دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

عدم النقل لاینفی الوجود [1](عدم نقل نفی وجود کومستلزم نہیں ۔ ت)خود مجیب اپنی سعی مشکورمیں تنزیہہ الشریعۃ امام ابن عراق سے نقل کرتے ہیں : عدم الثبوت لایلزم منہ اثبات العدم[2] (عدمِ ثبوت سے اثبات عدم لازم نہیں آتا۔ ت)

سابعًا خادمِ حدیث جانتاہے کہ بارہا رواۃ حدیث امورمشہورہ معروفہ کوچھوڑجاتے ہیں اور ان کا وہ ترک ، دلیل عدم نہیں ہوتا ، ممکن کہ یہاں بھی بربنائے اشتہار حاجت ذکرنہ جانی ہو ، اس اشتہار کاپتا اس حدیث صحیح سے چلے گا جوہم نے صدرکلام میں روایت کی کہ جب تابعین عظام میں بعدنمازعیدین دعاکارواج تھا توظاہرًا انہوں نے یہ طریقہ انیقہ صحابہ کرام اور صحابہ کرام نے حضورسیدالانام علیہ علیہم الصلٰوۃ والسلام سے اخذکیا ، حضرات مانعین اگردیانت پرآئیں تو سچ سچ بتادیں گے کہ عیدین کے قعدہ اخیرہ میں خود بھی دعا و درود پڑھتے اور اسے جائز و مستحب جانتے ہیں ، اس کی خاص نقل حضورپرنور سیدعالم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے دکھادیں یااپنے بدعتی ہونے کااقرارکریں ، اور اگرفرائض پرقیاس یااطلاقات سے تمسك کرتے ہیں تو یہاں کیوں یہ طرق نامقبول ٹھہرتے ہیں واﷲ الموفق۔

ثامنًا نقل عدم بھی سہی پر وہ نقل منع نہیں ۔ اﷲ عزوجل نے فرمایاہے کہ  وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-[3] جورسول دے وہ لو اور جس سے منع فرمائے باز رہو۔ یہ نہیں فرمایا کہ مافعل الرسول فخذوہ ومالم یفعل فانتھوا رسول جوکرے کرو اور جونہ کرے اس سے بچو ، کہ شرعًا یہ دونوں قاعدے منقوض ہیں ۔ امام الوہابیہ کے عمِ نسب وپدرِ علم وجدِّطریقت شاہ عبدالعزیزصاحب دہلوی تحفۂ اثناعشریہ میں فرماتے ہیں :

نکردن چیزے دیگرست ومنع فرمودن چیزے دیگر[4]۔

کسی چیزکانہ کرنا اورشئ ہے اور منع کرنا اور شئ ہے۔ (ت)

تاسعًا  اگرمجرد عدمِ نقل یاعدم فعل مستلزم ممانعت ہو توکیاجواب ہوگا ، شاہ ولی اﷲ اور ان کے والد شاہ عبدالرحیم صاحب اور صاحب زادے شاہ عبدالعزیزصاحب اور امام الطائفہ میاں اسمٰعیل اور ان کے پیرسیّد احمد اور شیخ السلسلہ جناب شیخ مجدّدصاحب اور عمائد سلسلہ مرزا مظہر صاحب وقاضی ثناء اﷲ صاحب وغیرہم سے جنھوں نے اذکار و اشغال و اوراد و غیرہا کے صدہا طریقے احداث وایجاد کئے اور ان کے محدث و مخترع ہونے کے خود اقرار لکھے پھر انھیں سبب قُرب الہٰی و رضائے ربانی جانا کئے اور خود عمل میں لاتے اوروں کو اُن کی ہدایت وتلقین کرتے رہے۔ شاولی اﷲ قول الجمیل میں لکھتے ہیں :

لم یثبت تعین الاداب ولاتلك الاشغال[5]۔

نہ یہ تعیّن آداب ثابت ہے اور نہ یہ اشغال ۔ (ت)

مرزا جان جاناں صاحب مکتوب اا میں فرماتے ہیں :

ذکر جہر یا کیفیاتِ مخصوصہ ونیز مراقبات نہ اطوار معمولہ کہ درقرونِ متأخرہ رواج یا فتہ از کتاب و سنّن ماخوذ نیست بلکہ حضرات مشائخ بطریق الہام واعلام ازمبد ءفیاض اخذ نمودہ اند و شرع ازاں ساکت است وداخل دائرہ اباحت وفائدہ دراں متحقق وانکار آں ضرورتے ۔ [6]    

ذکر بالجہر مخصوص کیفیات کے ساتھ اس طرح اطوار معمول کے ساتھ مراقبات جو متاخرین کے دور میں رواج پاچکے ہیں یہ کتاب وسنت سے ماخوذ نہیں بلکہ حضرات مشائخ نے بطریقِ الہام واعلام مبدء فیاض سے حاصل کئے ہیں ، اور شریعت ان کے بارے میں خاموش ہے اور یہ دائرہ اباحت میں داخل ، اور ان کے فوائد ہیں نقصان کوئی نہیں ۔ (ت)

فقیر غفراﷲ تعالٰی لہ نے اس کی قدر ے تفصیل اپنے رسالہ انھار الانوار من یم صلٰوۃ الاسرار ( ١٣٠٥ ھ) ذکر کی وباﷲ التوفیق۔

عاشرًا  ان سب صاحبوں سے درگزر یے ، خود وہ عالم جن کا فتوٰی اس مسئلہ میں تمھارا مبلغ استناد و منتہائے استمداد ہے یعنی مولوی لکھنوی مرحوم انھیں کے فتاوٰی کی تصریحات جلیہ تنصیصات قویہ دیکھئے کہ ان کے اصول ، فروع کس درجہ تمھارے فروع واصول کے قاطع و قامع ہیں ، پھر ان مسائل میں اُن کا دامن تھامنا ، چراغِ خرد کا ، صرصرجہل سے سامنا ، عقل وہوش سے لڑائی ٹھاننا ، نافع ومضر میں فرق نہ جاننا ، نہیں تو کیا ہے۔ میں یہاں ان کی صرف دو ٢ عبارتیں نقل کروں گا جو حضرات وہابیہ کے اسی مغالطہ عامۃ الورود یعنی حدوثِ خصوص اور قرون ثلٰثہ سے عدمِ ورود کو دلیل منع جاننے کی قاطع و فاضح ہیں اور وہ بھی صرف اسی مجموعہ فتاوٰی ، نہ ان کے دیگر رسائل سے ، تاکہ سب پر ظاہر ہو   ع

کہ باکہ باختہ عشق درشبِ دیجور

( تونے اندھیری رات میں کس سے عشق بازی کی )

پھر ان میں بھی قصدِ استیعاب نہیں بلکہ صرف چند عبارتیں پیش کروں گا ، بعض مفید ضوابط و اصول اور بعض میں فروع قاطعہ اصولِ فضول واﷲ المستعان علٰی کل جہول۔

الاصول ___ عبارت ١ : مجموعہ فتاوی جلد اول کے صفحہ ٥٦ پر علامہ سید شریف کے حواشی مشکوٰۃ سے استنادًا نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے حدیث :

من احدث فی امرنا ھذا مالیس منہ فھو رد ّ۔

 



[1]    فتح القدیر کتاب الطہارۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ١ /  ٢۰

[2]    کتاب السعی المشکور فی رد المذہب المشہور لعبدالحی ضعیف روات و جہالت الخ مطبع چشمۂ فیض لکھنؤ ص١۹۷

[3]    القرآن  ٥۹ /۷ 

[4]    تحفہ اثناعشریہ باب دہم مطاعن ابوبکر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سہیل اکیڈمی لاہور  ص٢٦٩

[5]    القول الجمیل مع شفاء العلیل فصل١١ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص١٧٣

[6]    مکتوبات مرزا مظہر جانجاناں از کلمات طیبات مکتوب١١ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص ٢٣

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن