30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آپ مسجد میں تشریف فرماتھے ، آپ نے اسے تناول فرمایا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ گوشت روٹی کھائی ، پھر کھڑے ہوئے نماز پڑھی اور ہم نے آپ کے ساتھ نماز ادا کی ، اور ہم نے سوائے اس کے کچھ نہ کیا کہ اپنے ہاتھ پتھروں کے ساتھ صاف کئے ۔ ت) بیّنواتوجروا۔
الجواب :
مسجد١ میں معتکف کو سونا تو بالاتفاق بلاکراہت جائز ہے اور اس کے غیر کے لئے ہمارے علماء کے تین٣ قول ہیں : اول یہ کہ مطلقًا صرف خلاف اولٰی ہے :
صححہ فی الھندیۃ عن خزانۃ الفتاوی ومشی علیہ فی جامع الاسبیجابی کما نقلہ ابن کمال باشا والکافی فی معراج الدرایۃ والیہ یمیل کلام الدرفی الاعتکاف قلت وفیہ حدیث ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
اس کی ہندیہ میں خزانۃ الفتاوٰی کے حوالے سے تصحیح کی ہے اور جامع الاسبیجابی نے اسی کو اختیار کیا ، جیسا کہ اسے ابن کمال باشا نے نقل کیا اور کافی نے معراج الدارایہ میں ، اعتکاف میں درکا کلام بھی اسی طرف مائل ہے ، میں کہتا ہوں اس میں حضرت ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی حدیث ہے۔ (ت)
دوم مسافر کو جائز ہے اس کے غیر کو منع ،
وبہ جزم فی الاشباہ وعلیہ مشی فی الدر قبیل باب الوتر۔
اسی پر اشباہ میں جزم ہے ، در میں باب الوتر سے تھوڑا پہلے اسی کو اختیار کیا ہے۔ (ت)
سوم معتکف کے سوا کسی کو جائز نہیں :
وبہ جزم فی السراجیۃ وفی جامع الفتاوٰی ومنیۃ المفتی وغمزالعیون ومتن الوقایۃ وغیرھا من المعتمدات۔
سراجیہ ، جامع الفتاوٰی ، منیۃ المفتی ، غمزالعیون ، متن الوقایہ اور دیگر کتب میں اسی پر جزم کی گیا ہے ۔ (ت)
اور یہ کراہت کراہتِ تحریم ہے ،
لقولہ یمنع منہ وانما المنع عن المکروہ
کیونکہ اس کا قول ہے : اس سے منع کیا گیا ہے اور
تحریما واماکراھۃ التنزیہ فتجامع الاباحۃ کمافی ردالمحتار وغیرہ۔
منع مکروہ تحریمی سے ہوتا ہے ، کراہت تنزیہی تو اباحت کے ساتھ جمع ہوجاتی ہے جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔ (ت)
اقول : تحقیق امر یہ ہے کہ مرخص وحاظر جب جمع ہوں حاظر کو ترجیحٰ ہوگی اور احکام تبدلِ زمان سے متبدل ہوتے ہیں ومن لم یعرف اھل زمانہ فھو جاھل ( جو شخص اپنے زمانے کو لوگو ں کے احوال سے اگاہ نہیں وہ جاہل ہے۔ ت) اور ہمیں رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہاں ایك ضابطہ کلیہ فرمایا ہے جس سے ان سب جزئیات کا حکم صاف ہوجاتاہے فرماتے ہیں رسول اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
من سمع رجلا ینشد ضالۃ فی المسجد فلیقل لاردھا اﷲ علیك فان المساجد لم تبن لھٰذا [1]۔ رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جو کسی شخص کو سنے کہ مسجد میں اپنی گم شدہ چیز دریافت کرتا ہے تو اس پر واجب ہے کہ اس سے کہے اﷲ تیری گمی چیز تحجھے نہ ملائیے مسجدیں اس لئے نہیں بنیں ، اسے مسلم نے ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا ۔ (ت)
اسی حدیث کی دوسری روایت میں ہے :
اذارأیتم من یتباع فی المسجد فقولوا لااربح اﷲ تجارتک [2] رو الترمذی وصححہ والحا کم عنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جب تم کسی کو مسجد میں خرید وفروخت کرتے دیکھوتو کہو اﷲ تیرے سودے میں فائدہ نہ دے ۔ اسے ترمذی نے روایت کیا اور اسے صحیح کہا اور حاکم نے ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا ۔ (ت)
اور ظاہر ہے کہ مسجدیں سونے۔ کھانے پینے کو نہیں بنیں تو غیر معتکف کو اُن میں ان افعال کی اجازت نہیں اور بلاشبہ اگر ان افعال کا دروازہ کھولا جائے تو زمانہ فاسد ہے اور قلوب ادب وہیبت سے عاری ، مسجدیں چو پال ہوجائیں گی اور ان کی بے حرمتی ہوگی وکل ماادی الی محظور محظور (ہر وہ شخص جو ممنوع تك پہنچائے ممنوع ہوجاتی ہے۔ ت) جو بخیالِ تہجّد یا جماعتِ صبح مسجد میں سونا چاہے تو اسے کیا مشکل ہے
اعتکاف کی نیت کرلے کچھ حرج نہیں ، کچھ تکلیف نہیں ، ایك عبارت بڑھتی ہے۔ اور سونا بالاتفاق جائز ہوا جاتاہے ، منیۃا لمفتی پھر غمز العیون اور سراجیہ پھر ہندیہ پھر ردالمحتار میں ہے :
واذا اراد ذلك ینبغی ان ینو ی الاعتکاف فیدخل فیذکراﷲ تعالٰی بقدر مانوی اویصلی ثم یفعل ماشاء [3]۔ واﷲ تعالٰی اعلم
جب ارداہ کرے کھانے پینے کا ، تو اعتکاف کی نیت کرے ، پھر مسجد میں داخل ہوجائے ۔ پس اﷲ تعالٰی کا ذکر نیت کے مطابق کرے یا نماز پڑھے ، پھر وہاں جو چاہے کرے ، واﷲتعالٰی اعلم(ت)
[2] جامع الترمذی ابواب البیوع باب النہی عن البیع فی المسجد مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ١ / ١٥٨
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع