30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسجد میں ایسا اکل وشُرب جس سے اس کی تلویث ہو مطلقًانا جائز ہے اگر چہ معتکف ہو ، ردالمحتار باب الاعتکاف میں ہے :
الظاھر ان مثل النوم الاکل والشرب اذا لم یشغل المسجدولم یلوثہ لان تنظیفہ واجب کما امر [1]۔
ظاہر یہی ہے کہ کھانا پینا جبکہ مسجد کو ملوث نہ کرے اور نہ مسجد کو مشغول رہے تو یہ سونے کی طرح ہے کیونکہ مسجد کی نظافت کا خیال نہایت ہی ضروری ہے جیسا کہ گزرا۔ (ت)
اسی طرح اتنا کثیر کھانا مسجد میں لانا کہ نماز کی جگہ گھیرے مطلقًا ممنوع ہے ، اور جب ان دونوں باتوں سے خالی ہو تو معتکف کو بالاتفاق بلاکراہت جائز ہے اور غیر معتکف میں وہی مباحث و اختلاف عائد ہوں گے اور ہمیں ارشاد اقدس کا وہ ضابطہ کلیہ کافی ہے کہ ان المساجد لم تبن لھذا(مساجد اس خاطر نہیں بنائی جاتیں ۔ ت) اعتکاف نفل کے لئے نہ روزہ شرط ہے نہ طول مدت درکار ، صرف نیت کافی ہے ، جتنی دیر بھی ٹھرے بہ یفتی(اسی پر فتوی ہے۔ ت) تو اختلاف میں پڑنے کی کیا حاجت ، وماکان اقرب الی الادب فھوالاحب فھوالا حب الاوجب نسأل اﷲ حسن التوفیق( جوادب کے زیادہ قریب ہو وہی زیادہ پسندیدہ اور واجب ہوتا ہے ، اﷲتعالٰی سے حسنِ توفیق کا سوال ہے۔ ت)
رہی حدیث ابن ماجہ ، وہ ایك واقعہ عین ہے اور علماء بالاتفاق تصریح فرماتے ہیں کہ وقائع عین کے لئے عموم نہیں ہوتا ممکن کہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وصحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اس وقت معتکف ہوں اور صحابی کو یہاں مسئلہ اکل بیان کرنا مقصود نہیں بلکہ یہ کہ مامسّتہ النار (وہ چیز جسے آگ چھولے ۔ ت) سے وضونہیں ، علاوہ بریں فعل وتقریر سے قول اور بیح سے خاطرار جح ہے ۔ واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ١١٤٥ : از فیض آباد مسجد منوپورہ مرسلہ شیخ اکبر علی مؤذن ومولوی عبدالعلی ٩ ربیع الاخر ١٣٣٦ھ
جو لوگ عرس میں آئیں وہ مسجد ہی میں قیام کریں اور جائے نماز وغیرہ استعمال کریں ، کھانا وہاں کھائیں ، دنیا کی بات کریں ، اشعار پڑھیں ، جائز ہے؟
الجواب :
مسجد کو چوپال بنانا جائز نہیں ۔ واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ۱۱۴۶ : از گونڈل کاٹھیاواڑ مرسلہ سیٹھ عبدالستار صاحب رضوی ٩ جمادی الاولٰی ١٣٣٦ھ
امام مسجد اور عوام مسلمین جن کے پاس رہنے سونے کو مکان ہیں وہ مسجد میں کسی وقت سو سکتے ہیں یا نہیں نیز ایسے مسلمان مسافر جو آج کل شہروں میں آیا جایا کرتے ہیں اور چندے لے کر گزارہ کرتے ہیں انھیں مسجدوں میں رکھنا اور وہ وہاں پر بطور گھروں کے رہیں ، سوئیں ، کھائیں پئیں ، جائز ہے؟
الجواب :
صحیح ومعتمد یہ ہے کہ مسجد میں کھانا پینا ، سونا سوا معتکف کے کسی کو جائز نہیں ، مسافر یا حضری اگر چاہتا ہے تو اعتکاف کی نیت کیا دشوار ہے ، اور اس کے لئے نہ روزہ شرط نہ کوئی مدت مقرر ہے ، اعتکاف نفل ایك ساعت کا ہوسکتا ہے۔ مسجد کو گھر بنانا کسی کے لئے جائز نہیں ، وہ لوگ بھی بہ نیت اعتکاف رہ سکتے ہیں ، واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ١١٤٧ : از بھو ساول ضلع خاندیس محلہ ستارہ مسئولہ حافظ ایس محبوب ٧ رمضان ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ مسجد خاص میں یا صحن میں اگر واہیات لغویات اور گالی گلوچ ایك دوسرا آپس میں جمع خاص وعام کے روبرو کرے تو ان لوگوں کے لئے کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا
الجواب :
ایسے لوگ گنہگار ہیں اور شرعًا مستحقِ تعزیز ، مگر تعزیر یہاں کون دے سکتاہے ، اتنا کریں کہ انھیں مسجد سے باہر کردیں ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۱۴۸ : از شہر عقب کوتوالی مسئولہ مولوی بدیع الزمان صاحب بنگالی ٢٧ شوال ١٣٣٨ھ
مسجد کا ایك امام جو شب وروز مسجد کے حجرہ میں رہتا ہے اور عملیات تعویز گنڈا وغیرہ آیاتِ قرآنی سے کرتا ہے اس کو بصورتِ قیام مسجد ایسا روزگار کرنا اور اس سے اجرت لینا جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب :
عوضِ مالی پر تعویز دینا بیع ہے اور مسجد میں بیع وشرا ناجائز ہے ، اور حجرہ فنائے مسجد ہے اور فنائے مسجد کے لئے حکمِ مسجد ، علمگیریہ میں ہے :
یبیع التعویذ فی المسجد الجامع ویکتب فی التعویذ التوراۃ والانجیل والفرقان و یاخذ علیھا المال ادفع الی الھدیۃ لایحل لہ ذلك کذا فی لکبرٰی [2]۔
ایك آدمی مسجد جامع میں تعویذ بیچتا ہے ، اس تعویذ میں تورات ، انجیل اور قرآن لکھتا ہے اور اس پر رقم لیتا ہے ، اور یہ کہتا ہے کہ اس کا ہدیہ مجھے دے تو یہ جائز نہیں ۔ الکبرٰی میں اسی طرح ہے۔ (ت)
اُسی میں ہے :
قیم المسجد لا یجوزلہ ان یبنی حوانیت فی حدالمسجد أوفی فنائہ لان المسجد اذا جعل حانوتا ومسکنا تسقط حرمتہ وھذا لا یجوز و الفناء تبع المسجد فیکون حکمہ حکم المسجد کذافی محیط السرخسی[3]۔
مسجد کے منتظم کے لئے جائز نہیں کہ وہ مسجد یا فنائے مسجد میں دکانیں یا رہائش گاہ بنائے کیونکہ جب مسجد دکان یا رہائش گاہ بن جائے تو اس کا احترام برقرار نہیں رہتا ، اور یہ جائز نہیں ۔ فنا مسجد کے تابع ہے لہٰذااس کا حکم مسجد والاہی ہوتا ہے۔ محیط سرخسی میں یو نہی ہے ۔ (ت) واﷲتعالٰی اعلم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع