30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ٹھہری وہو المقصود۔ ثم اقول : اگرمجمع عیدین کے لئے شرع میں کوئی خصوصیت نہ آتی تو اس عموم میں دخول ثابت تھا نہ کہ احادیث نے اُس کی خصوصیت عظیم ارشاد فرمائی اوراُس میں دُعا پر نہایت تحریص وترغیب آئی یہاں تك کہ حضور پُرنور سیدالمرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُس زمانۂ خیر و صلاح میں کہ فتنہ وفساد سے یکسر پاك و منزہ تھا حکم دیتے کہ عیدین میں کنواریاں اور پردہ نشین خاتونیں باہر نکلیں اورمسلمانوں کی دُعا میں شریك ہوں حتی کہ حائض عورتوں کو حکم ہوتا مصلّے سے الگ بیٹھیں اور اس دن کی دُعا میں شریك ہوجائیں ، امام احمد واصحابِ صحاح ستّہ حضرت امِّ عطیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے راوی حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :
تخرج العواتق وذوات الخدور والحیض ویعتزل الحیض المصلی ویشھدن الخیر ودعوۃ المسلمین[1]۔
نوجوان کنواریاں اور پردہ والیاں اور حائض سب عید گاہ کو جائیں اورحیض والیاں عید گاہ سے الگ بیٹھیں اور اس بھلائی اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر ہوں ۔
صحیح بخاری کی دوسری روایت ان لفظوں سے ہے :
قالت کنا نومر ان نخرج یوم العید حتی تخرج البکرمن خدرھا حتی تخرج الحیض فیکنّ خلف الناس فیکبرن بتکبیرھم ویدعون بدعائھم یرجون برکۃ ذلك الیوم وطھرتہ[2]۔
یعنی ام عطیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ ہم عورتوں کوحکم دیا جاتا تھا کہ عید کے دن باہر جائیں یہاں تك کہ کنواری اپنے پردے سے باہر نکلے یہاں تك کہ حیض والیاں باہر آئیں صفوں کے پیچھے بیٹھیں مسلمانوں کی تکبیر پر تکبیر کہیں اوراُ ن کی دُعا کے ساتھ دُعا مانگیں اس دن کی برکت پاکیزگی کی امیدیں ۔
امام بیہقی اور ابو الشیخ ابن حبان کتاب الثواب میں حضرت عبداﷲ بن عباس عــــہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا
عــــہ : اقول : اس حدیث نفیس کا شاہد بروایت امام عقیلی حدیث انس بن مالك رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مرویات فقیر میں بندہ ضعیف سےحضور پُر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تك سند موجود ہے الحمد ﷲ ۱۲منہ(م)
سے راوی :
انہ سمع رسول ﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یقول اذاکانت غداۃ الفطربعث اﷲعزوجل الملئکۃ فی کل بلد(وذکر الحدیث الی ان قال)فاذابرزوا الی مصلاھم فیقول اﷲ عزوجل (وساق الحدیث الی ان قال) ویقول یاعبادی سلونی فوعزتی وجلالی لاتسئلونی الیوم شیئا فی جمعکم لاٰخرتکم الااعطیتکم ولا لدنیاکم الانظرت لکم ، فوعزّتی لاسترن علیکم عثراتکم مار اقبتمونی وعزّتی وجلالی لااخزیکم ولاافضحکم بین اصحاب الحدود وانصرفوا مغفورا لکم قد ارضیتمونی ورضیت عنکم[3] (مختصرمن حدیث طویل)
یعنی حضور پر نور سیّد یوم النشور علیہ افضل الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا : جب عید کی صبح ہوتی ہے مولٰی سبحٰنہ تعالٰی ہر شہر میں فرشتے بھیجتا ہے(اس کے بعد حدیث میں فرشتوں کا شہر کے ہر ناکہ پر کھڑا ہونا اور مسلمانو ں کو عیدگاہ کی طرف بلانا بیان فرمایا ، پھر ارشاد ہوا جب مسلمان عیدگاہ کی طرف میدان میں آتے ہیں (مولٰی سبحٰنہ تعالٰی فرشتوں سے یوں فرماتا ہے اور ملائکہ اس سے یوں عرض کرتے ہیں ) پھر فرمایارب تبارك وتعالٰی مسلمانوں سے ارشاد فرماتا ہے اے میرے بندو!مانگو کہ قسم مجھے اپنی عزت وجلال کی آج اس مجمع میں جو چیز اپنی آخرت کے لئے مانگو گے میں تمہیں عطافرماؤں گااورجو کچھ دنیا کا سوال کروگے اس میں تمہارے لئے نظر کروں گا(یعنی دنیا کی چیز میں خیر و شر دونوں کومتحمل ہیں اورآدمی اکثر اپنی نادانی سے خیر کو شر ، شرکوخیر سمجھ لیتا ہے ، اور اﷲ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے لہذا دنیا کے لئے جو کچھ مانگو گے اُس میں بکمال رحمت ، نظر فرمائی جائے گی ، اگر وُہ چیز تمہارے حق میں بہتر ہوئی عطاہوگی ورنہ اس کے برابر بلا دفع کریں گے یادُعاروزِقیامت کے لئے ذخیرہ رکھیں گے اور یہ بندے کے لئے ہر صورت سے بہتر ہے مجھے اپنی عزت کی قسم ہے جب تك تم میرا مراقبہ رکھوگے میں تمہاری لغزشوں کی ستاری فرماؤں گا مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم میں تمہیں اہل کبائر میں فضیحت و رسوا نہ کروں گا پلٹ جاؤ مغفرت پائے ہوئے ، بیشك تم نے مجھے راضی کیا اور میں تم سے خوشنود ہُوا۔
فقیر غفر لہ الغنی القدیر کہتا ہے اس کلام مبارك کا اوّل یاعبادی سلونی ہے یعنی میرے بندو! مجھ سے دعا کرو ، اور آخر انصرفوا مغفورا لکم گھروں کو پلٹ جاؤ تمہاری مغفرت ہوئی۔
توظاہر ہُوا کہ یہ ارشاد بعد ختمِ نماز ہوتا ہے ختم نماز سے پہلے گھروں کو واپس جانے کاحکم ہرگز نہ ہوگا تواس حدیث سے مستفاد کہ خود رب العزّت جل وعلا بعد نمازِ عید مسلمانوں سے دُعا کا تقاضا فرماتا ہے ، پھر وائے بدبختی اُس کی جو ایسے وقت مسلمانوں کو اپنے رب کے حضور دُعا سے روکے نسأل اﷲ العفو والعافیۃ اٰمین(ہم اﷲ سے فضل وبخشش طلب کرتے ہیں ۔ آمین ۔ ت) ثالثًا اقول : وباﷲالتوفیق ۱ابوداؤد و ترمذی ونسائی وابن حبان وحاکم باسانید صحیحہ جیّدہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور ۲ابو داؤد و دارمی و ابوبکر بن ابی شیبہ استادبخاری ومسلم حضرت ابو برزہ اسلمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور ۳نسائی و طبرانی بسند صحیح و ابن ابی الدنیا اورحاکم بافادہ تصحیح حضرت جبیر بن معطم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور۴نسائی و ابن ابی الدنیا و حاکم وبیہقی حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت کرتے ہیں حضور پُرنور سید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :
اذاجلس احدکم فی مجلس فلایبرحن منہ حتی یقول ثلث مرات سبحٰنك اللھم ربنا وبحمدك لاالٰہ الا انت اغفرلی وتب علی فان کان اتی خیرا کان کالطابع علیہ وان کان مجلس لغو کان کفارۃ لماکان فی ذلك المجلس[4]۔
[1] صحیح البخاری باب شہود الحائض العیدین الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ۴۷ و ۱۳۴
[2] صحیح البخاری باب شہود الحائض العیدین الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۳۲
[3] شعب الایمان ٢٣باب فی الصیام فصل فی لیلۃ القدر مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳ / ۳۷۔ ۳۳۶
[4] الترغیب والتراہیب بحوالۂ ابن ابی الدنیا کتاب الذکر والدعاء مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۲ / ۴۱۱ ، المعجم الکبیر مروی از جبیر بن مطعم مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۲ / ۱۳۹ ، المستدرك علی الصحیحین کتاب الدعاء مطبوعہ دارالفکر بیروت ١ / ٥٣٧
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع