30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باب العیدین (عیدین کا بیان)
مسئلہ نمبر ۱۴۱۲ : ازسہسرام محلہ پرتلہ ضلع آرہ مسئولہ قدرت اﷲ صاحب ۵شوال ۱۳۳۹ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیداعلم بالسنۃ پابندِ صلٰوۃ متقی نے اول خطبہ عیدالاضحٰی پڑھ کر لبیك اور صلٰوۃ والسلام نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور تکبیر بآواز بلند خود کہا اور مصلیوں سے کہلایا پھر بارك اﷲلنا ولکم پڑھ کر بیٹھا پھر دوسراخطبہ پڑھا بعد فراغ سوال کیا گیا یہ غیر مشروع فعل کیوں کیا اس نے جواب دیا میرا یہ فعل غیر مشروع نہیں حالتِ کیف میں صادر ہُوا مثل قول مبارك حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ یاساریۃ الجبل ہے ، یہ دعوی مدعی کا کہاں تك صحیح ہے اور ایسے فعل کا مرتکب لائقِ ملامت ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب :
لبیك ودرود کہ اس نے خود کہا حرج نہیں البتہ مقتدیوں سے کہلانا بے محل وُہ خطبہ میں مامور بالسکوت ہیں ، اگر حالتِ وجد میں ایسا ہُواجیسا کہ اُس کا بیان ہے تو معذور ہے اور جب سائل اسے عالم سنّی متقدی کہتا ہے تو اس کا بیان کیوں نہ تسلیم کیا جائے معہذا مسئلہ شرعیہ معلوم کرلینا دوسری بات وہ ضرور چاہئے مگر عوام کو سنّی عالم متقی پر اُس کی لغزش کے سبب ملامت کی اجازت نہیں ہوسکتی کما نص علیہ الائمۃ واشارت الیہ الاحادیث (جیساکہ ائمہ نے اس کی تصریح کی ہے اور احادیث میں بھی اس پر رہنمائی ہے۔ ت) یہ اس کے حق میں ہے جو سُنّی عالم ہو ورنہ آجکل بہت گمرہ بددین بلکہ مرتدین مثلًا وہابیہ دیوبندیہ اپنے آپ کو سُنی عالم کہتے ہیں وہ ملامت کیا اُس سے ہزاروں درجہ سخت تر کہ مستحق ہیں ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
___________________
سرور العید السعید فی حل الدعاء بعد صلٰوۃ العید ١٣٣٩ھ
(نمازِ عید کے بعد ہاتھ اٹھا کر دُعاء مانگنے کا ثبوت)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
مسئلہ نمبر ١٤١٣ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مولوی عبدالحَی صاحب لکھنوی نے اپنے فتاوٰی کی جلد ثانی میں یہ امر تحریر فرمایا کہ بعد دوگانہ عیدین یا بعد خطبہ عیدین دُعا مانگناحضور سرور عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم و صحابہ وتابعین رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین سے کسی طرح ثابت نہیں اب وہابیہ نے اس پر بڑا غل شور کیا ہے دعائے مذکور کو ناجائز کہتے اور مسلمانوں کواس سے منع کرتے اور تحریر مذکور سے سند لاتے ہیں کہ مولوی عبدالَحی صاحب فتوٰی دے گئے ہیں اُن کی ممانعتوں نے یہاں تك اثر ڈالا کہ لوگوں نے بعد فرائض پنجگانہ بھی دعا چھوڑ دی اس بارے میں حق کیا ہے؟بینو توجروا۔
الجواب :
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم۵ الحمدﷲ الذی حبّبنا العید وجعلہ مقر با لکل بعید و امرنا بالدعاء فی الیوم السعید ووعدنا بالاجابۃ فی الکلام الحمید والصلٰوۃ والسلام علی من وجہہ عید ولقاؤہ عید ومولدہ عید وای عیدوعلٰی اٰلہ الکرام وصحبہ
اﷲ کے نام سے شروع جو رحمٰن ورحیم ہے سب تعریف اﷲ تعالٰی کے لئے جس نے ہمارے لئے عید کو محبوب بنایا اور اسے ہربعید کوقریب کرنیوالا بنایا ، یومِ سعید میں دعاکا حکم دیا ، کلامِ حمید میں قبولیت کا وعدہ فرمایا ، اور صلوۃ وسلام ہواس ذاتِ اقدس پر جس کا چہرہ عید ، دیدار عید ، میلاد عید ، آپ کی آل محترم اورصحابہ عظام
العظام مادعااﷲ فی العید عبدسعید وتعانق النور والسرور غداۃ العید واشھدان لاالٰہ الااﷲ وحدہ لاشریك لہ وان محمد عبدہ ورسولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلٰی اٰلہ وصحبہ من یوم اَبْدأ الٰی یوم یعید اٰمین اٰمین یا عزیز یامجید۵۔
پر بھی جب تك کوئی عبدسعید ، عید کے موقع پر دعا کرنے والا ہے اورجب تك عید کی صبح کو نوروسرور باہم پائے جائیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ وحدہ ، لاشریك ہے اورحضرت محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اﷲ کے برگزیدہ بندے اور رسول ہیں آپ کی ذات ، آل اورصحابہ پر درود وسلام ابتدائی دن سے لے کر آخری دن تك ہو۔ اے غالب اے صاحبِ مجد ! دعاقبول فرما دعاقبول فرما ۔ (ت)
اللھم ھدایۃ الحق والصواب(اے اﷲ حق اور صواب کی ہدایت عطا فرمادے۔ ت) نماز عیدین کے بعد دُعا حضراتِ عالیہ تابعین عظام ومجتہدین اعلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے ثابت ،
قال الفقیر عبدالمصطفٰی احمد رضاالمحمدی السنی الحنفی القادری البرکاتی البریلوی غفراﷲ لہ وحقق املہ ، انبانا المولی ۱عبد الرحمٰن السراج المکی مفتی بلد اﷲ الحرام ببیتہ عندباب الصفالثمان بقین من ذی الحجۃ سنۃ خمس وتسعین بعد الالف والمائتین فی سائر مرویاتہ الحدیثیۃ والفقھیۃ وغیرذلك ۲عن حجۃ زمانۃ جمال بن عبداﷲ بن عمر المکی ۳عن الشیخ الاجل عابد السندی عن ۴عمہ محمد حسین الانصاری ۵اجازنی بہ الشیخ عبد الخالق بن علی المزجاجی ۶قراءۃ علی الشیخ محمد بن علاء الدین المزجاجی ۷عن احمد النخلی عن۸محمد الباھلی عن۹سالم السنوری۱۰عن النجم الغیطی ۱۱عن الحافظ زکریاالانصاری ۱۲عن الحافظ ابن حجر العسقلانی ۱۳انابہ ابو عبد اﷲ الجریری ۱۴انا قوام الدین الاتقانی انا
فقیر عبدالمصطفٰی احمد رضا محمدی سنّی حنفی قادری برکاتی بریلوی(اﷲ تعالٰی اس کو بخش دے اوراسکی امید بر لائے) کہتا ہے کہ ہمیں ۱شیخ عبدالرحمن السراجی مکی مفتیِ بلداﷲ الحرام نے باب صفا کے پاس اپنے گھر ٢٢ذوالحجہ ١٢٩٥ھ کو اپنی تمام مرویات کی اجازت دی خواہ وُہ حدیث کی صورت میں تھیں یا فقہ کی صورت میں یااس کے علاوہ تھیں انھیں مرویات کی اجازت حجتِ زمانہ ۲جمال بن عبداﷲ بن عمر مکی نے دی انہیں ۳شیخ اجل عابد سندی نے انہیں ان کے چچا۴محمد حسین انصاری نے دی ، اس نے کہا مجھے ان کی اجازت شیخ ۵عبد الخالق بن مزجاجی نے ، انھیں ۶شیخ محمد بن علاء الدین مزجاجی سے قرأۃ کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع