دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

رسالہ مولد میں لکھتے ہیں صاحب روایۃ ودرایۃ ائمہ ذکرِ مولد شریف کے وقت قیام مستحسن تصور کرتے ہیں مبارك ہے ان علمائے کے لئے جس کا مقصد ومنزل نبی اکرم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  میں تعظیم ہے انتہی (ت)

یعنی ذکرِ ولادت شریف کے وقت قیام کرنے کو ان اماموں نے مستحسن فرمایا ہے جو صاحبِ روایت و درایت تھے تو خوشی وشادمانی ہو اسے جس کی نہایت مراد و مقصد حضوراقدس   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی تعظیم ہے اور خود مجیب لکھنؤ ی حرمین طیبین کی مجالسِ متبرکہ میں اپنا حاضرو شریك ہونا بیان کرتے اور انھیں مجالس متبرکہ لکھتے ہیں حالانکہ بشہادت مجیب ومشاہدہ تواتر ان مجالس ملائك مآنس کا قیام پر مشتمل ہونا یقینی ، مجیب موصوف اسی جلد فتاوٰی صفحہ٥٢ میں لکھتے ہیں :

درمجالس مولد شریف کہ ازسورۂ والضحی تا آخر می خوانند البتہ بعد ختم ہر سورہ تکبیر می گویند راقم شریك مجالس متبرکہ بودہ ایں امر را مشاہد کر دہ ام ہم درمکہ معظمہ وہم درمدینہ منورہ وہم درجدہ [1]۔

مولد شریف کی مجالس میں سورہ والضحٰی سے لے کر آخر تك پڑھتے ہیں ہر سورت کے اختتام پر تکبیر کہتے ہیں راقم الحروف مکہ معظمہ ، مدینہ منورہ اور جدّہ میں ان مجالس مبارکہ میں شریك ہوا ہے ۔ (ت)

عبارت ١٥ : طرفہ یہ کہ صفحہ ١٢٠پر لکھتے ہیں :

سوال : پارچہ جھنڈا سالار مسعود غازی ودر مصرف خود آردیا تصدق نماید؟

جواب : ظاہرًا دراستعمال پارچہ مذکور بصرفِ خود و جہی کہ موجب ہزہ کاری باشد نیست واولے آنست کہ بمساکین وفقراء دہد[2]          

سوال : سالار مسعود غازی کے جھنڈے کا کپڑا اپنے مصرف میں لایا جاسکتا ہے یا اسے صدقہ کردیا جائے؟

جواب :  ظاہرًا اپنے استعمال میں لانے میں کوئی گناہ نہیں ، ہاں بہتر یہ ہے کہ مساکین وفقراء پر خرچ کردیا جائے ۔ (ت)

ذرا حضرات مخالفین اس اولٰی آنست ( بہتر یہ ہے ۔ ت) کی وجہ بتائیں اور اسے اپنے اصول پر منطبق فرمائیں ولاحول ولا قوۃ الّا باﷲ العلی العظیم اس قسم کے کلام رسائل ومسائل مجیب میں بکثرت ملیں گے وفیما ذکرنا کفایۃ اﷲ واﷲ سبحٰنہ ولی الھدایۃ( جو کچھ ہم نے ذکر کیا یہ کافی ہے۔ اور اﷲ تعالٰی کی ذات پاك ہے اور وہی ہدایت کا مالك ہے ۔ ت)بحمد اﷲ جواب اپنے منتہی کو پہنچا اور تحقیق حق تا دزدۂ علیا اب نہ رہا مگر سعی مانعین کا وہ پہلا رونما یعنی عوام کا بعد نماز فرائض بھی دعا سے دست کش ہونا ، یہاں اگر میں نقل احادیث پر اتروں تو ایك مستقل رسالہ املا کروں مگر بحکم ضرورت صرف مولوی عبدالحی صاحب کاایك فتوٰی ملخصا نقل کرتا ہوں جس پر غیر مقلدین زمانہ کے امام اعظم نذیر حسین دہلوی کی بھی مہر ہے ، مجموعہ فتاوٰی جلد دوم صفحہ ٤٧٧ :

چہ می فرمایند علمائے دین اندریں مسئلہ کہ رفع یدین در دعا بعد نماز چنانکہ معمول ائمہ ایں دیارست ہر چند فقہا مستحسن می نویسند واحادیث درمطلق رفع یدین دردعا نیز وارد دریں خصوص ہم حدیثے وارد ست یانہ ، بینوا توجروا۔

ھوالمصوب دریں خصوص نیز حدیثے وارد ست حافظ ابوبکر احمد بن محمد بن اسحٰق بن السنی درعمل الیوم واللیلہ می نویسند حدثنی احمد بن الحسن حدثنا ابواسحق یعقوب بن خالد بن یزید الیالسی حدثنا عبدالعزیز بن عبدا لرحمن القرشی عن خصیف عن انس عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ قال مامن عبد بسط کفیہ فی دبر کل صلٰوۃثم یقول اللھم الٰھی والہ ابراھیم واسحٰق ویعقوب والہ جبرئیل و میکائیل واسرافیل اسئلك ان تستجیب دعوتی فانی مضطر و تعصمنی فی دینی فانی مبتلی وتنالنی   

اس بارے میں علماء کیا فرماتے ہیں کہ نماز کے بعد دعا میں ہاتھ اٹھا ناجیسا کہ اس علاقے کے ائمہ کا طریقہ ہے کیسا ہے ؟ فقہاء نے اسے مستحسن لکھا ہے احادیث میں مطلقًا دُعا میں ہاتھ اٹھانے کا تذکرہ بھی آیا ہے کیا اس سلسلہ میں کوئی حدیث ہے یا نہیں ؟ بیان کرکے اجر پاؤ۔

ھوالمصوب ، اس بارے میں خصوصًا حدیث بھی وارد ہے حافظ ابوبکر احمد بن محمد بن اسحٰق بن السنی اپنی کتاب عمل الیوم واللیلہ میں لکھتے ہیں کہ مجھے احمد بن حسن انھیں ابواسحٰق یعقوب بن خالد بن یزید الیالسی نے انھیں عبدالعزیز بن عبدالرحمن القرشی نے انھیں خصیف نے حضرت انس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے بیان کیا کہ نبی اکرم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا جس شخص نے بھی ہر نماز کے بعد اپنے ہاتھوں کو پھیلایا اور پھر عرض کیا : اے اﷲ میرے معبود ، سیدنا ابراہیم و اسحٰق اور یعقوب کے معبود ، جبرائیل ، میکائیل اور اسرافیل کے الہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میری دعا قبول کیجئے ، میں مضطر ، مجھے میرے دین میں محفوظ رکھئے ، میں مبتلا ہوں مجھے

برحمتك فانی مذنب وتنفی عنی الفقر فانی متمسکن الا کان حقا علی اﷲ عزوجل ان لایرد ید یہ خائبتین واﷲ تعالٰی اعلم [3]

اپنی رحمت عطا کیجئے میں نہایت گنہگار ہوں میرے فقر کو دور کر دیجئے میں نہایت مسکین ہوں ، تو اﷲ تعالٰی پر حق ہے کہ اس کے ہاتھوں کو خالی نہ لوٹائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)

 

محمد عبد الحَی ابوالحسنات

 

الجواب صحیح :  ویؤ یدہ ما رواہ ابوبکر ابن ابی شیبۃ فی المصنف عن الاسود العامری عن ابیہ قال صلیت مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الفجر فلما سلم انصرف ورفع یدیہ و دعاالحدیث فثبت بعد الصلٰوۃ المفروضۃ رفع الیدین فی الدعاء عن سید الانبیاء اسوۃ الاتقیاء صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کما لا یخفی علی العلماء الاذکیا ء۔           

 



[1]    مجموعہ فتاوٰی باب القراءۃ فی الصلوٰۃ قراءۃ فاتحہ خلف الامام مطبوعہ مطبع یُوسفی فرنگی محلی لکھنؤ ٣ /  ٥٢

[2]    مجموعہ فتاوٰی باب مایحل استعمالہ ومالایحل مطبوعہ مطبع یُوسفی فرنگی محلی لکھنؤ ٣ /  ١١٦

[3]    مجموعہ فتاوٰی کتاب الصلوٰۃ رفع یدین در دعا بعد ادائے نماز پنجگانہ مطبوعہ مطبع یوسفی فرنگی محلی لکھنؤ ١ /  ٢٤٨        

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن