دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

اذان ، دونوں خطبوں کے درمیان اور خطبہ اور نماز کے درمیان کلام مکروہ نہیں ۔ (ت)

علامہ زین الدین شافعی تلمیذ امام ابن حجر مکی فتح المعین بشرح قرۃ العین میں فرماتے ہیں :

یکرہ الکلام ولایحرم حالۃ الخطبۃلا قبلھا ولو بعد الجلوس علی المنبر ولابعدھا ولابین الخطبتین ویسن تشمیت العاطس والردعلیہ ورفع الصوت من غیر مبالغۃ بالصلٰوۃ والسلام علیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عند ذکر الخطیب اسمہ او وصفہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال شیخنا ولا یبعد ندب الترضی عن الصحابۃ بلارفع صوت وکذا التامین لدعاء الخطیب [1] اھ مختصرا۔                    

دورانِ خطبہ کلام مکروہ ہے ، خطبہ سے پہلے اگر چہ خطیب منبر پر بیٹھ چکاہو اور دو خطبوں کے درمیان کلام حرام نہیں ہے ، چھینك مارنے والے کا جواب دینا اور اس کے بدلہ میں دعا دینا سنت ہے اور جب خطیب نبی اکرم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   کا اسم یا وصف ذکر کرے تو صلٰوۃ وسلام عرض کیا جاسکتا ہے البتہ آواز بلند نہ کی جائے ، ہمارے شیخ نے فرمایا کہ صحابہ کے نام پر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  اور دعاء خطیب کے وقت آمین آواز بلندکئے بغیر کہنا مستحب ہونا بعید نہیں اھ اختصارًا (ت)

یونہی مذہب حنفی میں امام ثانی قاضی ربانی سید نا امام ابویوسف   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   کے نزدیك بھی مطقًا جواز ہے ، اوقات ثلثہ غیر حال خطبہ یعنی قبل وبعد دعابین خطبتین میں اگرچہ کلامِ دنیوی منع فرماتے ہیں مگر کلام دینی مثل ذکر وتسبیح مطلقًا جائز رکھتے ہیں ، اور پُر ظاہر دُعا خاص کلامِ دینی عبادت الٰہی ہے۔ مراقی الفلاح میں ہے :

اذا خرج الامام فلاصلٰوۃ ولاکلام وھو قول

جب امام آجائے تو کوئی کلام ونماز نہیں ، اور یہی

الامام وقال ابویوسف ومحمد لا باس بالکلام اذاخرج قبل یخطب واذانزل قبل ان یکبر واختلفا فی جلوسہ اذا سکت فعند ابی یوسف یباح لان الکراھۃ للاخلال بغرض الاستماع ولااستماع  ،  ولہ اطلاق الامر [2] اھ ببعض اختصار۔                        

امام کا قول ہے ، امام ابویوسف اور امام محمد رحمہما اﷲ تعالٰی  کہتے ہیں خطبہ شروع ہونے سے پہلے کلامِ میں کوئی حرج نہیں ، اسی طرح جب امام منبر سے اترے اورتکبیر سے پہلے بھی گفتگو میں کوئی حرج نہیں ، جب منبر پر خطیب خاموش بیٹھا ہوتو اس وقت ان میں اختلاف ہے امام ابویوسف کے نزدیك مباح ہے کیونکہ کراہت کی وجہ خطبہ سننے میں خلل کا واقع ہونا ہے اور یہاں استماع نہیں ہے ان کی دلیل امر کا  اطلاق ہے اھ مختصرًا (ت)

صاحبِ مذہب امام الائمہ سیدنا امام اعظم   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے کہ خروج امام سے فراغِ نماز تك کلام سے ممانعت فرمائی ، مشائخ مذہب اس سے مراد میں مختلف ہوئے اور تصحیح بھی مختلف آئی ، بعض فرماتے ہیں مرادِ امام صرف دنیوی کلام ہے ، اوقاتِ ثلٰثہ میں دینی کی اجازت عام ہے ، نہایہ و عنایہ میں اسی کو اصح کہا ، ایسا ہی فخر الاسلام نے مبسوط میں فرمایا ، مشائخ کرام نے مطلق مراد لیا ، امام زیلعی نے تبیین الحقائق میں اسی کو احوط کہا۔

قلت واطلاقات المتون واکثر الکتب علیہ ماشیۃ وعامۃ التفاریع عنہ ناشیۃ کما یظھر بمراجعۃ ما علقنا علی ردالمحتار فھو اصح التصحیحین فیما اعلم کیف لاوقد صرح المحققون ان الدنیوی مکروہ اجماعا فلو لم ینھی الامام الاعنہ لارتفع الخلاف مع ان الکتب المعتمدۃ عن اٰخرھا متظافرۃ علی اثباتہ۔        

میں کہتا ہوں کہ متون کے اطلاقات پر اور اکثر کتب اسی پر جاری ہیں اور عام تفریعات اس سے مستخرج ہیں جیسا کہ ہمارے حاشیہ ردالمحتار سے ظاہر ہے اور میرے علم کے مطابق دونوں تصحیحوں میں یہ اصح ہے اور یہ کیسے نہ ہو حالانکہ محققین نے تصریح کی ہے کہ کلامِ دنیوی بالاتفاق مکروہ ہے ، اور اگر امام نے اس سے ہی منع کیا ہے تواب اختلاف مرتفع ہوجائے گا حالانکہ تمام کتب اس اختلاف کے ثبوت سے مالا مال ہیں ۔ (ت)

بحرالرائق میں زیر قولِ مصنف اذاخرج الامام فلاصلٰوۃ ولاکلام (جب امام آجائے تو کوئی نماز اور کلام نہیں ۔ ت ) ہے :

اطلق فی منع الکلام فشمل التسبیح والذکر والقراءۃ وفی النھایۃ اختلف المشائخ علی قول ابی حنیفہ قال بعضھم انما کان یکرہ ماکان من کلام الناس اما التسبیح ونحوہ فلاوقال بعضھم کل ذلك مکروہ والا ول اصح اھ وکذا فی العنایۃ وذکر الشارح ان الاحوط الانصات اھ ویجب ان یکون محل الاختلف قبل شروعہ فی الخطبۃ ویدل علیہ قولہ '' علی قول ابی حنیفۃ '' و اماوقت الخطبۃ فالکلام مکروہ تحریما ولوکان امرا بمعروف اوتسبیحا اوغیرہ کما صرح بہ فی الخلاصۃ وغیرھا[3] انتھی باختصار                   

منع کلام مطلقًا کہا ، لہذا یہ تسبیح ، ذکر اور قراءت کوبھی شامل ہوگا ، نہایہ میں ہے کہ مشائخ نے امام ابوحنیفہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے قول پر اختلاف کیا ہے بعض نے کہا یہاں وہی گفتگو مکروہ ہے جو لوگوں کی ( دنیوی گفتگو ) ہو ، رہی تسبیح وغیرہ تو وہ مکروہ نہیں ، بعض نے کہا کہ یہ تمام مکروہ ہے اور پہلا اصح ہے اھ عنایہ میں بھی اسی طرح ہے ، شارح نے ذکرکیا کہ احوط خاموش ہونا ہے اور یہ ضروری ہے کہ محل اختلاف خطبہ میں شروع ہونے سے پہلے ہو اور اس پر اس کے یہ الفاظ کہ '' ابو حنیفہ کے قول پر'' دلالت کررہے اور خطبہ کے وقت کلام مکروہ تحریمی ہے خواہ امربالمعروف یا تسبیح یا اس کی مثل ہو جیسا کہ خلاصہ وغیرہ میں اس پر تصریح ہے ، انتہی باختصار (ت)

طحطاوی وردالمحتار مبحث الفاظ افتا میں ہے  :

قولہ وغیرھا کالاحوط والاظہر[4]۔

 



[1]    فتح المعین شرح قرۃ العین فصل فی صلوۃ الجمعۃ  عامر الاسلام  پورپرس ترونگاری انڈیا  ص ۱۴۶

[2]    مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب الجمعۃ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۲۸۲

[3]    بحرالرائق باب صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /  ۱۴۸

[4]    ردالمحتار خطبۃ الکتاب مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /  ۵۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن