دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

محمد   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ایسے نہیں جیسا کہ اے کافرو! تم گمان کرتے ہو وہ تو نہیں مگر تمہیں ڈر سنانے والے ایك سخت عذاب کے آگے۔

آیت نے قربِ قیامت کا اشارہ فرمایا نہ یہ کہ بعثت کے برابر ہی قیامت ہے ، پھر اُس کا قرب اُسکے لائق ہے۔

تیرہ سو تینتالیس۱۳۴۳ برس گزر گئے ہنوز وقت باقی ہے پس جو اذان درِ مسجد پر یا فنائے مسجدکی کسی زمین میں جہاں تك حائل نہ ہو محاذاتِ امام میں دی جائے اُس پر ضرور بین یدیہ(اس کے روبرو۔ ت) صادق ہے بلاشبہ کہا جائے گا کہ امام کے سامنے خطیب کے روبرو منبر کے آگے اذان ہوئی ، اور اسی قدر درکار ہے ، غالبًا خود مستدلین کو معلوم تھا کہ قریبِ مسجد ، بیرونِ مسجد ، مواجہہ امام ك وبھی بین یدیہ شامل ہے ولہذا روبرخطیب کہنے کے بعد ، ان لفظوں کی حاجت ہوئی کہ مسجد کے اندر مگر خاص یہی لفظ کہ اصل مدعا تھے صرف اپنی طرف سے اضافہ ہوئے۔ شامی وہدایہ ودرمختاروغیرہوغیرہا میں کہیں اس کی بوُ بھی نہیں ۔ اب ہم ایك حدیث صحیح ذکر کریں جس سے اس بین یدیہ کے معنی بھی آفتاب کی روشن ہوجائیں اور اس ادعائے توارث کا حال بھی کھل جائے ، سُنن ابی داؤد شریف میں بسندِ حسن مروی ہے :

حدثنا النفیلی ثنامحمد بن سلمۃ عن محمد بن اسحٰق عن الزھری عن السائب بن یزید رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال کان یؤذن بین یدی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا جلس علی المنبر یوم الجمعۃ علی باب المسجد وابی بکر وعمر [1]۔                                                                                                                                                                                                                                            

نفیلی نے بیان کیا کہ محمد بن سلمہ نے محمدبن اسحٰق سے انہوں نے زہری سے انہوں نے سائب بن یزید   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت کیا کہ رسول اﷲ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  جب روزِ جمعہ منبر پر تشریف فرما ہوتے تو حضور کے روبرو اذان مسجد کے دروازے پر دی جاتی اور یونہی ابوبکر صدیق و عمر فاروق   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا   کے زمانے میں ۔

اس حدیث جلیل نے واضح کردیا کہ اس روبروئے امام پیشِ منبر کے کیا معنی ہیں اور یہ کہ زمانہ رسالت وخلفائے راشدین کے کیا متوارث ہے ، ہاں یہ کہئے کہ اب ہندوستان میں یہ اذان متصل منبر کہنی شائع ہورہی ہے مگر نصِ حدیث سے جُدا ، تصریحات فقہ کے خلاف ، کسی بات کا ہندیوں میں رواج ہوجانا کوئی حجت نہیں ۔ ہندیوں میں یہی کیا اور وقت کی اذانیں بھی بہت لوگ مسجد میں دے لیتے ہیں حالانکہ وہاں تو ان تصریحات ائمہ کے مقابل بین یدیہوغیرہ کا بھی دھوکا نہیں ، پھر ایسوں کا فعل کیاحجت ہوسکتاہے ۔ الحمدﷲ یہاں اس سنّت کریمہ کا احیاء رب عزوجل نے اس فقیر کے ہاتھ پر کیا ، میرے یہاں مؤذنوں کی مسجد میں اذان دینے سے ممانعت ہے ، جمعہ کی اذانِ ثانی بحمداﷲ تعالٰی منبر کے سامنے دروازہ مسجد پر ہوتی ہے جس طرح زمانہ اقدس حضور پُرنور   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  و خلفائے راشدین   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  میں ہوا کرتی تھی ذلك فضل اﷲ یوتیہ من یشاء واﷲ ذوالفضل العظیم والحمدﷲ رب العٰلمین (یہ اﷲ تعالٰی کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اوراللہ بڑے فضل والا ہےاور اﷲ تعالٰی ہی کے لئے سب تعریف ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ ت)بعض دیگر جن سے سائل نے دوسراقول نقل کیا اگر چہ اتنا سمجھے بین یدیہ سے داخل مسجد ہونا اصلًا مفہوم نہیں ہوتامگر کتابوں پرنظر ہوتی تو خلافِ تصریحاتِ علماء یہ ادعاء نہ ہوتاکہ مسجد کے اندر مکروہ نہیں ١٣٠٢ہجری میں فقیر بہ نیت خاکبوسی آستانہ عالیاحضرت سلطان الاولیاء محبوب الہٰی نظام الحق والدین   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  بریلی سے شدالرحال کرکے حاضر بارگاہ غیاث پور شریف ہوا تھا دہلی کی ایك مسجد میں نماز کو جانا ہوا ، اذان کہنے والے نے مسجد میں اذان کہی فقیر نے حسب عادت کہ جو امرخلاف شرع مطہر پایا مسئلہ گزارش کردیا اگرچہ اُن صاحب سے اصلا تعارف نہ ہو ا ان مؤذن صاحب سے بھی بہ نرمی کہا کہ مسجد میں اذان مکروہ ہے ، کہا ، کہاں لکھا ہے؟ میں نےقاضی خان ، خلاصہ ، عالمگیری ، فتح القدیر کے نام لئے ، کہا ہم ان کو نہیں مانتے ، فقیر سمجھا کہ حضرت طائفہ غیر مقلدین سے ہیں ، گزارش کی کہ آپ کیا کام کرتے ہیں ؟ معلوم ہوا کہ کسی کچہری میں نوکر ہیں ۔ فقیر نے کہا احکم الحاکمین جل جلا لہ کا سچا حقیقی دربار تو ارفع واعلٰی ہے آپ انہی کچہریوں میں روز دیکھتے ہوں گے چپراسی ، مدعی ، مدعاعلیہ گواہوں کی حاضری ، کچہری کے کمرے کے اندر کھڑے ہوکر پکارتا ہے یا باہر ؟ کہا باہر ، کہا اگر اندر ہی چلانا شروع کرے تو بے ادب ٹھہرے گا یا نہیں ؟ بولے اب میں سمجھ گیا ۔ غرض کتابوں کونہ مانا جب ان کی سمجھ کے لائق کلام پیش کیا تسلیم کرلیا               ع

فکر ہر کس بقدر ہمت اوست

(ہرشخص کی فکراس کی ہمت کے مطابق ہے)

الحمد ﷲ حق واضح ہوگیا ۔
اقول :
وباﷲ التوفیق یہاں دو٢ نکتے اور قابل لحاظ وغور ہیں :
اول
  اگر بانیِ مسجد نے مسجد بناتے وقت تمام مسجدیت سے پہلے مسجد کے اندر اذان کے لئے منارہ خواہ کوئی محل مرتفع بنایا تو یہ جائز ہے ، اور اتنا ٹکڑااذان کے لئے جدا سمجھاجائے گا اور مسجد میں اذان دینے کی کراہت یہاں عارض نہ ہوگی جیسے مسجد میں وضو کرنا اصلًا جائز نہیں مگر پہلے سے اگر کوئی محلِ معین بانی نے وضو کے لئے بنوا دیا ہوتو اس میں وضو جائز کہ اس قدر مستثنٰی قرار بائے گا۔ اشباہ میں ہے :

تکرہ المضمضۃ والوضوء فیہ الا ان یکون ثمہ موضع اعدلذلك لا یصلی فیہ

مسجد میں کُلی اور وضوکرنا مکروہ ہے مگر اس صورت میں جب وہاں اس کے لئے جگہ بنائی گئی ہو اور اس میں نماز ادا نہ کی جاتی ہو یاکسی برتن میں وضو

اوفی اناء[2]۔

کر لیا جائے۔ (ت)

در مختار میں ہے :

یکرہ الوضوء الا فیما اعدذلک[3] ملخصًا ۔

 



[1]    سنن ابی داؤد باب وقت الجمعہ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /  ۱۵۵

[2]    الاشباہ والنظائر القول فی احکام المسجد مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ٢ /  ٢٣٠

[3]    درمختار باب مایفسدالصلٰوۃ ومایکرہ فیہا مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /  ٩٤

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن