30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کلمہ کی تَہہ میں جو خباثت ہے قائل اگر اس پر آگاہ ہو اور اس کا ارادہ کرے تو قطعًا خارج از اسلام ہو جائے کہ اس نے باطل کا نام شرع رکھا ، ولہذا ائمہ کرام نے اپنے زمانہ کے سلا طینِ اسلام کی نسبت فرمایا کہ :
من قال لسلطان زماننا عادل فقد کفر [1]۔
ہمارے زمانے کے سلطان کو عادل کہنا کفر ہے ۔
کہ وہ خلافِ احکام الہیہ حکم کرتے ہیں اور خلاف احکام الہیہ عدل نہیں ہوسکتا ، عدل حق ہے ، تو اسے عدل کہنے کے یہ معنی ہوئے کہ خلافِ احکام الہیہ حق ہے ، تو معاذاﷲ احکام الہیہ ناحق ہوئے اوریہ کفر ہے ، بہر حال جوقاضی خلاف احکام الہیہ حکم کرتا ہو ، ہر گز قاضیِ شرع نہیں ہوسکتا ، جب قاضیان سلطنت اسلامیہ کی نسبت یہ احکام ہیں تو سلطنت غیر اسلامیہ کے حکام تو مقرر ہی اس لئے کئے جاتے ہیں کہ مطابق قانون فیصلہ کریں ، رہی رجسٹراری اس میں اگر چہ کوئی حکم نہیں مگر وہ دستاویزوں پر شہادت ہے اور انھیں رجسٹر پر چڑھانا اور ان میں بہت دستاویزیں سود کی بھی ہوتی ہیں اور صحیح حدیث میں ہے :
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اٰکل الربٰو ومؤکلہ وکاتبہ وشاھدیہ و قال ھم سواء[2] ۔
رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے لعنت فرمائی سود کھانے والے اور سود دینے والے اور سود کا کاغذ لکھنے والے اور اس پر گواہیاں کرنے والوں پر ۔ اور فرمایا سب برابرہیں ۔
جمعہ وعیدین کی امامت پنجگانہ کی امامت سے بہت خاص ہے ، امامت پنجگانہ میں صرف اتنا ضرور ہے کہ امام کی طہارت ونماز صحیح ہو ، قرآن عظیم صحیح پڑھتاہو ، بد مذہب نہ ہو ، فاسق معلن نہ ہو ، پھر جو کوئی پڑھائے گا نماز بلاخلل ہوجائے گی بخلاف نماز جمعہ وعیدین کہ ان کے لئے شرط ہے کہ امام خود سلطان اسلام ہویا اس کا ماذون ، اور جہاں یہ نہ ہوں تو بضرورت جسے عام مسلمانوں نے جمعہ وعیدین کا امام مقرر کیا ہو کما فی الدر المختار وغیرہ ( جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے ۔ ت) دوسرا شخص اگر ایسا ہی عالم وصالح ہو ان نمازوں کی امامت نہیں کرسکتا اگر کرے گا نماز نہ ہوگی۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ١٤٢٠ : از ملك بنگالہ ضلع میمن سنگھ مرسلہ عبد الحکیم ٢٨ جمادی الاولٰی ١٣٢٢ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و شرع متین اس بارہ میں کہ جمعہ مسجد میں نماز عید پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟ بینو اتوجروا
الجواب :
جائز ہے مگرسنت یہ ہے کہ نمازِ عیدین عیدگاہ میں چاہئے جبکہ کوئی عذر شرعی مانع نہ ہو ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ١٤٢١ : از گلگت مرسلہ سر دار امیر خاں ملازم کپتان اسٹوٹ ٢١ ذی الحجہ ١٣١٢ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس شخص کو نماز عید کی خبر دی جائے اہل اسلام کو اور وُہ دعوٰی کرتا ہے اسلام کا اور اس کو فرصت بہت ہے ، اگر وہ قصدًا نہ آئے تو اس کو کیا کیا جائے ؟ بینوا توجروا
الجواب :
نماز عید شہروں میں ہر مرد آزاد ، تندرست ، عاقل ، بالغ ، قادر پر واجب ہے ، قادر کے یہ معنی کہ نہ اندھا ہو ، نہ لولا ہو ، نہ لنجھا ، نہ قیدی ، نہ کسی ایسے مریض کا تیماردار ہو کہ یہ اُسے چھوڑ کر گھر سے جائے تو مریض ضائع رہ جائے ، نہ ایسا بوڑھا کہ چل پھرنہ سکے ، نہ اسے نماز کو جانے میں حاکم یا چور یا دشمن کی طرف سے جان یا مال یا عزت کا سچا خوف ہو ، نہ اس وقت مینہ یا برف یا کیچڑ یا سردی ا س قدر شدت سے ہو کہ نماز کو جانا سخت مشقت کا موجب ہو ،
فی التنویر تجب صلٰوتھما ای العیدین علی من تجب علیہ الجمعۃ بشرائطھا سوی الخطبۃ [3] اھ و فی جمعۃ الدرالمختار
تنویر میں ہے عیدین کی نماز ان پر لازم ہے جن پر جمعہ لازم ہے ، خطبہ کے علاوہ شرائط بھی وہی ہیں اھ تنویر میں ہے عیدین کی نماز ان پر لازم ہے جن پر جمعہ لازم ہے ، خطبہ کے علاوہ شرائط بھی وہی ہیں اھ درمختار کے باب جمعہ میں ہے کہ
شرط لافتراضھا اقامۃ بمصر و صحۃ و الحق بالمریض الممرض والشیخ الفانی وحریۃ وذکورۃ وبلوغ وعقل ووجود بصروقدرتہ علی المشی وعدم حبس و خوف ومطر شدید ودحل وثلج و نحوھما [4] اھ ملخصا فی ردالمحتار قولہ الممرض ، ھذا ان بقی المریض ضائعا بخروجہ فی الاصح حلیۃ وجوھرۃ [5] ، قولہ وعدم خوف ای من السلطان اولص ، منح ، قال فی الامداد ویلحق بہ المفلس اذاخاف الحبس کما جاز التیمم بہ قولہ ونحوھما ای کبرد شدید[6] اھ ملتقطا
اس کی فرضیت کے لئے شہر میں مقیم ہونا اور صحتمند ہونا شرط ہے اور مریض کے ساتھ ممرض ( مریض کا تیمار دار کہ یہ اسے چھوڑ کر گھر سے جائے تو مریض ضائع رہ جائے ) شیخ فانی ملحق ہے ، حریت ، ذکورت ، بلوغ ، عقل ، نظر کا ہونا ، چلنے پر قدرت ، نہ قیدی ، نہ خوف ، نہ شدید بارش ، نہ کیچڑ ، نہ برف وغیرہ ہو اھ ملخصًا ، ردالمحتار میں ہے کہ ماتن کا قول کہ ممرض یعنی مریض کا تیماردار وہ کہ اسے چھوڑ کر گھر
[1] ردالمحتار کتاب الاشربہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ٥ / ٣٢٧
[2] سنن ابوداؤد باب فی آکل الربا ٕ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ٢ / ١١٧
[3] درمختار باب العیدین مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٤
[4] درمختار باب الجمعہ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٢
[5] ردالمحتار مطلب فی شروط الجمعۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٦٠٢
[6] ردالمحتار مطلب فی شروط الجمعۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٦٠٣
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع