30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جب تم میں کوئی کسی جلسے میں بیٹھے تو زنہار وہاں سے نہ ہٹے جب تك تین٣بار یہ دعا نہ کرلے “ پاکی ہے تجھے اے رب ہمارے ، اور تیری تعریف بجالاتا ہوں ، تیرے سوا کوئی سچّا معبود نہیں میرے گناہ بخش اور مجھے توبہ دے “ کہ اگراس جلسے میں اس نے کوئی نیك بات کہی ہے تو یہ دُعا اس پر مہر ہوجائے گی اور اگر وہ جلسہ لغو تھا جوکچھ اس میں گزرایہ دعا اس کا کفارہ ہوجائےگی۔
یہ لفظ بہ روایت امام ابو بکر ابن ابی الدنیا حدیثِ جبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ہیں ، اور ابو برزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی حدیث میں یوں ہے :
کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
حضور سیّد عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب کوئی
اذاجلس یقول فی اٰخرہ اذا اراد ان یقوم من المجلس سبحٰنك اللھم وبحمدك اشھد ان لا الٰہ الاانت استغفرك واتوب الیک[1]۔
جلسہ فرماتے تو ختم اُٹھتے وقت یہ دعا کرتے “ تیری پاکی بولتا اور تیری حمد وثنا میں مشغول ہوتا ہوں اے اﷲ! میں گواہی دیتا ہوں تیرے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں میں تیری مغفرت مانگتا اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں “ ۔
اسی طرح رافع بن خدیج رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی حدیث میں لفظ اراد ان ینھض[2]ہے یعنی جب اُٹھنا چاہتے یہ دُعا فرماتے۔ اور انہوں نے بعدِ الفاظِ مذکورہ دُعا میں اتنے الفاظ اور زائدکئے :
عملت سوءً وظلمت نفسی انہ لا یغفر الذنوب الّاانت۔ [3]
میں نے بُرا کیا اور اپنی ہی جان کو آزار پہنچایا اب میری مغفرت فرمادے بیشك تیرے سوا کوئی گناہ معاف کرنے والا نہیں ۔
حدیث ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ دعا میں مثل حدیث ابو برزہ ہے اُس میں بھی ارشاد ہوا : قبل ان یقوم من مجلسہ[4] کھڑے ہونے سے پہلے دُعا کرتے۔ غرض اس حدیث صحیح مشہور علی اصول المحدثین میں جسے امام ترمذی نے حسن صحیح اور حاکم نے برشرط مسلم صحیح اورمنذری نےجیّدالاسانیدکہا ، حضور پُرنور سیّد عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عام ارشاد وہدایت قولی وفعلی فرماتے ہیں کہ آدمی کوئی جلسہ کرے اُس سے اُٹھتے وقت یہ دعا ضرور کرنی چاہئے کہ اگر جلسہ خیر کا تھا تو وہ نیکی قیامت تك سر بمہر محفوظ رہے گی اور لغو تھا تو وہ لغو باذن اﷲ محو ہوجائے گا تو لفظ ومعنی دونوں کی رُو سے ثابت ہوا کہ ہرمسلمان کو ہرنماز کے بعد بھی اس دُعا کی طرف اشارہ فرمایا گیا جہت لفظ سے تو یوں کہ مجلس نکرہ سیاقِ شرط میں واقع ہے عام ہوا ، تلخیص الجامع الکبیر میں ہے :
النکرۃ فی الشرط تعم وفی الجزاء تخص کھی فی النفی والاثبات [5]۔
نکرہ مقامِ شرط میں عموم اور مقامِ جزا میں خصوص کا فائدہ دیتا ہے جیسا کہ نفی و اثبات میں ہے۔ (ت)
جامع صغیر میں ہے :
انہ نکرۃ فی موضع الشرط وموضع الشرط نفی والنکرۃ فی النفی تعم[6]۔
یہ موضع شرط میں نکرہ ہے اور مقام شرط نفی ہے اور نکرہ مقامِ نفی میں عموم کا مفید ہوتا ہے۔ (ت)
معہذا اسمائے شروط سب صورتوں کو عام ہوتے ہیں ، امام محقق علی الاطلاق فتح میں فرماتے ہیں :
اذا عام فی الصورعلی ماھوحال اسماء الشرط[7]۔
ذا تمام صورتوں میں عام ہے جیسا کہ اسماءِ شرط کا حال ہوتا ہے۔ (ت)
تو قطعًا تمام صلواتِ فریضہ و واجبہ ونافلہ کے جلسے اس حکم میں داخل اورادعائے تخصیص بے مخصص محض مردود وباطل ، اور جہت معنی سے یوں کہ جلسہ خیر سے اُٹھتے وقت یہ دُعاکرنا اُس خیرکے نگاہداشت کے لئے ہے تو خیر جس قدر اکبر واعظم اُسی قدر اس کا حفظ ضروری و اہم ، اور بلاشبہہ خیر نماز سے سب چیزوں سے افضل واعلٰی تو ہر نماز کے بعد اس دعاکا مانگنا مؤکد تر ہوا یارب ، مگر نمازِعیدین نماز نہیں یا اس کے حفظ کے جانب نیاز نہیں یاحضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بنفس نفیس جلسۂ نماز کو اس حکم میں داخل فرمایا تخریج حدیث تو اوپر سُن چکے کہ نسائی وابن ابی الدنیا نے وحاکم وبیہقی نے روایت کی اب لفظ سنئے ، سنن نسائی کی نوع من الذکر بعد التسلیم میں ہے :
عن عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا قالت ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم
یعنی ام المومنین صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں حضور پُرنور سیّد عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب
کان اذا جلس مجلسا او صلی تکلم بکلمات و سالتہ عائشۃ عن الکلمات فقال ای تکلم بخیر کان تابعا علیھن یوم القٰی مۃ وان تکلم بشر کان کفارۃ لہ ، سبحٰنك اللہم و بحمدك استغفرك و اتوب الیک۔ [8]
[1] الترغیب والترہیب بحوالہ سنن ابی داؤد کتاب الذکر والدعاء مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۲ / ۴۱۱ ، سنن الدارمی ۲۹۔ باب فی کفارۃ المجلس مطبوعہ مدینہ منورہ (حجاز) ۲ / ۱۹۵
[2] المستدرك علی الصحیحین کتاب الدعاء دعاء کفارۃ المجالس مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۵۳۷ ، الترغیب والترہیب بحوالہ سنن نسائی وحاکم وابوداؤد وابن حبان مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۲ / ۴۱۱
[3] الترغیب والترہیب بحوالہ سنن نسائی وحاکم وابوداؤد وابن حبان مطبوعہ مصطفی البابی مصر ٢ / ٤١۱
[4] الترغیب والترہیب بحوالہ سنن نسائی وحاکم وابوداؤد وابن حبان مطبوعہ مصطفی البابی مصر ٢ / ٤١۱ ، جامع الترمذی ابواب الدعوات مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۱۸۱
[5] تلخیص الجامع الکبیر
[6] الجامع الصغیر
[7] فتح القدیر
[8] سنن النسائی کتاب السہو نوع من الذکر بعد التسلیم مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۱۹۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع