دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

العیدالثانی وبجودالحبیب حصول الامانی (اﷲ تعالٰی کی توفیق ہی سے مقاصد کا حصول ہے۔ ت) پہلے وہ فتوی پیش نظررکھ لیجئے کہ مستندین کا حاصل سعی ومبلغ وہم ظاہرہوحاشا اس فتوے میں جواز وعدم جواز کی اصلًا بحث نہیں ، نہ سائل نے اس سے پوچھا نہ مجیب نے ناجائز لکھا بلکہ سوال یوں ہے ماقولھم رحمھم اﷲ تعالٰی (ان   رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی  کاکیاقول ہے۔ ت) اس مسئلہ میں کہ جناب رسول مقبول علیہ الصلٰوۃ والسلام اور اصحاب وتابعین و تبع تابعین و ائمہ اربعہ رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین بعدنماز عیدین کے دعا مانگتے تھے یا بعد پڑھنے خطبہ عیدین کے کھڑے کھڑے یابیٹھ کریابدون ہاتھ اٹھائے بیّنوا و افتوا بسند الکتاب توجرواعنداﷲ یحسن الماب(کتاب کی سند کے ساتھ اسے بیان کرکے اﷲ تعالٰی کے ہاں سے بہتر اجروجزاپاؤ۔ ت)اور جواب یہ ھوالمصوب روایاتِ حدیث سے اس قدر معلوم ہوتاہے کہ آنحضرت   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نمازعید سے فراغت کرکے خطبہ پڑھتے تھے اور بعد اس کے معاودت فرماتے ، دعامانگنا بعد نمازیاخطبہ کے آپ سے ثابت نہیں ، اسی طرح صحابہ کرام و تابعین عظام سے ثبوت اس امرکانظرسے نہیں گزرا۔ واﷲ اعلم 

حررہ الراجی عفو ربہ القوی ابوالحسنات محمد عبدالحی تجاوزاﷲ عن ذنبہ الجلی والخفی

محمدعبدالحَی ابوالحسنات

اقول : وباﷲ التوفیق وبہ العروج علی اوج التحقیق (اﷲ کی توفیق اور تحقیق کی بلندی پراسی سے عروج ہے۔ ت) قطع نظر اس سے محل احتجاج میں کہاں تك پیش ہوسکتاہے حضرات مانعین کو ہرگزمفید ، نہ ہمیں مضر ، جواز و عدم کا تو اس میں ذکر ہی نہیں ، سائل ومجیب دونوں کاکلام ورود وعدم ورود میں ہے پھرمجیب نے صحابہ کرام و تابعین عظام   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  سے ثابت نہ ہونے پرجزم بھی نہ کیا ، صرف اپنی نظر سے نہ گزرنا لکھا اور ہرعاقل جانتاہے کہ نہیں اور نہ دیکھا میں زمین وآسمان کافرق ہے یہ ان کے جو اکابر ماہران فنِ حدیث ہیں بارہا فرماتے ہیں ہم نے نہ دیکھی اور دوسرے محدثین اس کا پتادیتے ہیں فقیرنے اس کی متعدد مثالیں اپنے رسالہ صفائح اللجین فی کون التصافح بکفی الیدین میں ذکرکیں پھریہ نہ دیکھنا بھی مجیب ، خاص اپنابیان کررہے ہیں نہ کہ ائمہ شان نے اس طرح کی تصریح فرمائی ، کہ ایساہوتاتو نظرسے نہ گزرا کے عوض اس امام کا ارشاد نقل کرتے ، خصوصًا جبکہ سائل درخواست کرچکاتھا کہ بیّنوا و افتوابسندالکتاب(کتاب کی سند کے ساتھ بیان کرو اور فتوٰی دو۔ ت) تو آج کل کے ہندی علماء کانہ دیکھنا نہ ہونے کی دلیل کیونکرہوسکتاہے آخرنہ دیکھا کہ فقیرغفرلہ المولی القدیر نے حدیث صحیح سے اس کا نص صریح ، ائمہ تابعین قدست اسرارہم سے واضح کردیا والحمدﷲ رب العٰلمین پھر خصوص جزئیہ سے قطع نظرکیجئے ، جس کا التزام عقلًا ونقلًا کسی طرح ضرور نہیں جب تو فقیرنے خود حضور پر نور سیدالمرسلین   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے جس جس طرح اس کا ثبوت روشن کیا منصف غیرمتعسف اس کی قدرجانے گا والحمدﷲ والمنۃ ، پھر سوال میں تبع تابعین وائمہ اربعہ سے استفسار تھا مجیب نے ان کی نسبت اس قدربھی نہ لکھا کہ نظرسے نہ گزرا ، اب خواہ ان سے ثبوت نہ دیکھا یاپوری بات کاجواب نہ ہوا ، بہرحال محل نظر واسناد مستند صرف اس قدر کہ مجیب حضوراقدس   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے نفی ثبوت کرتے ہیں اور تقریب یہ کہ حدیثوں میں یہی وارد ہے کہ نماز کے متصل خطبہ اور خطبہ کے متصل معاودت فرماتے تو دعا کا وقت کون سارہا ، اس تقدیر پرثبوتِ عدم کا ادعاہوگا ، دوسرے یہ کہ حدیثوں میں صرف نماز وخطبہ ومعاودت کاذکرہے دعامذکور نہیں ، یہ عدم ثبوت کادعوٰی ہوگا ، اور کلام مجیب سے یہی ظاہرہے کہ ثابت نہیں ، کہتے ہیں ، نہ کہ نہ کرنا ہی ثابت ہے ، اور لفظ “ اسی قدرمعلوم ہوتاہے “ بھی اسی طرف ناظر ، کہ اگر اس سے اثبات عدم مقصود ہوتا توطرزادا یہ تھی ، کہ حدیثوں سے صاف ثابت کہ نماز وخطبہ ومعاودت میں فصل نہ تھا ، پس دعانہ مانگنا ثابت ہوا ، باینہمہ شاید حضرات مانعین اپنے نفع کے گمان سے کلام مجیب کو خواہ مخواہ محمل اول پرحمل کریں ، لہٰذا فقیرغفرلہ المولی القدیر دونوں محمل پرکلام کرتاہے وباﷲ التوفیق۔

محمل اول پریہ کلام خود ہی بوجوہ کثیر باطل :

اوّلًا یہ تو اصلًا کسی حدیث میں نہیں کہ حضورپرنورسیدعالم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سلام پھیرتے ہی بفورحقیقی معًا خطبہ فرماتے تھے اور خطبہ ختم فرماتے ہی بے فصل فورًا واپس تشریف لاتے ، غایت یہ کہ کسی حدیث میں فائے تعقیب آنے سے استدلال کیاجائے گا مگر وہ ہرگز اتصال حقیقی پردال نہیں کہ دو حرف دعا سے فصل کی مانع ہو ، فواتح شرح مسلم میں فرمایا :

الفاء للترتیب علٰی سبیل التعقیب من غیر مھلۃ وتراخ ،  یعد فی العرف مھلۃ وتراخیا[1]۔

فاء ترتیب کے لئے ہے یہ بغیر مہلت وتراخی کے تعاقب کے لئے ہے عرف میں اسے مہلت شمار کیاجاتاہے اور تراخی بھی صحیح ہے۔ (ت)

یاہذا یہ ، تدقیقات ضیفۂ فلسفیہ نہیں ، محاورات صافیہ عرفیہ ہیں ، اگر زید وعدہ کرلے نماز پڑھ کر فورًا آتاہوں تونماز کے بعد معمولی دوحرفی دعاہرگز عرفًا یاشرعًا مبطل فور وموجب خلاف وعدہ نہ ہوگی ، مسئلہ سجود تلاوت صلاتیہ میں سناہی ہوگا کہ دو آیتیں بالاتفاق اور تین علی الاختلاف قاطع فورنہیں ۔

ثانیًا دعاتابع ہے اور توابع فاصل نہیں ہوتے ، واجبات میں ضم سورت سناہوگا مگرآمین فاصل نہیں کہ تابع فاتحہ ہے ، حضورپرنورسیدیوم النشور   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے تسبیح حضرت بتول زہرا صلوات اﷲ وسلامہ علٰی ابیہا الکریم وعلیہا کی نسبت فرمایا :

معقبات لایخیب قائلھن[2]۔  رواہ احمدومسلم والترمذی والنسائی عن کعب بن عجرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔

کچھ کلمات نماز کے ابعد بلافاصلہ کہنے کے ہیں جن کا کہنے والا نامرادنہیں رہتا۔ اسے امام احمد ، مسلم ، ترمذی اور نسائی نے حضرت کعب بن عجرہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت کیاہے۔

بااینہمہ علمافرماتے ہیں اگرسنن بعدیہ کے بعد پڑھے تعقیب میں فرق نہ آئے گا کہ سنن توابع فرائض سے ہیں دُرمختار میں ہے :

یکرہ تاخیرالسنۃ الابقدر اللھم انت السلام[3]الخ

سنتوں میں اللھم انت السلام الخ کی مقدار سے زائد تاخیرمکروہ ہے۔ (ت)

 



[1]    فواتح الرحموت بذیل المستصفی مسئلہ الفاء للترتیب مطبوعہ مطبعۃ امیریہ قم ایران ١ /  ۲٣٤

[2]    سنن النسائی نوع آخر من عددالتسبیح مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /  ۱۹۸

[3]    درمختار فصل واذا ارادوا الشروع الخ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /  ۷۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن