دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

(٣) امامت جمعہ وعیدین وامامت نماز پنجگانہ کا حکم ایك ہی ہے یا فرق ہے ؟

(٤) قاضیِ شرع کسے کہتے ہیں ، قاضی کے شرائط کیا ہیں ، جج شرعی قاضی ہے یا نہیں ، اگرہے تو ہر جج یا صرف مسلمان جج ، اگر

صرف مسلمان جج تو کیوں ؟ بینوا توجروا

الجواب:
چندہ کی تحریك اگر کسی امر دینی کے لئے ہو تو عین خطبہ میں اس کی اجازت اور خود حدیث میں ثابت ہے ایك بار خطبہ فرماتے ایك صاحب کو ملا حظہ فرمایا کہ بہت حالت فقر ومسکنت میں تھے ، حاضرین سے ارشاد فرمایا : تصدقوا ، صدقہ دو ، ایك صاحب نے ایك کپڑا ، دوسرے صاحب نے دوسرا کپڑا دیا ، پھر ارشاد فرمایا : تصدقوا ، صدقہ دو ۔ یہ مسکین جن کو ابھی دو کپڑے ملے تھے اُٹھے اور ان دو کپڑوں میں سے ایك حاضر کیا ، یعنی حضور اقدس
  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا حکم کہ تصدقوا حاضرین کے لئے عام ہے اور میں بھی حاضر ہوں اور اس وقت دو ٢ کپڑے رکھتا ہوں ایك حاضر کرسکتا ہوں ، ان کو اس سے باز رکھا گیا تو تمھارے ہی لئے تصدّق کا حکم فرمایا جاتا ہے نہ کہ تم کو ، مگر ہندوستان میں تحریك چندہ اگر چہ کیسے ہی ضروری کام کے لئے ہو زبان اردو میں ہوگی اور خطبہ میں غیر عربی کا خلط مکروہ و خلاف سنت ہے ، لہذا اُس وقت نہ چاہئے بلکہ بعد ختم خطبہ عید جس طرح صحیحین میں ہے کہ حضور اقدس   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  خطبہ عید تمام فرما کر گروہِ نساء پر تشریف لے گئے اور ان کو تصدق کا حکم فرمایا وہ اپنے زیور اتار اتار کر حاضر کرتی تھیں اور بلال رضی اﷲ تعالٰی اپنے دامن میں لئے تھے واﷲ تعالٰی اعلم۔

جو قاضی خلاف احکام شرعیہ حکم کرتا ہو ، اگر چہ مسلمان ہو ، اگر چہ سلطنت اسلامیہ کا قاضی ہو ، ہرگز اس کی مدح جائز نہیں خصوصا منبرپر خصوصا خطبہ جمعہ یا عیدین میں اس کے سبب خطبہ میں تو کراہت یقینی ہے لاشتما لھا علی المحرم ( کیونکہ یہ حرام پر مشتمل ہے ۔ ت) اوراگر خطبہ جمعہ میں ہو تو اس کی کراہت نماز کی طرف بھی سرایت کرے گی کہ جمعہ میں خطبہ شرائط نماز سے ہے اور نماز سے قبل ہوتا ہے ، ہاں عیدین میں کہ نماز ہوچکی اور خطبہ نہ اس کی شرائط نہ اس میں فرض نہ واجب بلکہ ایك سنتِ مستقلہ ہے ، خطبہ کی کراہت نماز کی طرف سرایت نہ کرے گی ، یہ تو خطبہ ہے کہ خاص امردین ہے اور منبر کہ خاص مسند سید المرسلین ہے   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ، مطلقًا مدح فاسق کی نسبت میں ارشاد ہے کہ حضور اقدس   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  فرماتے ہیں :

اذامدح الفاسق غضب الرب واھتزلہ عرش الرحمٰن [1] ۔  واﷲ تعالٰی اعلم

جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے رب عزوجل غضب فرماتا ہے اور اس کے سبب رحمن کا عرش ہل جاتا ہے۔

شرعی احکام اور عرفی خیالات میں بہت تفاوت ہے ، شریعت کا حکم تو یہ ہے کہ ہر حاکم پر فرض ہے کہ مطابق احکامِ الہٰیہ کے حکم کرے ، اگر خلاف حکم الہی کرے تو اس کی دو صورتیں ہیں : ایك عمدًا اور ایك خطًا۔ عمدًا کے لئے قرآن عظیم میں تین ارشاد ہوئے کہ :

وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ(۴۷) [2]

فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۴۵)[3] فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ(۴۴) [4]

جو لوگ اﷲ تعالٰی کی نازل کردہ تعلیمات کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ فاسق ہیں ، وہ ظالم ہیں ، وہ کافر ہیں ، (ت)

قرآن مجید ایسے حکم کو فسق وظلم وکفر فرماتا ہے یعنی اگر عنادًا ہو کہ حکم کو حق نہیں مانتا تو کافر ہے ورنہ ظالم وفاسق ، اور اگر خطأ ہو تو اس کی پھر دو صورتیں ہیں : ایك یہ کہ خطا بوجہ جہل ہو یعنی علم نہ رکھتا تھا کہ صحیح احکام سے واقف ہوتا ، یہ صورت بھی حرام وفسق ہے ، صحیح حدیث میں قاضی کی تین قسمیں فرمائیں : قاضی فی الجنۃ وقاضیان فی النار۔ ایك قاضی جنت میں ہے اور دو قاضی دوزخ میں ، وہ کہ عالم و عادل ہو جنت میں ہے اور وہ کہ قصدًا خلاف حکم کرے یا بوجہ جہل ، یہ دونوں نارمیں ہیں ، بوجہ جہل پر ناری ہونے کایہ سبب ہے کہ اس نے ایسی بات پر اقدام کیا جس کی قدرت نہ رکھتا تھا وہ جانتا تھا کہ میں عالم نہیں اور بے علم مطابقتِ احکام ممکن نہیں ، تو مخالفتِ احکام پر قصدًا راضی ہوا ، بلکہ اُس سے اگر کوئی حکم مطابق شرع بھی صادر ہو جب بھی وہ مخالفتِ شرع کر رہا ہے کہ اس اتفاقی مطابقت کا اعتبار نہیں ، ولہذا حدیث میں فرمایا :

من قال فی القراٰن برأیہ فاصاب فقد اخطأ [5]۔

جس نے قرآن میں اپنی رائے سے کچھ کہا اگر ٹھیك کہا تو بھی غلط کہا ۔

دوسری صورت خطا کی یہ ہے کہ عالم ہے احکام شرعیہ سے آگاہ ہے قابلیت قضا رکھتا ہے احکامِ الہٰیہ کے مطابق ہی فیصلہ کرنا چاہا اور براہ بشریت غلط فہمی ہوئی۔ اس کی پھر دو صورتیں ہیں : اگر وہ مجتہد ہے اور اس کے اجتہاد نے خطا کی تو اس پر اُس کے لئے اجر ہے اور وہ فیصلہ جو اس نے کیا نافذ ہے ، اور اگر مقلد ہے جیسے عمو مًا قاضیانِ زمانہ ، اور جدوجہد میں اس نے کمی نہ کی اور فہم حکم میں اس سے غلطی واقع ہوئی اور ہے پورا عالم اور اس عہدہ جلیلہ کے قابل ، تو اس کی یہ خطا معاف ہے مگر وہ فیصلہ نافذ نہیں ، یہ سب احکام قاضیان سلطنت اسلامیہ سابقہ کے لئے ہیں جو اسی کا م کے لئے مقرر ہوئے تھے کہ مطابق احکام الہیہ فیصلہ کریں بخلاف حال کہ اکثر اسلامی سلطنتوں کے جن میں خود سلاطین نے احکام شرعیہ کے ساتھ اپنے گھڑے ہوئے باطل قانون بھی خلط کئے ہیں اور قاضیوں کو ان پر فیصلہ کرنے کا حکم ہے ان کی شناخت کا کیا اندازہ ہوسکتا ہے کہ وہ اﷲ و رسول کے خلاف حکم کرنے ہی پرمقرر ہوئے ، ان اسلامی سلطنتوں کے ایسے قاضیوں کوبھی قاضیِ شرع کہنا حلال نہیں ہوسکتا بلکہ اس



[1]    الکامل لابن عدی تحت اسم سابق عبداﷲ مطبوعہ المکتبہ الاثریۃ سانگلہ ہل ٣ /  ١٣٠٧

[2]    القرآن  ٥ /  ٤٧

[3]    القرآن ٥ /  ٤٥

[4]    القرآن  ٥ /  ٤٤

[5]    السنن لابی داؤد کتاب العلم مطبوعہ آفتاب پریس لاہور ٢ /  ١٥٨

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن