30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کا قول '' اس کے علاوہ الفاظ'' مثلًا احوط واظہر ہیں ۔ (ت)
درمختار میں فتاوٰی خیریہ سے ہے :
بعض الالفاظ اٰکد من بعض فلفظ الفتوی اٰکد من لفظ الصحیح والاحوط اٰ کدمن الاحتیاط [1] اھ مختصرا۔
بعض الفاظ بعض کی نسبت زیادہ موکد ہوتے ہیں لفظِ فتوٰی ، لفظ صحیح سے اور احوط ، احتیاط سے زیادہ مؤکد ہے اھ مختصرًا (ت)
بالجملہ خلاصہ کلام یہ کہ دعائے مذکور خطیب کے لئے مطلقًا او رسامعین کے لئے دل میں بالاتفاق جائز مذہب امام شافعی وقول امام ابی یوسف پر اُن کے لئے زبان سے بھی قطعًا اجازت اور ارشاد امام کی ایك تخریج پر مکروہ دوسری پر جائز ، ائمہ فتوٰی نے دونوں کی تصحیح کی تو احد الصحیحین پر دُعائے مذکور امام و مقتدین سب کو دل وزبان ہر طرح سے باتفاق مذہبین حنفی وشافعی ، مطلقًا جائز و مشروع ، اور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ جب ترجیح مختلف متکافی ہو تو مکلف کو اخیتار ہے کہ ان میں سے جس پر چاہے عمل کرے اصلًا محلِ اعتراض وانکار نہیں ، بحرالرائق ودرمختار وغیرہما میں ہے :
متی کان فی المسئلۃ قولان مصححان جاز القضاء والافتاء باحدھما [2]۔
جب مسئلہ میں دو اقوال صحیحہ ہوں تو ان میں سے ایك پر فتوٰی اور قضاء جائز ہوتی ہے ۔ (ت)
ولہذافقیر غفرا ﷲ تعالٰی بآنکہ یہاں تصحیح تبیین کوارجح جانتا ہے ہمیشہ سامعین کو بین الخطبتین دعا کرتے دیکھا اور کبھی منع وانکار نہیں کرتا ہے ھذا جملۃ القول فی ھذا الباب والتفصیل فی فتاوٰنا بعون الوھاب (اس مسئلہ میں یہ گفتگو کا خلاصہ ہے اور اس کی تفصیل اﷲ تعالٰی کی اعانت سے ہمارے فتاوٰ ی میں ہے ۔ ت)رہی مترجم درمختار کی علمائے بریلی سے وہ نقل معلوم نہیں کہ اس نے اپنے زعم میں علمائے بریلی سے کون لوگ مراد لئے ، اُس کے زمانے میں ان اقطار کے اعلم علماء کہ اپنے عصر و مصر میں حقیقۃً صرف وہی عالم دین کے مصداق تھے یعنی خاتمۃالمحققین سیّدنا الوالدقدس سرہ الماجد ، فقیر برسوں جمعات میں اقتدائے حضرت والا سے مشرف ہُوا حضرت ممدوح قدس سرہ ، جلسہ ، بین الخطبتین میں دُعا فرمایا کرتے اور سامعین کو دعا کرتے دیکھ کر کبھی انکار نہ فرماتے اور مترجم کے زمانے سے پہلے بریلی میں اس امر کا استفتا ہوا ، مولٰنا احمد حسین مرحوم تلمیذ اعلٰحضرت سیّد العلماسند العرفا مولٰنا الجد قدس سرہ الامجد نے جواز مشروعیت پر فتوٰی دیااعلحضرت نوراﷲ مرقدہ الشریف وفاضل اجل مولٰنا سیّدیعقوب علی صاحب رضوی بریلوی ومولوی سیّد محمود علی صاحب بریلوی وغیر ہم علمائے کرام نے اُ س پر مہریں فرمائیں یہ فتوی مولوی صاحب مرحوم کے مجموعہ فتاوٰی مسمّی بمفید المسلمین میں مندرج ومشمول اوراطمینان سائل کے لئے یہاں منقول :
سوال : چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے کہ بیٹھنا امام کو بعد قراءت خطبہ پہلے کے سنت ہے یا نہیں ؟ اور خطیب کس قدر جلسہ میں توقف کرے اور یہ اوقاتوں قبولیت دعا سے ہے یا نہیں ؟ اور دُعا مانگنا ہاتھ اُٹھا کے مستحسن ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب : بیٹھنا خطیب کا درمیان دونوں خطبوں کے سنت ہے ، چنانچہ صحیح بخاری شریف میں باب القعدہ بین الخطبتین یوم الجمعہ میں مرقوم ہے :
حدثنا مسددثنا بشر بن المفضل ثنا عبید اﷲ عن نافع عن عبد اﷲ بن عمر ، قال کان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یخطب خطبتین یقعدبینہما [3]۔
مسدد نے ہمیں اور انھیں بشر بن مفضل نے انھیں نافع نے انھیں عبداﷲ بن عمر نے بتایا کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم جب خطبہ ارشاد فرماتے تودو خطبوں کے درمیان بیٹھتے ۔ (ت)
اور اس بیٹھنے کو سنت بمقدار تین آیات علمگیری میں بالتصریح بیان کیا ہے :
والخامس عشر الجلوس بین الخطبتین ھکذا فی البحرالرائق ومقدار الجلوس بینھما مقدار ثلث اٰیات فی ظاہر الروایۃ ھکذا فی السراج الوھاج[4]۔
پندرھویں سنت دو خطبوں کے درمیان بیٹھنا ہے ، اسی طرح بحرالرائق میں ہے ، ان کے درمیان بیٹھنے کی مقدار ظاہر الروایۃ کے مطابق تین آیات کی تلاوت کی مقدار ہے ۔ ایسے ہی سراج الوہاج میں ہے ۔ (ت)
اور بیچ حصن حصین کے ایك اوقاتِ قبول دعا سے مابین الخطبتین ہے اور بیچ ظفر جلیل شرح حصن حصین کے اُس وقت مانگنا دُعا کا طیبی سے نقل کیا :
وساعۃ الجمعۃ ارجی ذلك و وقتھا مابین ان یجلس الامام فی الخطبۃ الی ان تقضی الصلٰوۃ [5] م د۔
اور ساعت جمعہ کی بہت امید والی ان وقتوں کی ہے یعنی سب وقتوں میں سے ساعتِ جمعہ میں امید قوی ہے قبولیت کی ، اور وقت ساعت جمعہ کا ہے مابین بیٹھنے امام کے سے منبر پر ، خطبہ کے لئے تمام ہونے نماز تک ، نقل کی یہ مسلم اور ابوداؤد نے۔ (ت)
ظاہر تر یہ ہے کہ مراد بیٹھنے امام کے سے بیٹھنا امام کاہے اول شروع خطبہ کے ، اور وہی وقت حرمتِ کلام کا ہے غیر امام کو ، کذا قال العلی (جیسا کہ علی نے بیان کیا ۔ ت) اور طیبی نے بیٹھنے سے بیٹھنا درمیان دونوں خطبوں کے مراد رکھا ہے ، اور ایك روایت میں ساعت جمعہ کی یہ ہے انتہی ، اوربھی صاحب فتح الباری نے اُن تمام اوقات اجابتِ دُعا سے ایك جلسہ امام کو درمیان خطبتین فرمایا ہے :
حیث قال الثلٰثون عند الجلوس بین الخطبتین حکاہ الطیبی عن بعض شراح المصابیح [6]۔
ان کے الفاظ میں تیسواں مقام دو خطبوں کے درمیان بیٹھنے کا وقت ہے ، اسی طیبی نے بعض شارحین مصابیح سے نقل کیا ہے ۔ (ت)
[1] درمختار خطبۃ الکتاب مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۵
[2] درمختار خطبۃالکتاب مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۴
[3] صحیح البخاری باب القعدہ بین الخطبتین مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۲۷
[4] فتاوی ہندیۃ الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۴۷
[5] حصن حصین اوقات الاجابۃ مطبوعہ افضل المطابع لکھنؤ ص ۲۱
[6] فتح الباری باب الساعۃ التی فی یوم الجمعۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ٣ / ۷۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع