30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ روایت اس پرتصریح ہے یہ عمل خطبہ کے بعد تھا۔ (ت)
امام نووی منہاج میں فرماتے ہیں :
انما نزل الیھن بعد فراغ خطبۃ العید[1]۔
آپ خواتین کے اجتماع میں خطبۂ عیدکے بعد تشریف لے گئے تھے۔ (ت)
پس بحمداﷲ تعالٰی ماہ نیم ماہ مھر نیم روز کی طرح روشن ہوا کہ اس تقریر سے عدم دعا کا ثبوت چاہنا محض ہوس خام اور اس محمل پریہ کلام خود باطل وبے نظام والحمدﷲ ولی الانعام (سب تعریف اﷲ کے لئے جوانعام کامالك ہے۔ ت)
اب محمل دوم کی طرف چلئے جس کا یہ حاصل کہ حدیثوں میں صرف نماز وخطبہ کاذکرہے ان کے بعد نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کادعا مانگنا مذکورنہ ہوا۔
اقول : یہ حضرات مانعین کے لئے نام کوبھی مفیدنہیں ، سائل نے اس فعل خاص بخصوصیت خاصہ کا سیّدعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے صدورپوچھاتھا کہ کس طور پرہوا ، اس کا جواب یہی تھا کہ حضوراقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اس فعل خاص کی نقل جزئی نظر سے نہ گزری مگر اسے عدم جواز کافتوی جان لینا محض جہالت بے مزہ۔
اوّلًا عیداول میں گزراکہ حدیث ام المومنین صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اپنے عموم میں حضوراقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اس دعا کاثبوت فعلی بتارہی ہے۔
ثانیًا ثبوت فعلی نہ ہو تو قولی کیاکم ہے بلکہ من وجہ قول فعل سے اعلٰی واتم ہے۔ اب عید اول کی تقریریں پھریادکیجئے اور حدیث ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا تو بعد نمازعید خود رب مجید جل وعلا کا اپنے بندوں سے تقاضائے دعافرمانا بتارہی ہے ، اس کے بعد اور کسی ثبوت کی حاجت کیاہے ، اگرکہئے وہ حدیث ضعیف ہے اقول : فضائل اعمال میں حدیث ضعیف بالاجماع مقبول اور اثباتِ استحباب میں کافی ووافی ہے کما نص علیہ العلماء الفحول (جیسا کہ اکابرعلماء نے اس پرتصریح فرمائی ہے۔ ت) خود مجیب کے آخرجلددوم کے فتاوٰی میں ہے :
حدیث ضعیف برائے استحباب کافی ست چنانچہ امام ہمام درفتح القدیر درکتاب الجنائز می نویسند والاستحباب یثبت بالضعیف غیرالموضوع انتھی[2]۔
حدیث ضعیف استحباب کے لئے کافی ہوتی ہے جیسا کہ ابن ہمام نے فتح القدیر کے باب الجنائز میں لکھا ہے کہ حدیث ضعیف غیرموضوع سے مستحب ہوناثابت ہوجاتاہے انتہی (ت)
ثالثًا جب شرع مطہر سے حکم مطلق معلوم کہ جواز واستحباب ہے توہرفرد کے لئے جداگانہ ثبوت قولی یافعلی کی اصلًا حاجت نہیں کہ باجماع واطباق عقل ونقل حکم مطلق اپنی تمام خصوصیات میں جاری وساری اطلاقِ حکم کے معنی ہی یہ ہیں کہ اس ماہیت کلیہ یافرد منتشر کاجہاں وجود ہو حکم کاورود ہو اور فردیت بے خصوصیت محال اور وجود عینی وتعین متساوق تو جس قدر خصوصیات وتعینات معقول ہوں سب بالیقین اسی حکم مطلق میں داخل ، جب تك کسی خاص کا استثناء شرع مطہر سے ثابت نہ ہو ، اس قاعدہ جلیلہ کی تحقیق مبین حضرت ختام المحققین امام المدققین حجۃ اﷲ فی الارضین سیّدنا الوالد قدس سرہ الماجد نے کتاب مستطاب اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد میں افادہ فرمائی من شاء فلیتشرف بمطالعتہ(جوچاہے اس کے مطالعہ کا شرف حاصل کرے۔ ت) یہاں اسی قدر کافی کہ خود حضرات وہابیہ کے امام ثانی ومعلم اول میاں اسمٰعیل دہلوی رسالہ بدعت میں لکھتے ہیں :
درباب مناظرہ درتحقیق حکم صورت خاصہ کسے کہ دعوے جریان حکم مطلق درصورت خاصہ مبحوث عنہا می نماید ہمانست متمسك باصل کہ دراثبات دعوے خود حاجت بدلیلے ندارد ودلیل اوہماں حکم مطلق ست وبس[3]۔
مناظرہ میں کسی صورت خاصہ کے ثبوت کے لئے یہ دعوٰی کہ حکم مطلق ہے اور اس کا اطلاق صورتِ خاصہ پر بھی ہوتاہے اصل کے ساتھ استدلال ہے کیونکہ اصل کے ساتھ استدلال میں دلیل کی حاجت نہیں ہوتی یہی دلیل کافی ہے کہ حکم مطلق ہے۔ (ت)
رابعًا ہم صدرجواب میں حضرت ائمہ تابعین سے اس دعا کا ثبوت روایت کرآئے پھر حضوراقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ثبوت نہ ہونے کومانعین کس منہ سے منع ٹھہراسکتے ہیں کہ ان کے نزدیك تشریح احکام تابعین تك باقی رہتی اور ان کے بعد منقطع ہوتی ہے پھر قرن اول سے عدم ثبوت کیامضرومنافی ہے۔
خامسًا ہرعاقل جانتاہے کہ ادعائے ثبوت میں قابل جزم وتصدیق صرف عدم وجدان قائل ہے اور عدم وجدان ، عدم وجود کومستلزم نہیں خصوصًا ابنائے زماں میں ۔ اور امر واضح ہے اور سبرفاضح۔ اورگزرا اشارہ اور آئےگا دوبارہ۔ ہم نے اس کاکچھ بیان اپنے رسالہ صفائح اللجین وغیرہا میں لکھا یہاں اتناہی بس ہے کہ خودمجیب اپنی کتاب السعی المشکورفی ردالمذھب الماثور میں لکھتے ہیں : “ نفی رؤیت سے نفی وجود لازم نہیں ، نظائر اس کے بکثرت ہیں کم نہیں منجملہ ان کے حدیثِ عائشہ ہے جو صحیح بخاری وغیرہ میں مروی ہے :
مارأیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یسبح سبحۃ الضحٰی وانی لاسبحھا [4] انتھی۔
میں نے رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کونماز چاشت اداکرتے نہیں دیکھا اور میں اداکرتی ہوں انتہی(ت)
جب ام المومنین صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے نزدیك عدم ثبوت عدم ثبوت واقعی کومستلزم نہ ہوا توزید وعمر و من وتوکس شمار وقطارمیں ہیں ۔
سادسًا عدم ثبوت مان بھی لیں تو اس کاصرف یہ حاصل کہ منقول نہ ہوا پھر عقلاء کے نزدیك عدم نقل نقل عدم نہیں یعنی اگرکوئی فعل بخصوصہ حضورپرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے منقول نہ ہوتو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضوراقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے کیابھی نہ ہو ، امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں :
[1] منہاج نووی شرح مسلم مع مسلم کتاب صلٰوۃ العیدین مطبوعہ نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ٢٨۹
[2] مجموعہ فتاوٰی محمدعبدالحی کتاب الصلٰوۃ مطبوعہ مطبع یوسفی لاہور ۱ / ٢٤۸
[3] رسالہ بدعت میاں اسمعیل دہلوی
[4] کتاب السعی المشکور لعبدالحی بحث اسکی کہ نفی رؤیت سے نفی وجود لازم نہیں مطبع چشمۂ فیض لکھنؤ ص۱۱۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع