30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بیشك تمہارے رب کے لئے تمھارے زمانے کے دنوں میں کچھ وقت عطا وبخشش وتجلی وکرم وجود کے ہیں تو انہیں پانے کی تدبیر کرو شاید ان میں سے کوئی وقت تمہیں مل جائے تو پھر کبھی بدبختی تمہارے پاس نہ آئے۔ اسے طبرانی نے کبیر میں محمد بن مسلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا۔
اور خود حدیث نے اُن اوقات سے ایك وقت اجتماع مسلمین کا نشان دیا کہ ایك گروہِ مسلمانان جمع ہوکر دعا مانگے کچھ عرض کریں کچھ آمین کہیں ۔ کتاب المستدرك علی البخاری ومسلم میں ہے :
عن حبیب بن مسلمۃ الفھری رضی اﷲ تعالٰی عنہ وکان مجاب الدعوۃ قال سمعت رسول اﷲ
یعنی حبیب بن مسلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہ مستجاب الدعوات تھے ، فرماتے ہیں کہ میں نے حضور پُرنورسید عالم
یقول لایجتمع ملؤ فیدعوبعضھم یؤمّن بعضعم الا اجابھم اﷲ[1]۔
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے سنا کہ کوئی گروہ جمع نہ ہوگاکہ اُن بعض دعا کریں بعض آمین کہیں ، مگر یہ کہ اﷲ عزوجل اُن کی دعا قبول فرمائےگا۔
علماء نے مجمعِ مسلمان کو اوقاتِ اجابت سے شمار کیا۔ حصن حصین میں ہے : واجتماع المسلمین [2]ع یعنی مسلمین کا اوقاتِ اجابت سے ہونا حدیثِ صحاح ستّہ سے مستفاد ہے۔ علی قاری شرح میں فرماتے ہیں :
ثم کل مایکون الاجتماع فیہ اکثر کالجمعۃ والعیدین وعرفۃ یتوقع فیہ رجاء الاجابۃ اظھر[3]۔
یعنی جس قدر مجمع کثیر ہوگا جیسے جمع وعیدین و عرفات میں ، اسی قدر امیدِ اجابت ظاہرتر ہوگی۔
فقیر غفراﷲ کہتا ہے پھر دُعائے نماز پر اقتصار ہرگز شرعًا مطلوب نہیں بلکہ اس کے خلاف کی طلب ثابت ، خود حدیث سے گزراحضور پُرنور سیّدِیوم النشور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہر دو رکعت نفل کے بعد ہاتھ اُٹھا کر دُعامانگنے کا حکم دیا اورجو ایسا نہ کرے اس کی نماز کو ناقص بتایا ، حالانکہ نماز میں دُعائیں ہوچکیں اوروہ وقت چاربار آیا جو انتہائی درجہ قُرب الہٰی کا ہے یعنی سجود جس میں بالتخصیص حکمِ دُعا تھا ، حضور پُرنور سیّد المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں ۔
اقرب مایکون العبد من ربہ وھوساجد فاکثروا الدعاء[4]۔ رواہ مسلم وابوداؤد والنسائی عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
سب سے زیادہ قرب بندے کو اپنے رب سے حالتِ سجودمیں ہوتاہے تو اس میں دعا کی کثرت کرو۔ اسےمسلم ، ابوداؤد اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا۔
بلکہ اگر سوال نہ بھی ہوں تو تسبیح کہ سجود میں ہوتی ہے خود دعاہے کہ وہ ذکر ہے اور ہر ذکردعا۔ مولانا علی قاری مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں : کل ذکردعاء [5](ہر ذکر دُعاہے۔ ت) امام حافظ الدین النسفی کافی شرح وافی کی فصل فی تکبیر التشریق میں فرماتے ہیں :
قال تعالٰی اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةًؕ-[6]۔
اﷲ تعالٰی کافرمان مبارك ہے : تم اپنے رب کو پکارو گڑ گڑا کر اور آہستہ (ت)
کل ذکردعاء[7] (ہرذکر دعاہے۔ ت) اس معنی پر فقیر نے اپنے رسالہ “ ایذان الاجرفی اذان القبر “ (دفن کرنے کے بعد قبر پراذان کے جواز پر نادر تحقیق۔ ت)میں دلائل واضحہ ذکر کئے اور اس سے زیادہ کلام مستوفی فقیر کے رسالہ “ نسیم الصبا فی ان الاذان یحول الوباء “ (صبح کی ہوا اس بارے میں کہ اذان سے وباء ٹل جاتی ہے۔ ت) میں ہے ، امام بخاری نے اپنی صحیح کی کتاب الدعوات میں باب الدعا اذاھبط وادیا(جب کسی نچلی جگہ اُترے تو دعا کرے۔ ت) وضع کیا اوراس میں فرمایا : فیہ حدیث جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ[8] (اس بارے میں حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے حدیث مروی ہے۔ ت) ارشاد الساری میں ہے :
فیہ ای فی الباب حدیث جابر الانصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ السابق فی باب التسبیح اذاھبط وادیا من کتاب الجھاد بلفظ کنا اذا صعدنا کبّرنا و انزلنا سبّحناھذا اٰخرالحدیث اھ بحذف السند۔
اس میں یعنی اس مسئلہ میں حضرت جابر انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی حدیث ہے جو کتاب الجہاد کے باب التسبیح اذا ھبط وادیا میں گزری ہے الفاظ یہ ہیں : جب ہم بلند جگہ چڑھتے تو تکبیر کہتے اور جب اُترتے تو سبحان اﷲ کہتے ۔ یہ حدیث کے آخری الفاظ ہیں اھ سند محذوف ہے۔ (ت)
دیکھو امام بخاری علیہ رحمۃ الباری نے صرف تسبیح کو دُعا ٹھہرایا اور التسبیح اذاھبط وادیا والدعاء اذاھبط وادیا(جب نیچے اُترے تو تسبیح پڑھے اور جب نیچے اُترے تو دعا کرے۔ ت)کا ایك مصداق بتایا تو بآنکہ ایسے قربِ اتم کے وقت میں نماز میں دعائیں ہوچکیں پھر بھی حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُن پر قناعت پسند نہ فرمائی اور بعد سلام پھر دُعا کی تاکید شدید کی۔ علاوہ بریں نماز میں آدمی ہر قسم کی دعا نہیں مانگ سکتا کما بسط الائمۃ فی کتب الفقھیۃ(جیسا کہ ائمہ کرام نے کتب فقہیہ میں اس کی تفصیل بیان کی ہے۔ ت) اور حاجت ہرقسم کی اپنے رب جل وعلا سے مانگا چاہے اور طلب میں مظنۂ اجابت کی تحری کا حکم اور یہ وقت بحکم احادیث اعلٰی مظّان اجابت سے ، تو بلا شبہہ مجمع عیدین میں نماز دعا ، خاص اذن حدیث وارشادِ شرع سے ثابت ہُوئی اورحکم فتعرضوا لھاکی تعمیل
[1] المستدرك علی الصحیحین کتاب الدعاء حبیب بن مسلمہ کان مجیب الدعوات مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ / ۳۴۷
[2] حصن حصین اوقات الاجابۃ مطبوعہ افضل المطابع لکھنؤ ہند ص٢٣
[3] حرزثمین شرح حصن حصین
[4] سنن النسائی اقرب مایکون العبد من اﷲ عزوجل مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ١ / ۷۱۔ ۱۷۰
[5] مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب ثواب التسبیح فصل ثانی مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ٥ / ١١٢
[6] کافی شرح وافی فصل فی تکبیر التشریق
[7] صحیح البخاری کتاب الدعوات مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢ / ٩٤٤
[8] ارشاد الساری باب الدعاء اذا ھبط وادیا الخ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ٩ / ۲۱۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع