30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوسری حدیث میں ہے :
العامل انما یوفی اجرہ اذا قضی عملہ [1]۔ رواہ احمد والبزار والبیھقی وابوشیخ فی الثواب عن ابی ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی حدیث۔
عامل کو اُسی وقت اجرِکامل دیا جاتا ہے جب عمل تمام کرلیتاہے۔ اسے امام احمد ، بزار ، بیہقی اور ابولشیخ نے ثواب میں حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا ہے۔
تو سائل کے لئے بیشك بہت بڑا موقع دعا ہے کہ مولٰی کی خدمت وطاعت کے بعد اپنی حاجات عرض کرے ولہذواردہُوا کہ ہر ختم ِ قرآن پر ایك دُعامقبول ہےبیہقی وخطیب و ابونعیم وابن عساکر انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے راوی ، حضور سیّد عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں : مع کل ختمۃ دعوۃ مستجابۃ [2]۔ ہر ختم کےساتھ ایك دعا مستجاب ہے۔ طبرانی معجم کبیر میں عرباض بن ساریہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روای حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں : من ختم القراٰن فلہ دعوۃ مستجابۃ[3]۔ جو قرآن ختم کرے اس کے لئے ایك دُعامقبولہ ہے۔ اسی لئے روزہ دار کے حق میں ارشاد ہوا کہ افطار کے اس وقت اس کی ایك دعا رد نہیں ہوتی۔ امام احمد ، مسنداورترمذی بافادہ تحسین جامع اور ابنائےماجہ و حبان و خزیمہ اپنی صحاح اوربزاز مسند میں حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے راوی حضور سید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :
ثلثۃ لاترد دعوتھم الصائم حین یفطر[4] الحدیث۔
تین٣ شخصوں کی دُعا رد نہیں ہوتی ایك اُن میں روزہ دار جب افطار کرے۔الحدیث
ابن ماجہ وحاکم حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے راوی حضوراقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :
ان للصائم عند قطرہ لدعوۃ ماترد [5]۔
بیشك روزہ دار کے لئے وقتِ افطار بالیقین ایك دُعا ہے کہ رَد نہ ہوگی۔
امام حکیم ترمذی حضر ت عبداﷲ بن عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے راوی حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشاد ہے :
لکل عبد صائم دعوۃ مستجابۃ عندافطارہ اعطیہا فی الدنیا اوذخرلہ فی الآخرۃ [6]۔
ہر روزہ دار بندے کے لئے افطار کے وقت ایك دُعامقبول ہے خواہ دنیا میں دی جائے یا آخرت میں اس کے لئے ذخیرہ رکھی جائے۔
وفی الباب احادیث اُخراوربالیقین یہ فضیلت روزہ فرض واجب ونفل سب کوعام کہ نصوص میں قید و خصوص نہیں ۔ ولہذاامام عبدالعظیم منذری نے دو حدیث پیشین کو الترغیب فی الصوم مطلقًا میں ایراد فرمایا ، اورعلامہ منادی نے تیسیر شرح جامع صغیر میں زیرِ حدیث باب مروی عقیلی و بیہقی عن ابی ہریرۃ عن النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بعد لفظ دعوۃ الصائم(روزہ دار کی دعا۔ ت) کے ولو نفلا [7] (اگر چہ وہ نفلی روزہ ہو۔ ت) تحریر کیا تو بلاشبہہ نماز بھی کہ افضل اعمال واعظم ارکانِ اسلام اور روزے سے زائد موجب رضائے ذوالجلال والاکرام ہے یُونہی اپنے عموم واطلاق پر رہے گی اور بعد فراغ محلیت دعاصرف فرائض سے خاص نہ ہوگی ، اور کیونکر خاص ہو حالانکہ خودحضور پُرنور سیّدعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہر دورکعت نفل کے بعد ہاتھ اُٹھاکر دعا مانگنے کاحکم دیااور فرمایا : جو ایسا نہ کرے اُس کی نماز ناقص ہے۔ ترمذی ونسائی و ابن خزیمہ حضرت فضیل ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اوراحمد وابوداؤد و ابن ماجہ حضرت مطلب بن ابی وداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے راوی حضوراقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں :
الصلوۃ مثنی مثنی تشھدفی کل رکعتین وتخشع وتضرع وتمسکن وتفنع یدیك یقول ترفعھا الی ربك مستقبلا ببطونھما وجھك وتقول یارب یارب من لم یفعل ذلك فھی کذاوکذا[8]۔
یعنی نماز نفل دو٢دو٢ رکعت ہے ہر دو٢ رکعت پر التحیات اورخضوع وزاری وتذلّل ، پھر بعدسلام دونوں ہاتھ اپنے رب کی طرف اُٹھا اور ہتھیلیاں چہرے کے مقابل رکھ کر عرض کر اے میرے رب اے رب میرے جوایسا نہ کرے تووہ نماز چنیں وچناں یعنی ناقص ہے۔
مطلب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی روایت میں مصرحًا آیا ـ :
فمن لم یفعل ذلك فھوخداج[9]
جو ایسانہ کرے اُس کی نماز میں نقصان ہے۔
علامہ طاہرتکملہ مجمع بحا رالانوار میں فرماتے ہیں :
فیہ ثم تقنع یدیك وھوعطف علی محذوف ای اذافرغت منھا فسلم ثم ارفع یدیك سائلا فوضع الخبر موضع الامر[10]۔
[1] مسند احمد بن حنبل مروی ازابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مطبوعہ دارالفکربیروت ۲ / ۲۹۲
[2] شعب الایمان باب فی تعظیم القرآن حدیث۲۰۸۶مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت ٢ / ٣٧٤
[3] المعجم الکبیر مروی از عرباض بن ساریہ حدیث ٦٤٧ مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ١٨ / ٢٥٩
[4] سنن ابن ماجہ باب فی الصائم لاترددعوتہ الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۲۶
[5] سنن ابن ماجہ باب فی الصائم لاترددعوتہ الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۲۶
[6] $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع