دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

ردالمحتارمیں ہے :

لما رواہ مسلم والترمذی عن عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا قالت کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایقعد الابمقدار مایقول اللھم انت السلام ومنك السلام تبارکت یاذا الجلال والاکرام واما ماورد من الاحادیث فی الاذکار عقیب الصلٰوۃ فلا دلالۃ فیہ علی الاتیان بھا قبل السنۃ

کیونکہ مسلم اور ترمذی نے حضرت عائشہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  سے روایت کیاہے کہ رسول اﷲ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  صرف اللھم انت السلام ومنك السلام تبارکت یاذاالجلال والاکرام کی مقدار ہی بیٹھتے تھے ، اور دیگر روایات میں جونماز کے بعد اذکار کا ذکرہے اس میں یہ دلالت نہیں کہ وہ اذکار سنن سے پہلے ہوتے تھے بلکہ بعد میں بھی بجالائے جاسکتے ہیں

بل یحمل علی الاتیان بھا بعدھا لان السنۃ من لواحق الفریضۃ وتوابعھا ومکملاتھا فلن تکن اجنبیۃ عنہا فمایفعل بعدھا یطلق علیہ انہ عقیب الفریضۃ[1]۔

کیونکہ سنتیں فرائض کے لواحقات ، توابع اور ان کی تکمیل کاسبب ہیں لہٰذا یہ فرائض سے اجنبی نہیں ہیں جو ان سنن کے بعد ہو اس پریہ اطلاق کیاجاسکتاہے کہ وہ فرائض کے بعد ہوا۔ (ت)

ثالثًا مانا کہ مفاد “ فا “ اتصال حقیقی ہے تاہم خوب متنبہ رہناچاہئے کہ حضورپرنورسیّدعالم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے نوبرس عید کی نمازیں پڑھی ہیں تو احادیث متعددہ کا وقائع متعددہ پرمحمول ہوناممکن ، پس اگرایك حدیث صلٰوۃ وخطبہ اوردوسری خطبہ وانصراف میں وقوع اتصال پردلالت کرے اصلًا بکارآمدنہیں کہ ایك بار بعد خطبہ ، دوبارہ بعدنماز دعا کا عدم ثابت نہ ہوگا ، تو (یوں وہ) مقصود سے منزلوں دورہے کما لایخفی۔

رابعًا مسلّم کہ ایك ہی حدیث میں دونوں اتصال مصرح ہوں تاہم بلفظ دوام تواصلًا کوئی حدیث نہ آئی ومن ادعی فعلیہ البیان (اور جو اس کادعوٰی کرتاہے وہ دلیل لائے۔ ت) اور ایك آدھ جگہ صلی فخطب فعاد (نمازپڑھائی ، پس خطبہ دیا اور لَوٹ گئے۔ ت) ہوبھی تو واقعہ حال ہے اور وقائع حال کے لئے عموم نہیں کمانصواعلیہ (جیسا کہ علماء نے اس پرتصریح کی ہے۔ ت) اور ہم قائل وجوب ولزوم نہیں کہ ترك مرۃً ہمارے منافی ہو اور اگر لفظ کان یصلی فیخطب فیعود(آپ نماز پڑھاتے خطبہ دیتے اور لَوٹ جاتے۔ ت) بھی فرض کرلیں توہنوز اس کاتکرار پردلیل ہونا محل نزاع نہ کہ دوام ، خود مجیب اپنے رسالہ غایۃ المقال میں کلام حافظ ابوزرعہ عراقی :

ان فی الصحیحین وغیرھما عن سعید بن یزید قال سألت انس بن مالك کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یصلی فی نعلیہ فقال نعم وظاھرہ ان ھذاکان شانہ وعادتہ المستمرۃ دائما الخ[2]

بخاری و مسلم وغیرہما میں حضرت سعیدبن یزید   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے مروی ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالك   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے پوچھا کہ رسالت مآب   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نعلین کے اندرنماز ادافرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ، اس کے ظاہرسے یہی محسوس ہوتاہے کہ آپ کا دائمی معمول تھا الخ(ت)

نقل کرکے لکھتے ہیں :

ماذکرہ من دلالۃ حدیث انس علی کون العادۃ النبویۃ مستمرۃ بالصلوۃ فی النعال منظورفیہ لعدم وجود مایدل علیہ فیہ ولعلہ استخرجہ من لفظ کان وھو استخراج ضعیف لما نص علیہ الامام النووی فی کتاب صلٰوۃ اللیل من شرح صحیح مسلم من ان لفظ کان لایدل علی الاستمرار والدوام فی عرفھم اصلا[3]۔        

حدیث انس سے ان کا اس پراستدلال کہ نعلین میں نماز اداکرنا حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی عادت دائمی تھی محل نظر ہے کیونکہ الفاظ ِ حدیث میں ایسی کوئی شئ موجودنہیں شاید انہوں نے لفظ کان سے استنباط کیاہو حالانکہ یہ استنباط ضعیف ہے کیونکہ امام نووی نے شرح مسلم کے کتاب صلٰوۃ اللیل میں تصریح کی ہے کہ لفظ کان محدثین کے عرف میں ہرگز دوام و استمرار پردلالت نہیں کرتا۔ (ت)

اس مسئلہ کی تمام تحقیق فقیرکے رسالہ التاج۱۳۰۵ھ المکلل فی انارۃ مدلول کان یفعل میں ہے۔

خامسًا یہ سب تو بالائی کلام تھا احادیث پرنظرکیجئے تو وہ اور ہی کچھ اظہارفرماتی ہیں صحاح ستہ وغیرہا خصوصًا صحیحین میں روایات کثیرہ بلفظ ثم وارد ، ثم فاصلہ ومہلت چاہتاہے تو ادعاکہ احادیث میں اتصال ہی آیا محض غلط بلکہ حرفِ اتصال اگردو ایك حدیث میں ہے تو کلمہ انفصال آٹھ دس میں ، اب روایات سنئے :

حدیث۱ : صحیحین میں حضرت عبداﷲ بن عباس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا   سے ہے :

واللفظ لمسلم قال شھدت صلٰوۃ الفطر مع نبی اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم و ابی بکر وعمر و عثمٰن رضی اﷲ تعالٰی عنھم فکلھم یصلیھا قبل الخطبۃ ثم یخطب[4]۔

مسلم کے الفاظ یہ ہیں کہ میں نے نبی اکرم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ، حضرت ابوبکرصدیق ، حضرت عمر اور حضرت عثمان   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  کی معیت میں نمازعیدالفطر اداکی ان سب نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا۔ (ت)

حدیث۲ : صحیح بخاری میں حضرت عبداﷲ بن عمر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا   سے ہے :

ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یصلی فی الاضحی والفطر ثم یخطب بعد الصلٰوۃ[5]۔

رسول اﷲ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  عیدالاضحی اور عیدالفطر کی نمازپڑھاتے پھرنماز کے بعد خطبہ ارشادفرماتے۔ (ت)

حدیث۳ : اسی کے باب استقبال الامام الناس فی خطبۃ العید میں حضرت براء بن عازب   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے ہے :

خرج النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یوم اضحی فصلی العید رکعتین ثم اقبل علینا بوجھہ وقال الحدیث[6]۔

 



[1]    ردالمحتار فصل واذا ارادوا الشروع الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /  ۳۹۱

[2]    رسالہ غایۃ المقال من مجموعہ رسائل عبدالحی فصل فی الصلٰوۃ مطبع چشمۂ فیض لکھنؤ ص١٠٩

[3]    رسالہ غایۃ المقال من مجموعہ رسائل عبدالحی فصل فی الصلٰوۃ مطبع چشمۂ فیض لکھنؤ ص۱۰٩

[4]    صحیح مسلم کتاب العیدین مطبوعہ نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /  ٢۸۹

[5]    صحیح البخاری  کتاب العیدین  مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /  ١٣۱

[6]    صحیح البخاری کتاب العیدین مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ /  ١٣۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن