30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایہاالمسلمون تم نے اپنے مولا جل وعلا اور اپنے رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ارشادات سنے ان میں کہیں بھی تخصیص وتقیید کی بوہے ، یہ تو بارہا فرمایا کہ دعاکرو ، کہیں یہ بھی فرمایاکہ فلاں نمازکے بعدنہ کرو؟ یہ تو صاف ارشاد ہوا ہے کہ جس وقت دعاکروگے میں سنوں گا ، کہیں یہ بھی فرمایا کہ فلاں وقت کروگے تو سنوں گا؟ یہ تو بتاکید باربار حکم آیا ہے کہ دعا سے عاجزنہ ہو ، دعامیں کوشش کرو ، دعا کو لازم پکڑو ، دعا کی کثرت رکھو ، رات دن دعامانگو ، کہیں یہ بھی فرمایا ہے کہ فلاں نماز کے بعد نہ مانگو؟ یہ توڈر سناگیاہے کہ جو دعانہ مانگے گا اس پرغضب ہوگا ، کہیں یہ بھی فرمایا ہے کہ فلاں نماز کے بعد جومانگے گا اس سے اﷲ تعالٰی ناراض ہوگا؟ـ اور جب کہیں نہیں تو خداورسول جل جلالہ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جس چیز کو عام ومطلق رکھا دوسرا اسے مخصوص ومقیدکرنے والاکون؟ خداورسول عزمجدہ ، و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جس چیزسے منع نہ فرمایادوسرا اسے منع کرنے والا کون؟ قال تعالٰی :
وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ(۱۱۶) [1]
اور نہ کہو اسے جو تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اﷲ پر جھوٹ باندھو بیشك جو اﷲ پرجھوٹ باندھتے ہیں ان کابھلا نہ ہوگا۔
اصل یہ ہے کہ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِؕ- [2] حکم صرف خداہی کے لئے ہے۔ جس چیز کو اس نے کسی ہیأتِ خاصہ محل معین سے مخصوص اور اس پر مقصورومحصور فرمایا اس سے تجاوز جائزنہیں ، جو تجاوزکرے گا دین میں بدعت نکالے گا اور جس چیز کو اس نے ارسال واطلاق پررکھا ہرگز کسی ہیأت ومحل پرمقتصرنہ ہوگی اورہمیشہ اپنے اطلاق ہی پررہے گی جو اس سے بعض صور کو جداکرے گا دین میں بدعت پیداکرے گا ، ذکرودعا اسی قبیل سے ہیں کہ زنہار شرع مطہر نے انہیں کسی قیدوخصوصیت پرمحصورنہ فرمایابلکہ عمومًا ومطلقًا ان کی تکثیر کاحکم دیا۔ دعا کے بارے میں آیات وحدیث سن ہی چکے اور دلائل مطلقہ تکثیر ذکرجنہیں اس سلسلہ شمارمیں (خامسًا) کہئے کہ ہر دعا بالبداہۃ ذکرالٰہی ہے اور اس پرعلما نے تنصیص بھی فرمائی ، مولانا قاری شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں : کلہ دعاء ذکر (ہردعاذکرہے۔ ت) تو اجازت عامہ ذکرکے دلائل بعینہا اجازت عامہ کے دلائل ہیں کہ تعمیم افراد اعم عــــہ یامساوی ، لاجرم تعمیم افراد اخص ومساوی ہے کمالایخفی (جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ ت) ان دلائل جلائل کاوفور کامل حداحصاکا طرف مقابل ، فقیرغفرلہ المولی القدیر نے اپنے رسالہ نسیم الصبا فی ان الاذان یحول الوباء میں اس مدعا پر بکثرت آیات وحادیث لکھیں ، ازانجملہ حدیث حسن ابوسعیدخدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضوراقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :
عــــہ : ذکر اعم صرف بنظرکلیہ حاضرہ ہے ورنہ سابق گزرا کہ دوسری طرف سے یہی کلیہ ہے تو دعا وذکرقطعًا متساوی اور اب اتحاد ادلہ اوریہی واضح وجلی ۱۲منہ (م)
اکثرواذکراﷲ حتی یقولوامجنون [3]۔
ذکرِالٰہی کی یہاں تك کثرت کرو کہ لوگ مجنون بتائیں ۔
وحدیث حسن عبداﷲ بن بُسر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سیدعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : لایزال لسانك رطبا من ذکراﷲ[4] ہمیشہ ذکرالٰہی میں ترزبان رہ۔
حدیث جیّدالاسناد ام انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا حضورِوالا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :
اکثری من ذکراﷲ فانك لاتاتین بشیئ احب الیہ من کثرۃ ذکرہ[5]۔
اﷲ کاذکر بکثرت کرکہ تو کوئی چیزایسی نہ لائے جو خدا کو اپنی کثرتِ ذکرسے زیادہ پیاری ہو۔
وحدیث ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سرورِعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :
من لم یکثر ذکراﷲ فقد برئ من الایمان[6]
جو ذکرالٰہی کی کثرت نہ کرے وہ ایمان سے بیزارہوگیا۔
وحدیث صحیح ام المومنین صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا :
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یذکر اﷲ تعالٰی علٰی کل احیانہ[7]۔
حضورپرنورسیدالمرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہروقت ذکرخدا فرمایاکرتے۔
الٰی غیرذٰلك من الاحادیث والاٰثار(ان کے علاوہ متعدد احادیث وآثار ہیں ۔ ت) یہاں صرف بعض آیات اور ان کی تفسیروں پراقتصارہوتاہے جوعموم تمامی اوقات واحوال میں نص ہیں : آیت١ : قال جل ذکرہ :
فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْۚ- [8]
اﷲ کاذکر کروکھڑے اوربیٹھے اور اپنی کروٹوں پر۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع