجل مع الامام لم یقضھا منفردا [1]۔

معنٰی اس کا یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے امام کے ساتھ نمازِ عید نہیں پڑھی تو وہ اب تنہا قضا نہ کرے (ت)

یا تویہ معنی ہیں کہ امام معین ماذون من السلطان ادا کرچکا اور ان باقیما ندہ میں کوئی مامور نہیں ، اقامت کون کرے ، فاضل محقق حسن شرنبلالی   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کا کلام مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں اس طرف ناظر

اذ قال من فاتتہ الصلٰوۃ فلم ید رکھا مع الامام لا یقضیھا لانھا لم تعرف قربۃ الابشرائط لاتتم بدون الامام ای السلطان اومامورہ [2]۔

 کیونکہ انھوں نے کہا ہے کہ جو نماز امام کے ساتھ نہ پڑھ سکا وہ اب قضا نہ کرے کیونکہ یہ نماز شرائط کے ساتھ مشروع ہے اور وہ اما م یعنی سلطان یا اس کے نائب کے بغیر پوری نہیں ہوسکتیں (ت)

اس لئے فاضل سید احمد مصری اس کے حاشیہ میں فرماتے ہیں :

ای وقد صلاھا الامام اومامورہ فان کان مامور ا باقامتھا لہ ان یقیمھا  [3] اھ  اقول :  وقد یشیر الیہ تعریف الامام فی عبارۃ النقایۃ المذکورۃ وغیرھا کما لا یخفی علی العارف باسالیب الکلام۔

یعنی امام یا اس کے نائب نے نماز پڑھادی پس اگر وہ امامتِ عید کے لئے مامور تھا تو وہ اسے پڑھا سکتا ہے (ت)اقول : اس کی طرف عبارت نقایہ وغیرہ میں ہیں جو امام نے تعریف کی ہے وہ بھی اشارہ کرتی ہے جیسا کہ کلام کے اسالیب کے ماہر پر مخفی نہیں ۔ (ت)

بہر طور عبارت جامع الرموز سے بدیں وجہ کہ نماز ایك بار ہوچکی باقیماندہ لوگوں کے لئے ممانعت تصور کرنا محض خطا اقول بلکہ اگر نظر سلیم ہو تو وہی عبارت بعینہا مانحن فیہ میں جواز پر دال ، کہ اس میں صرف دوسرے ہی دن کی نسبت ممانعت نہیں بلکہ جب امام جماعت کر چکے تو اس روز بھی نہ پانے والے كو منع کرتے ہیں حیث قال لافی الیوم الاول ولا من الغد ( نہ پہلے اور دوسرے دن ۔ ت) اور اول بیان ہوچکا کہ تعدد جماعت عیدین میں بالاتفاق جائز اور معلوم ہے کہ یہ تعدد تاخر سے خالی نہیں ہوتا اگر عبارت مفرح ، نقایہ کے یہ معنی ہوتے کہ جب ایك جماعت پڑھ لے تو دوسروں کو مطلقًا اجازت نہیں تو یہ تعدد کیونکر روا ہوتا اور نماز عیدکا بھی حکم اس امر میں اُس کے مذہب پر جو تعددِ جمعہ روا نہیں رکھتا ، مانند نماز جمعہ ہوجاتا یعنی جماعت سابقہ کی تو نماز ہوگئی باقی سب کی ناجائز کما فی الدرالمختار علی المرجوح فی الجمعۃ لمن سبق تحریمتہ ( جیسا کہ درمختار میں مرجوح قول کے مطابق ہے کہ جمعہ ان لوگوں کا ہے جن کی تحریمہ پہلے ہو ۔ ت) تو بالیقین معنی کلام وہی ہیں جو ہم نے بیان کئے اور قاطع شغب یہ ہے کہ درمختار میں درصورت فوات مع الامام تصریح کی :

لو امکنہ الذھاب الی الامام الاخر فعل لانھا تؤدی بمصر واحد بمواضع کثیرۃ اتفاقا [4]۔

اگر دوسرے امام کی طرف جانا ممکن ہو تو چلا جائے کیونکہ ایك شہر میں بالاتفاق متعدد جگہوں پر نماز عید ادا کی جاسکتی ہے (ت)

حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے :

لوقدر بعد الفوات مع الامام علی ادراکھا مع غیر فعل للاتفاق علی جواز تعددھا [5] اھ

اگر ایك امام کے ساتھ فوت ہونے کے بعد دوسرے امام کے ساتھ نماز ادا کی جاسکتی ہے تو نمازی وہاں چلاجائے کیونکہ متعدد مقامات پر عید کے جواز پر اتفاق ہے اھ (ت)

دیکھو نص فرماتے ہیں کہ امام کے پیچھے نہ پڑھے تو دوسرے اما م کے پیچھے پڑھے اور حالِ عذر میں روز اول و دوم یکساں ، آج پڑھے تو کل کون مانع ، مگر یہ ضرور ہے کہ جوامام عیدین وجمعہ کے لئے مقرر ہو اسے بھی فوت ہوئی ہو کہ امامت کے لئے امام معین مل سکے اور اگر مقرر کردہ امام سب پڑھ چکے اور بعض لوگ رہ گئے تو یہ بیشك نہیں پڑھ سکتے نہ آج نہ کل واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب والیہ المرجع والماٰب۔

مسئلہ١٤٢٨ تا١٤٣١ : از پیلی بھیت مدرسۃ الحدیث جناب مولانا وصی احمد صاحب محدّث سورتی   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  ٨ ذی الحجہ ١٣٢٧ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں :

(١) اگر حاکم وقت نے عام طور پر اجازت دے دی کہ تم لوگ فلاں زمیں پر اپنی عیدگاہ بنالو یا بلااجازت عیدگاہ بنانے کے ، فقط دوگانہ اداکرنے کی اجازت دی تو ان دونوں صورتوں میں نماز کا ثواب اسی قدر ملے گا جس قدر مسلمان کی وقف کردہ عیدگاہ میں ملتا ہے یا اس سے کم؟

(٢) اور صورتِ اولٰی میں اگر مسلمانوں نے عیدگاہ بنالی تو وہ وقف سمجھی جائے گی اور احکام عیدگاہ اس کے لئے ثابت ہوں گے یا وہ زمین ملك حاکم پر باقی ہے اور وقف کے احکام جاری نہ ہوں گے؟

(٣) اگر بے اجازت گورنمنٹ گورنمنٹ كی زمین پر نمازِ عید پڑھی گئی تو نماز بلاکراہت ہوگئی یا نہیں ؟

(٤) مصلی اعنی عیدگاہ کے مفہوم میں اس کا محاط ہونا داخل ہے جیسے کہ جامع الرموز کی عبارت سے واضح ہے یا نہیں بلکہ جس جگہ نماز ہو محاط ہو یا نہ ہو وہ عیدگاہ ہے ۔ بینوا توجروا

الجواب :

( ١) ہاں اتنا ہی ثواب ہے ، زمین وقف کردہ میں پڑھنا نہ عیدین کے سنن سے ہے نہ مستحبات سے ، سنت اس قدر ہے کہ صحرا میں ہو ،

وقد کان المصلی فی زمنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و زمن الخلفاء الراشدین رضی اﷲ تعالٰی عنھم من عادی الارض بغیر وقف ولابناء ۔

 



[1]    مستخلص الحقائق باب فی احکام صلوٰۃ العیدین کانشی رام پر نٹنگ پریس ، لاہور ١ /  ٢٩٩

[2]    مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب احکام العیدین مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص٢٩٢

[3]    حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب احکام العیدین مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ٢٩٢

[4]    درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ /  ١١٦

[5]    مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب احکام العیدین مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص٢٩٢

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن