دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

پھر ہتھیلیاں چہرے کے مقابل کرے اس کا عطف محذوف پر ہے یعنی جب ان دو٢ رکعتوں سے فارغ ہو اور سلام کہے تو دعا کے لئے ہاتھ بلند کرے یہاں خبر امرکی جگہ مذکور ہے۔ (ت)

تیسیر میں ہے :

ای اذافرغت منھما فسلم ارفع یدیك فوضع الخبر موضع الطلب[1] الخ۔

یعنی جب ان دو٢ رکعات سے فارغ ہوں پس سلام کہے پھر ہاتھ اٹھائے یہاں خبر،طلب کی جگہ ہے الخ(ت)۔

لاجرم جبکہ حصن حصین میں اس حدیث ابی اما مہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی طرف برمز ترمذی ونسائی نے اشارہ کیا کہ قلنا یارسول اﷲ ای الدعاء اسمع قال جوف الیل الاٰخروبرالصلوات المکتوبات[2] (ہم نے عرض کی یارسول اﷲ! کون سی دُعا زیادہ سُنی جاتی ہے ، فرمایا رات کے نصف اخیر میں اور فرض نمازوں کے بعد)مولٰناعلی قاری علیہ رحمۃ الباری نے اُس کی شرح میں لکھا :

دبرالصلوات المکتوبات ای عقیب الصلوات المفروضات والتقییدبھالکونھاافضل الحالات فھی ارجی لاجابۃ الدعوات[3]۔

دبرالصلوات المکتوبات کے معنی کہ فرض نمازوں کے بعد ،اور ان کی تخصیص اس لئے فرمائی کہ وہ سب حالتوں سے افضل ہیں توان میں امیدِ اجابت زیادہ ہے۔

دیکھو صاف صریح ہے کہ نماز کے بعد محلیت ِدُعاکچھ فرضوں ہی سے خاص نہیں بلکہ اُن میں بوجہ افضلیت زیادہ خصوصیت ہے اور سائلین نے خود یہی پُوچھا تھا کہ سب میں زیادہ کون سی دُعامقبول ہے لہذا اُن کی تقیید فرمائی گئی ، بالجملہ جب تخصیصِ فرائض باطل ہوچکی تواخراج واجبات پر کوئی دلیل نہیں بلکہ اُن پر دلائل مطلقہ کے سوا حدیث نافلہ برسبیل اولویت ناطق ، کہ جب ادبار نوافل تك محل دُعا مظنۂ اجابت ہیں تو واجبات کہ اُن سے اعلٰی واعظم اور ارضائے الہٰی میں اوفر و اتم ہیں کیونکر اس فضل سےخارج ہوں گے ھل ھذا الاترجیح المرجوح(یہ ترجیح موجوع کے سوا کچھ نہیں ۔ ت)

ثم اقول : بلکہ واقع نفس الامر کو لحاظ کیجئے تو فریضہ ونافلہ کے لئے ثبوت ، خاص بعینہ واجبات کے لئے ثبوت خاص ہے کہ واجب حقیقۃً کوئی تیسری چیز نہیں بلکہ انہیں دو٢ طرفوں سے ایك میں ہے جسے شبہہ فی الثبوت نے مجتہد کے نزدیك ایك امر متوسط کردیاصاحبِ شرع   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  جس کے حضور روایۃً ودرایۃً ظنون وشبہات کو بار نہیں اگر اُس کے نزدیك شیئ مطلوب فی الشرع حقیقۃً مامور بہ ہے قطعًا فرض ورنہ یقینانافلہ ، لاثالث لھما(ان دو٢ کے علاوہ کوئی تیسری صورت نہیں ۔ ت) تلویح میں زیر قول تنقیح فصل فی افعالہ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  فمنھما مایقتدی بہ وھومباح مستحب و واجب وفرض (آپ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے کچھ افعال قابل اقتداء مباح ، کچھ مستحب ، کچھ واجب اور کچھ فرض ہیں ۔ ت) تحریر فرمایا :

ان فعلہ علیہ الصلٰوۃ والسلام بالنسبۃ الینا یتصف بذلك بان جعل الوتر واجبا علیہ لامستحبا اوفرضا والافالثابت عندہ بدلیل یکون قطعیا لا محالۃ حتی قیاسہ واجتہادہ ایضاقطعی الخ [4]

یعنی آپ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے افعال ہماری نسبت ان سے متصف ہیں مثلًاوتر آپ پر واجب تھے نہ کہ مستحب یا فرض ، ورنہ آپ کے ہاں دلیل ثابت شدہ امر یقینا قطعی ہوگا حتی کہ آپ کا قیاس واجتہاد بھی قطعی ہے الخ(ت)

امام محقق علی الاطلاق امامۃالفتح میں فرماتے ہیں :

اللزوم یلاحظ باعتبار ین باعتبار صدورہ من الشارع وباعتبار ثبوتہ فی حقنافملاحظۃ باعتبار الثانی ان کان طریق ثبوتہ عن الشارع قطعیا کان متعلقہ الفرض وان کان ظنیاکان الوجوب ولذا لا یثبت ہذا القسم اعنی الواجب فی حق من سمع من النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مشافھۃ                                               

لزوم میں دو٢ اعتبار ہیں ایك یہ کہ وہ شارع علیہ السلام سے صادر ہوا اور دوسرا یہ کہ اس کا ثبوت ہمارے حق میں ہوا تو دوسرے اعتبار سے اگراس کا ثبوت شارع سے قطعی ہے تو اس کا تقاضا فرضیت ہے ، اور اگر ثبوت ظنی ہے تو وجوب ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ قسم (وجوب) اس شخص کے حق میں ثابت نہیں ہوسکتی جس نے براہ راست حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے

مع قطعیۃ دلالۃ المسموع فلیس فی حقہ الا الفرض اوغیر اللازم من السنۃ فمابعدھا وظھربھذا ان ملاحظۃ باعتبار الاول لیس فیہ وجوب بل الفرضیۃ اوعدم اللزوم اصلا[5] اھ ملخصا

سُنا حالانکہ مسموع کی دلالت قطعی تھی تو اس کے حق میں وہ فرض ہی ہوگا ، یا لازم نہ ہوگا سنّت ہوگا یا اس سے نچلا درجہ ، اس سے طاہر ہوگیاکہ اول کے اعتبار سے وہاں وجوب نہیں بلکہ فرضیت ہے یا بالکل لزوم ہی نہیں اھ ملخصًا(ت)

پس بحمداﷲ لشہادتِ قرآن وحدیث واقولِ علماء ثابت ہوا کہ نمازپنجگانہ و عیدین وتہجد وغیرہا ہرگونہ نماز کے بعد دُعا مانگنا شرعًا جائز بلکہ مندوب ومرغوب ہے وہوالمطلوب۔

ثانیًااقول : وباﷲالتوفیق دُعابنصِ قرآن وحدیث واجماع ائمۂ قدیم وحدیث اعظم مندوباتِ شرع سے ہے اوراس کے مظانِ اجابت کی تحری مسنون ومحبوب ، قال جل ذکرہ :  هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗۚ- [6] (حضرت زکریا علیہ السلام نے وہاں اپنے رب سے دعا کی ۔ ت)حدیث میں ہےحضور پُرنورسیّد عالم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  فرماتے ہیں :

ان لربکم فی ایام دھرکم نفحات ، فتعرضوا لہ لعلہ ان یصیبکم نفخۃ منھا فلاتشقون بعدھا ابدا[7]۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن محمد بن مسلمۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔

 



[1]    تیسیر شرح الجامع الصغیر حدیث صلٰوۃ الیل مثنی مثنی الخ مکتبہ الامام الشافعی الریاض ۲ /  ۹۹

[2]    حصن حصین اوقات الاجابۃ مطبوعہ افضل المطابع لکھنؤ ہند ص۲۲ ، جامع الترمذی ابواب الدعوات مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ٢ /  ١۸۸

[3]    حواشی حصن حصین صفحہ مذکورہ کا حاشیہ١٦ مطبوعہ افضل المطابع لکھنؤ ہند ص١٤

[4]    التوضیح والتویح فصل فی افعالہ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشارو ص ۴۹۱

[5]    فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /  ۳۰۱

[6]    القرآن  ٣ /  ۳۸

[7]    المعجم الکبیر مروی ازمحمد بن مسلمہ حدیث٥١٩ مطبوعہ مکتبۃ فیصلیہ بیروت ١٩ /  ٢٣٤

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن