30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جنازہ گاہ اور عیدگاہ میں اختلاف ہے محیط میں اسے صحیح کہا کہ جنازہ گاہ کا حکم بالکل مسجد والا نہیں اور عیدگاہ کے بارے میں یہی صحیح ہے مگر جو از اقتدا کے حق میں مسجد والا ہے اگر چہ صفیں متصل نہ ہوں ، عنایہ وغیرہ میں ہے کہ لوگوں کی رعایت کی وجہ سے فتوٰی میں مختار یہ ہے کہ عیدگاہ اور جنازہ گاہ جوازِ اقتدا کے حوالے سے مسجد کے حکم میں ہیں اگر چہ صفیں متصل نہ ہوں اورا ن کے علاوہ میں مسجد کا حکم نہیں اھ نہایہ کی عبارت سے یہی ظاہر ہے کہ عیدگاہ اور جنازہ گاہ کے اوپر وطی اور بول وبراز جائز ہے اور یہ محل نظر ہے کیونکہ بانی نے اسے اس لئے نہیں بنایا لہذا اگر چہ انھیں ہم مسجد کا حکم نہیں دیتے مگر یہ تینوں چیزیں ( وطی ، بول و براز ) اس کے اوپر جائز نہیں اور اس کا فائدہ بقیہ احکام میں ظاہر ہوگا جو ہم ذکر کر رہے ہیں اور جنبی وحائضہ کا داخلہ بھی ہوسکتا ہے اھ (ت)
جواہر الاخلاطی فصل فی العیدین میں ہے :
لوکان محراب المصلی عشرۃ اذرع وصف القوم مائۃ ذراع ولایتصل الصفوف جازت صلٰوۃ الکل[1]۔
اگر عید گاہ کا محراب دس ذراع تھا اور لوگوں کی صف سَو ذراع ، صفیں متصل نہ ہوں تو تب بھی تمام کی نماز جائز ہوگی ۔ (ت)
جامع الرموز میں ہے : المصلی محوط بالفناء[2] ( عیدگاہ وہ ہے جو میدان میں احاطہ بنا ہو ۔ ت) صحیح بخاری شریف میں ایك باب وضع فرمایا : باب العلم بالمصلی[3] یعنی مصلائے عید میں شناخت کے لئے کوئی علامت امام بدر محمودنے اس علامت میں عمارت مصلے کو بھی داخل فرمایا : عمدۃ القاری میں ہے :
ص باب العلم الذی بالمصلی ش ای ھذا باب فی بیان العلم الذی ھو بمصلی العید والعلم بفتحتین ھو الشیئ الذی عمل من بناء او وضع حجر او نصب عمود ونحو ذلك یعرف بہ المصلی [4]۔
باب عیدگاہ کی علامت کے بیان میں ہے ش یعنی یہ باب اس علامت کے بیان میں ہے کہ یہ جگہ عیدگاہ ہے العلم عین اور لام دونوں پر زبر ہے اس سے مراد علامت ہے خواہ بنا کی صورت میں ہو یا پتھر ولکڑی وغیرہ نصب کرنے سے ہو جس سے اس کے عیدگاہ ہونے کا پتا چل سکے ۔ (ت)
بالجملہ تعمیر عیدگاہ جواز ظاہر ، اگر افضل فضائے خالی ہوبلکہ امام تاج الشریعۃ کی تصحیح پر نظر کیجئے ( کہ انھوں نے فرمایا صحیح یہ ہے کہ مصلائے عید جمیع احکام میں مسجد ہے ) جب تو اس کی تعمیر ضروری ہوگی خصوصا بلاد ہندوستان میں جہاں کفار کا غلبہ ہے کہ یوں ہی رکھیں تو آدمی جانور ، جنب ، حائض سب اس میں چلیں گے ، پیشاب کریں گے ، مسجد کی بے حرمتی ہوگی ، علامہ شرنبلالی غنیہ ذوی الاحکام میں فرماتے ہیں :
ذکر الصدر الشھید المختار للفتوی فی الموضع الذی یتخذ لصلٰوۃ الجنازۃ و العیدانہ مسجد فی حق جواز الاقتداء و ان انفصل الصفوف رفقا بالناس و فیما عدا ذلك لیس لہ حکم المسجد کذا ذکرہ الامام المحبوبی اھ ذکرہ الکاکی و مثلہ فی فتح القدیر ویخالفہ ماقالہ
صدر الشہید نے فرمایا کہ لوگوں کی رعایت کی وجہ سے فتوٰی کے لئے مختار یہ کہ وہ جگہ جو جنازہ یا عید کی نماز کے لئے بنائی گئی ہو اسے جواز اقتدا میں مسجدکا حکم دیا جائے گا اگر چہ صفیں متصل نہ ہوں اور اس کے علاوہ اس کا حکم مسجد والا نہ ہوگا ، امام محبوبی نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے اھ اسے کاکی نے ذکر کیا اور اسی کی مثل فتح القدیر میں ہے
تاج الشریعۃ والاصح انہ ای مصلٰی العید یاخذ حکمھا ای المساجد لانہ اعد لاقامۃ الصلٰوۃ فیہ بالجماعۃ لاعظم الجموع علی وجہ الاعلان الا انہ ابیح ادخال الدواب فیھا ضرورۃ الخشیۃ علی ضیا عھا وقد یجوز ادخال الد واب فی بقعۃ المساجد لمكان العذر والضرورة اھ فقد اختلف التصحیح فی مصلی العید واتفق فی مصلی الجنازۃ [5]۔
اور تاج الشریعۃ نے اس کی مخالفت کی ہے اور اصح یہ ہے کہ عیدگاہ مسجد والا حکم رکھتی ہے کیونکہ عیدگاہ جماعتِ اعظم کے ساتھ اجتماعی صورت میں بطور اعلان اقامتِ نماز کے لئے بنائی گئی ہوتی ہے البتہ اس میں چار پایوں کا داخلہ مباح اس لئے قرار دیا گیا ہے تاکہ ان کا ضیاع نہ ہو اور عذر وضرورت کے پیش نظر مساجد کی جگہ میں چوپایوں کا داخلہ جائز ہوتاہے ، عیدگاہ میں تصحیح اقوال میں اختلاف ہے مگر جنازہ گاہ میں اتفاق ہے ۔ (ت)
اس قول پر زمانہ اقدس میں عمارت نہ ہونا وارد نہ ہوگا کہ مدینہ طیبہ میں رو ز اول سے بحمد اﷲ تعالٰی اسلام ہی حاکم اسلام ہی غالب ہے عہد اطہر کے حضرات میں آداب شریعت کا جو تحفظ تھا روشن ہے ۔ جمہور ائمہ ترجیح اگر چہ اس تصحیح کے خلاف پر ہیں تاہم قول مصحح ہے اور خلاف علماء کا لحاظ بالاجماع مستحب اگر چہ غیر مذہب میں ہو نہ کہ خود اپنے مذہب میں خلاف قوی باختلاف تصحیح ، بہر حال اس قدر میں شك نہیں کہ اس تعمیر سے وہ جگہ صحرا سے نکل کر آبادی نہ ہوجائے گی اور اس میں نماز صحرا ہی میں نماز رہے گی اور نماز صحرا کا ثواب ہاتھ سے نہ جائے گا ، تو قولِ عمرو واضح الصحۃ ہے ھذا کلہ ماظھر لی والعلم بالحق عند العلیم العلی ( مجھ پر یہی واضح ہوا ہے اور حقیقت کا علم اﷲ تعالٰی کے پاس ہے ۔ ت) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم ۔
مسئلہ ١٤١٦تا١٤١٩ : مسئولہ مولوی رحیم بخش صاحب ازآرہ شاہ آباد مدرسہ فیض الغربار ٣٠ محرم ١٣٣٢ھ
علمائے دین ان سوالوں میں کیا فرماتے ہیں :
(١) نمازِ عید اور خطبہ کے درمیان یا خطبہ اول و دوم کے درمیان تحریك چندہ اور کسی ( مسلمان جج ) کی مدح وثناء ، خوشامد وغیرہ ( مثلًا امام نے جج کو قاضیِ وقت وقاضی شرع کہا او ریہ بھی کہا کہ قاضی (جج ) صاحب کے ہوتے مجھے نماز پڑھانے کا حق نہ تھا لہذا ان کی اجازت سے نماز پڑھاتا ہوں
قرآن و حدیث ، اجماع مجتہد و تعامل علمائے ثقہ کسی سے ثابت ہے یا نہیں ؟
(٢) ثابت نہ ہونے کی صورت میں نماز اور خطبہ میں کسی قسم کی کراہت پیدا ہوئی یا نہیں ؟
[1] جواہر الاخلا طی فصل فی العیدین غیر مطبوعہ نسخہ ص ٥١
[2] جامع الرموز فصل صلوٰۃ العیدین مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ١ / ٢٧١
[3] صحیح بخاری کتاب العیدین مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ١٣٣
[4] عمدۃ القاری شرح البخاری باب العلم بالمصلی مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ٦ / ٢٩٨
[5] غنیہ ذوی الاحکام حاشیہ دررغرر باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ احمد کامل الکائنہ دارسعادت بیروت ١ / ١١٠
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع