30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عیدِدوم فتوائے مولوی لکھنوی سے اسناد پر کلام اور اوہام مانعین کا ازالۂ تام والعون من اﷲ ولی الانعام(مدد اﷲ کی جو انعام عطا کرنے والا ہے۔ ت)العید الاول وعلی فضل اﷲ المعول(عید اول ، اﷲ ہی کے فضل پر بھروساہے۔ ت) ظاہر ہے کہ شرع مطہر سے اس دعا کی کہیں ممانعت نہیں اور جس امر سے شرع نے منع نہ فرمایا ہرگز ممنوع نہیں ہوسکتا ، جو ادعائے منع کرے اثبات ممانعت اس کے ذمہ ہے جس سے ان شاء اﷲ تعالٰی کبھی عہدہ برآ نہ ہوسکے گا بقاعدہ مناظرہ ہمیں اسی قدر کہنا کافی ، اور اسانید سائل کامژدہ لیجئے تو جو کچھ قرآن وحدیث سے قلبِ فقیر پر فائز ہُوابگوشِ ہوش استماع کیجئے۔
فاقول : وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق(اﷲ ہی کی توفیق ہے اور اس سے تحقیق تك وصول ہوتا ہے۔ ت)اولا قال المولٰی سبحٰنہ وتعالٰی :
فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْۙ(۷) وَ اِلٰى رَبِّكَ فَارْغَبْ۠(۸) [1]
جب تو فراغت پائے تو مشقت کر اور اپنے رب کی طرف راغب ہو ۔
اس آیۂ کریمہ کی تفسیر میں اصح الاقوال قول حضرت امام مجاہد تلمیذ رشید سلطان المفسرین جرالامۃ عالم القرآن حضرت سیّدنا عبداﷲ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ہے کہ فراغ سے مراد نماز سے فارغ ہونا اورنصب دعامیں جدجہد کرنا ہے یعنی باری عزوجل حکم فرماتا ہے جب تو نماز پرھ چکے تو اچھی طرح دُعامیں مشغول ہو اور اپنے رب کے حضور الحاح وزاری کر۔ تفسیر شریف جلالین میں ہے :
فاذافرغت من الصلٰوۃ فانصب “ تعب فی الدعاء ، والٰی ربك فارغب “ تضرع “ ۔[2]
جب تو نماز سے فارغ ہو تو دعا میں تعب اور مشقت کر اور اپنے رب کے سامنے تضرع وزاری بجالا۔
خطبہ جلالین میں ہے :
ھذا تکلمۃ تفسیرالامام جلال الدین المحلی علی نمطہ من الاعتماد علی ارجح الاقول وترك التطویل بذکر اقول غیر مرضیۃ [3] اھ ملخصا
یہ تفسیر امام جلال الدین محلی کاتکملہ ہے جو انہیں کے طریقہ پر ہے یعنی راجح اقول پر اعتماد اور اقوال ضعیفہ کے ذکر سے بچتے اھ ملخصًا(ت)
علامہ زرقانی شرح مواہب لدنیہ میں فرماتے ہیں ۔
ھوالصحیح فقد اقتصرعلیہ الجلال وقد التزم الاقتصار علی ارجح الاقوال[4]۔
یہی صحیح ہے اسی جلال نے اکتفاء کیا ہے حالانکہ انہوں نے یہ التزام کر رکھا کہ راجح اقوال ذکر کریں گے۔ (ت)
اور پُرظاہر کہ آیۂ کریمہ مطلق ہے اورباطلاقہا نماز فرض وواجب ونفل سب کو شامل تو بلاشبہہ نماز عیدین بھی اس پاك مبارك حکم میں داخل ، یونہی احادیث سے بھی ادبار صلوات کا مطلقًا محلِ دُعا ہونا مستفاد ، و لہذا علماء بشہادت حدیث نماز مطلق کے بعد دُعا مانگنے کو آداب سے گنتے ہیں ، امام شمس الدین محمد ابن الجرزی حصن حصین اورمولانا علی قاری اُس کی شرح حزرثمین میں فرماتے ہیں :
والصلٰوۃ ای ذات الرکوع والسجود والمراد ان یقع الدعاء المطلوب بعدھا [5]۔
یعنی آداب سے ہے کہ مطلب کی دعا بعد نماز ذات رکوع وسجود واقع ہو۔
پھر فرمایا :
حب مس ای رواہ الاربعۃ وابن حبان و الحاکم کلھم من حدیث الصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ[6]۔
یعنی یہ ادب حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اُس حدیث سے ثابت ہے جسے ابوداؤد ونسائی و ترمذی وابن ماجہ وابن حبان و حاکم نے صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا۔
اقول یونہی یہ حدیث ابن السنی وبیہقی کے یہاں مروی اور صحیح ابن خزیمہ میں بھی مذکور ، امام ترمذی نے اسکی تحسین کی۔ ظاہر ہے کہ نماز ذات رکوع
وسجود ، نماز جنازہ کے سوا ہر فرض وواجب ونافلہ کو شامل جن میں نمازِعیدین بھی داخل ۔
ثم اقول : وباﷲ التوفیق(پھر میں اﷲ کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ ت) اصل یہ ہے کہ اعمال صالحہ وجہ رضائے مولٰی جل وعلاہوتے ہیں اور رضائے مولٰی تبارك وتعالٰی موجبِ اجابتِ دُعااور اس کا محل عمل صالح سے فراغ پاکر کما قال تعالٰی فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْۙ(۷) [7] (جیسا کہ اﷲ تعالٰی کا فرمان ہے : پس جب آپ فارغ ہوں تو مشقت کرو۔ ت)ولہذا حدیث میں آیا حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :
الم تر الی العمال یعملون فاذافرغوامن اعمالھم وفوا اجورھم[8]۔ رواہ البیھقی عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما فی حدیث طویل۔
کیا تُو نے نہ دیکھا کہ مزدور کام کرتے ہیں جب اپنے عمل سے فارغ ہوتے ہیں اُس وقت پوری مزدوری پاتے ہیں ۔ اسے بیہقی نے احادیث طویل کی صورت میں حضرت جابر بن عبداﷲ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کیا ہے۔
[1] القرآن ٩٤ / ۷و۸
[2] جلالین کلاں سورہ الم نشرح میں مذکور ہے مطبوعہ اصح المطابع دہلی ہند ۲ / ۵۰۲
[3] جلالین کلاں خطبۃ الکتاب مطبوعہ اصح المطابع دہلی ہند ١ / ٤
[4] شرح الزرقانی علی مواہب اللدنیہ المقصد الثانی فی اسمائہٖ مطبوعہ مصر ۳ / ۱۹۵
[5] حواشی حصن حصین آداب الدعاء حاشیہ ۲۱٢ مطبوعہ افضل المطابع لکھنؤ ص٩
[6] حواشی حصن حصین آداب الدعاء حاشیہ۲۲ مطبوعہ افضل المطابع لکھنؤ ص۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع