دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

فان فاتت فی الیوم الثانی بعذر اوبغیر عذر لایصلی بعد ذلك واماعید الاضحی ان فاتت فی الیوم الاول بعذر او بغیر عذر یصلی فی الیوم الثانی فان فاتت فی الیوم الثانی بعذر او بغیر عذر یصلی فی الیوم الثالث فان فاتت فی الیوم الثالث بعذر او بغیر عذر لایصلی بعد ذلك[1]وفی الھندیۃ عن تبیین الامام الزیلعی ،  العذر ھھنا لنفی الکراھۃ حتی لواخروھا الی ثلاثہ ایام من غیر عذرجازت الصلٰوۃ وقد اساؤ اوفی الفطر للجواز حتی لو اخروھا الی الغد من غیر عذر لا یجوز[2]انتھی ومثلہ فی رمزالحقائق للعلامۃ العینی۔                 

ادا کی جائے اور اگر عذر نہ تھا تو دوسرے دن نہیں پڑھی جاسکتی ، اور اگر دوسرے دن بھی نہ پڑھی جاسکی خواہ عذر تھا یا نہیں ، تو اس کے بعد نہیں پڑھی جاسکتی ، باقی نماز عید الاضحی اگر عذر یا بغیر عذر پہلے دن رہ گئی تو دوسرے دن پڑھ لی جائے ، اگر دوسرے دن فوت ہوگئی عذرتہا یا نہ تھا تو تیسرے دن پرھ لی جائے ، اور اگر تیسرے دن بھی رہ گئی خواہ عذر تھا یا نہ تھا تو اس کے بعد ادا نہیں کی جاسکتی ، ہندیہ میں امام زیلعی کی تبیین سے ہے کہ یہاں عذر نفی کراہت کے لئے ہے ، حتی کہ اگر بغیر عذر کے تین دن نماز موخر کردی تو اب بھی نماز جائز البتہ تاخیر کرکے بُرا کیا اور فطر میں عذر جواز کے لئے ہے حتی کہ اگر بغیر عذر کے نماز دوسرے دن تك مؤخر کی تو اب اس کی ادائیگی جائز نہ ہوگی انتہی ، علامہ عینی کی رمز الحقائق میں اسی طرح ہے ۔ (ت)

بالجملہ اس کا خلاف کتب متداولہ میں فقیر کی نظر سے کسی روایت ضعیفہ میں بھی نہ گزرا۔

اللھم الا ما رأیت فی جواھر الاخلاطی من قولہ اذافاتت صلٰوۃ عید الفطر فی الیوم الاول بعذر اوبغیرہ صلی فی یوم الثانی و لم یصل بعدہ اھ

فیظن ان یکون خلطا من الاخلاطی فانی رأیت لہ غیر ما مسئلۃ خالف فیھا الکتب المعتمدۃ والاسفار المعتبرۃ اویکون من خطأ الناسخ ۔  واﷲ تعالٰی اعلم

مگر یہ کہ میں نے جواہر اخلاطی میں یہ عبارت دیکھی کہ جب نماز عید الفطر پہلے دن فوت ہو خواہ عذر تھا یا نہ تھا دوسرے دن ادا کی جائے اور اس کے بعد نہیں پڑھی جاسکتی اھ تو گمان یہ ہے کہ اخلاطی کا خلط ہے کیونکہ میں نے متعدد مسائل میں دیکھا ہے کہ وہ کتب معتمدہ اور اسفار معتبرہ کے خلاف لکھتے ہیں یا یہ کاتب کی غلطی ہوسکتی ہے ، واﷲ تعالٰی اعلم (ت)

مسئلہ ١٤٢٤ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عیدگاہ میں ایك دن ایك ہی خطبہ ہے دو امام نے دو جماعت نماز پڑھائی ان میں سے پہلے امام نے مع خطبہ نماز پڑھائی اور ثانی امام نے بدون خطبہ کے نماز ادا کی اب ان دونوں جماعتوں کی نماز ہوئی یا نہیں ؟ اگر جائز ہے تو دونوں کی جائز ہوئی یا ایك کی ، اور اگر ایك جائز ہوئی تو پہلے کی یا ثانی کی ، اور اگر ناجائز ہے تو دونوں کی ناجائز ہے یا ایك کی؟ اگر ایك ہے تو پہلے کی یا ثانی کی؟ بینوا بحوالۃ الکتاب وتؤجروا یوم الحساب ( کتاب کے حوالے کے ساتھ بیان کرو اور حساب کے دن اجر پاؤ۔ ت)

الجواب :

اگر دونوں امام ماذون باقامت نماز عید تھے دونوں جائز ہوگئیں اگر چہ امام دوم نے ترك سنّت کیا کہ عیدین میں خطبہ ہے فرض وشرط نہیں تو اس کا ترك موجب ناجوازی نہ ہوگا البتہ موجب اساءت و کراہت ہے ۔

فی الدرالمختار تجب صلٰوتھما علی من تجب علیہ الجمعۃ بشرائطھا المتقدمۃ سوی الخطبۃ فانھا سنۃ بعدھا [3]فی ردالمحتار قال فی البحر حتی لو لم یخطب اصلاصح واساء لترك السنۃ [4] فی التنویر تؤدی بمصر بمواضع اتفاقا [5]۔  واﷲ تعالٰی اعلم۔                    

درمختار میں ہے کہ عیدین کی نماز ان لوگوں پر لازم ہے جن پر جمعہ لازم اور خطبہ کے علاوہ تمام شرائط بھی جمعہ والی ہی ہیں کیونکہ عید کے بعد خطبہ سنت ہے ، ردالمحتار میں ہے کہ بحر میں ہے حتی کہ اگر بالکل خطبہ دیا ہی نہیں تو نماز صحیح ہوگی لیکن ترك سنت کی وجہ سے براکیا۔ تنویر میں ہے کہ شہر میں بالاتفاق متعدد مقامات پر عید ادا کی جا سکتی ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم ۔ (ت)

مسئلہ١٤٢٥ تا ١٤٢٦ :       از ملك بنگالہ ضلع ڈھاکہ ڈاك خانہ بدیعار بازار موضع قاضیہ گاؤں

کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین ان مسائل مندرجہ ذیل میں :

(١) جس جگہ میں عید کی نماز کے واسطے احتیاط نہیں بلکہ پنج یا چھ ماہ تك پانی کے نیچے ڈوبا ہوا رہتا ہے اور باقی چھ ماہ بیل بکریاں اُسی جگہ میں چرتی ہیں اور وہ جگہ خراجی ہے وقفی نہیں ، تواس جگہ کو شرع میں عیدگاہ کہتے ہیں یا نہیں اور اس میں نماز عید درست ہے یا نہیں ؟

(٢) عید کے دن بعد نماز عید کے مصافحہ کرنا درست ہے یا نہیں ؟ اگر مصافحہ کریں تو حرام ہے یانہیں ؟ اور معانقہ کرنابھی درست ہے یا نہیں ؟

الجواب :

(١) اگر وہ زمین کسی شخص کی ملك ہے اور اس نے نماز عید کے لئے وقف نہ کی تو وہ عید گاہ نہ ہوگی ،

فان مصلی العید عرفاھو عادی الارض المقرر من جھۃ سلطان الاسلام او جماعۃ مسلمی البلد لصلٰوۃ العید او للمملوك الموقوف لھا من جہۃ المالک۔

کیونکہ عیدگاہ عرفًا زمین کاوہ ٹکڑا ہے جسے بادشاہ اسلام یا مسلمانوں کی ایك جماعت نے نماز عید کے لئے چھوڑا ہو یا وہ مالك کی طرف سے نماز عید کے لئے وقف ہو ۔ (ت)

ہاں باجازت مالك اُس میں نماز درست ہے ،

فانہ لیس المسجد ولاالوقف من جھۃ شرائط صحۃ صلٰوۃ اصلا ،  صلٰوۃ العید کانت او الجمعۃ اوغیر ذلك کما نصوا علیہ فی کتب المذھب ۔  واﷲ تعالٰی اعلم

 



[1]    فتاوٰی قاضی خاں باب صلوٰۃ العیدین مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ ١ /  ٨٨

[2]    فتاوٰی ہندیہ باب صلوٰۃ العیدین نوری کتب خانہ پشاور ١ /  ١٥٣

[3]    درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ /  ١١٤

[4]    ردالمحتار باب العیدین مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ /  ٦١١

[5]    تنویرالابصار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ /  ١١٤

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن