30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیونکہ نہ مسجد اور نہ صحت صلوٰۃ کے لئے شرائط وقف کا پایا جانا ضروری ہوتا ہے خواہ وہ نماز عید ہویا جمعہ یاا س کے علاوہ کوئی نماز ہو جیسا کہ کتبِ میں فقہاء نے تصریح کی ہے ۔ (ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(٢) بعد نماز عید مصافحہ ومعانقہ دونوں درست ہیں جبکہ کسی منکر شرعی پر مشتمل یا اس کی طر ف منجر نہ ہوں جیسے خوبصورت امرد ، اجنبی محلِ فتنہ سے معانقہ بلکہ مصافحہ بھی کہ بحالت خوف فتنہ اس کی طرف نظر بھی مکروہ ہے نہ كہ مصافحہ نہ کہ مضانقہ ،
کما فی الدرالمختار وغیرہ من معتمدات الاسفار وتفصیل المسائل موکول الی رسالتنا وشاح الجید فی تحلیل معانقہ العید۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جیسا کہ درمختار جیسی معتبر کتب میں ہے اوراس کی تفصیل ہمارے رسالہ “ وشاح الجید فی معانقۃ العید “ میں خوب ہے ۔ (ت)
مسئلہ ١٤٢٧ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں اگر ہلال شوال دن چڑھے تحقیق ہو اور بارش شدید ہو بعض اہل شہر نماز عید پڑھیں بعض بسبب بارش نہ پڑھیں توجماعت باقیما ندہ دوسرے دن اداکریں یا اب انھیں اجازت نہ دی جائے گی کہ نماز ہوچکی ، اور قہستانی میں ہے :
اذا صلی الامام صلٰوتہ مع بعض القوم لایقضی من فاتت تلك الصلٰوۃ عنہ لافی الیوم الاول ولامن الغد [1]انتھی بینوا توجروا۔
جب امام نے کچھ لوگوں کو نماز پڑھادی تو جن کی نماز فوت ہوگئی وہ اسے قضا نہیں کرسکتے ، نہ پہلے دن اور نہ دوسرے دن ۔ انتہی ( ت) بینوا توجروا
الجواب :
اللھم ھدایۃ الحق والصواب ( اے اﷲ !حق اور صواب کی توفیق عطا فرما ۔ ت) صورۃ مستفسرہ میں جماعت باقیماندہ بیشك دوسرے دن ادا کرے عید الفطر میں بوجہ عذر ایك دن کی تاخیر جائز ہے اور بارش عذر شرعًا مسموع ،
فی الدرالمختار و توخربعذر کمطرالی الزوال من الغد فقط [2] انتہی
درمختار میں ہے عذر کی وجہ سے نماز فطر فقط دوسرے دن تك مؤخر کی جائے گی جیسے بارش۔ انتہی (ت)
اور صلوٰۃ عید میں جواز تعدد متفق علیہ ہے بخلاف جمعہ کہ اس میں خلاف ہے اور راجح جواز ،
فی الدرلمختار تؤدی بمصر واحد بمواضع کثیرۃ اتفاقا [3] اھ
درمختار میں ہے کہ ایك شہر میں بالاتفاق متعدد مقامات پرنماز عید ادا کی جاسکتی ہے اھ (ت)
تو ادائے بعض اہل شہر سے بعض دیگر کو دوسرے روز پڑھنا کیونکر ممنوع ہوسکتا ہے ، کلام قہستانی وغیرہ اس صورت میں ہے جب عامہ اہل بلد پڑھ لیں اور ایك آدمی باقی رہ جائے کہ نماز عید بے جماعت مشروع نہیں ناچار پڑھنے سے باز رہے گا ، ہدایہ کی تعلیل اس پر صاف دلیل ،
قال من فاتتہ صلٰوۃ العید مع الامام لم یقضہا لان الصلٰوۃ بھذہ الصفۃ لم تعرف قربۃ الا بشرائط لا تتم بالمنفرد [4] اھ
فرمایا جس کی نمازِ عید امام کے ساتھ فوت ہوگئی وہ اسے قضا نہیں کرسکتا کیونکہ اس طرح کی نماز شرائط کے ساتھ مشروع ہے اور وہ شرائط تنہا ہونے کی صورت میں پوری نہیں ہوتیں اھ (ت)
اور عبارت تنویر الابصار مورث تنویر الابصار امام ابو عبداﷲ محمد بن عبداﷲ غزی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ابتداء اس مسئلہ کو ایسے پیرا میں ادا فرمایا وہم واہم ، راہ نہ پائے ،
حیث یقول ولایصلیھا وحدہ ان فاتت مع الامام [5]اھ
یہاں انھوں نے کہا تنہا نماز نہ پڑھے جب امام کے ساتھ فوت ہوگئی اھ (ت)
یونہی امام حافظ الدین ابوالبرکات نسفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا اپنے متن و شرح وافی و کافی میں ارشاد ازالہ اوہام ایقاظِ افہام کے لئے کافی ووافی ،
لم یقض ان فاتت مع الامام ای صلی الامام العید وفاتت من شخص فانھا لاتقضی لانھا ماعرفت قربۃ الابفعلہ علیہ الصلٰوۃ و السلام وما فعلھا الابالجماعۃ فلا تؤدی الابتلك الصفۃ [6]اھ ملخصا
نہ قضا کی جائے اگر امام کے ساتھ رہ گئی ہو یعنی امام نے نماز عید پڑھادی اور ایك شخص کی فوت ہوگئی تو وہ اسے قضا نہ کرے کیونکہ یہ نماز حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے معمول کے مطابق ہی مشروع ہے اور آپ نے اسے جماعت ہی سے ادا فرمایا لہذا اب اس صفت کے علاوہ اسے ادا نہیں کیا جاسکتا اھ ملخصًا (ت)
علامہ بدرالدین محمود عینی رمز الحقائق میں فرماتے ہیں :
صلاھا الامام مع الجماعۃ ولم یصلھا ھو لایقضیھا الا فی الوقت ولابعدہ لانھا شرعت بشرائط لاتتم بالمنفرد [7] اھ
امام نے جماعت کروادی لیکن اس شخص نے نہیں پڑھی تو اب وہ قضا نہ کرے نہ وقت کے اندر نہ بعد میں کیونکہ یہ کچھ شرائط کے ساتھ مشروع تھی اور وہ اکیلا ہونے کی صورت میں پوری نہیں ہوتیں اھ (ت)
[1] جامع الرموز فصل فی صلوٰۃ العیدین مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ١ / ٢٧٤
[2] درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٦
[3] درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٦
[4] الہدایۃ باب العیدین المکتبہ العربیۃ کراچی ١ / ١٥٤
[5] درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٦
[6] کافی شرح وافی
[7] رمزا لحقائق باب فی احکام صلوٰۃ العیدین مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ١ / ٥٨
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع