دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

ثانیًا بعض کے نذدیك مقتدیوں کو صرف جہر ممنوع ہے آہستہ میں حرج نہیں ۔ اور اس کی تائید اس قول سے بھی مستفاد کہ عین حالتِ خطبہ میں ذکر اقدس سن آہستہ کر درود پڑھنے کا حکم دیا گیا اگر چہ تحقیق وہی ہے ، کہ دل سے پڑھے ،

کما قدمنا عن الرملی وھومعنی مافی الدرالمختار من قولہ والصواب انہ یصلی علی النبی صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم عند سماع اسمہ ،  فی نفسہ [1] اھ وان مال القہستانی الی التاویل بالاخفاء خلافالما فی الجوھرۃ وغیرھا من الکتب المعتبرۃ قال الشامی ای بان یسمع نفسہ اویصحح الحروف فانھم فسروہ بہ وعن ابی یوسف قلبا کما فی الکرمافی قھستانی واقتصر فی الجوھرۃ علی الاخیر حیث قال ولم ینطق بہ لانھا تدرك فی غیرھذا لحال والسماع یفوت [2] اھ مختصرا واما قول القھستانی انھم فسروہ بہ فانما ارادبہ دفع الاستبعاد عما اختارہ من التاویل فان ظاہر اللفظ ھوارادۃ القلب ومع ذلك ربما اطلقوہ وفسروہ بی ای بالاسرار                                 

جیسا کہ رملی کے حوالے سے ذکر کر آئے ہیں ، درمختار کے ان الفاظ سے بھی وہی مرادہے کہ صواب یہ ہے کہ حضور سرور عالم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کا اسم گرامی سن کر دل میں درود شریف پڑھاجائے اھ اگر چہ قہستانی کا میلان اخفاء کی طرف ہے مگر جوہرہ اور دیگر کتب معتبرہ اس کے خلاف ہیں ، شامی کہتے ہیں کہ اس کا اپنا نفس سن لے یا حروف کی تصحیح ہو کیونکہ علماء نے اس کی تفسیر یوں ہی کی ہے ، امام ابو یوسف سے مروی ہے کہ دل میں پڑھے جیسا کہ کرمانی میں ہے ، قہستانی نے جوہرہ میں آخری پر ہی اکتفا کیاہے ان کے الفاظ میں اس کے ساتھ نطق نہ کرے کیونکہ اس حال کے علاوہ میں اسے پایا جاسکتا ہے مگر اس کے ساتھ سماع فوت ہوجائیگا اھ اختصار ًا ۔ رہا قہستانی کا قول کہ فقہاء نے اس کی تفسیر یہی کی ہے اس سے ان کی مراد اس بُعد کو دور کرنا ہے جو ان کی اختیار کردہ تاویل

علی القولین فی تحدیدہ۔

میں تھا کیونکہ '' فی نفسہٖ '' ظاہرًا الفاظ تو ارادۂ قلب پر دال ہیں حالانکہ اس کے باوجود اس کا اطلاق کرکے اس کی تفسیر مخفی ہونے کے ساتھ کرتے ہیں ، ان دونوں اقوال پر جو اس کی تعریف کے بارے میں ہیں ۔ (ت)

ثالثًا امام نصیر بن یحٰی  وامام محمد بن الفضل وغیرہما عین حالت خطبہ میں بعید کو کہ خطبہ کی آواز اس تك نہ پہنچے انصات واجب نہیں جانتے ، ا ورامام محمد بن سلمہ بھی صرف اولٰی  کہتے ہیں اگر چہ مفتی بہ اس پر بھی وجوب ، تو اس جلسہ میں کہ آواز ہی نہیں بدرجہ اولٰی  واجب نہ کہیں گے۔ حدیقہ ندیہ میں ہے :

قال فی النھایۃ اذا کان بحیث لایسمعھا لاروایۃ فیہ عن اصحابنا فی المبسوط وقد اختلف المشائخ المتاخرون فیہ فعن محمد بن سلمۃ الانصات اولی وعن نصیر بن یحٰی  انہ کان بعیدا وکان یحرك شفتیہ بالقراٰن وفی العنایۃ ان الانصات مختار الکرخی و صاحب الھدایۃ وقال بعضھم قراءۃ القراٰن اولی وھو اختیار الفضلاء [3]۔                                                

نہایہ میں ہے اس وقت جب ایسے مقام پر ہو کہ وہ خطبہ نہیں سن رہا ، مبسوط میں ہمارے اصحاب (احناف) سے کوئی ایك روایت نہ ہے ، متاخرین مشائخ کا اس میں اختلاف ہے ، محمد بن سلمہ کے نزدیك خاموشی اولٰی  ہے ، نصر بن یحٰی  کے بارے میں ہے کہ جب ہو خطیب سے دُور ہوتے تو ان کے ہونٹ تلاوتِ قرآن سے حرکت کررہے ہوتے تھے ، عنایہ میں ہے خاموشی ، کرخی اور صاحب ہدایہ کا مختار ہے ، بعض نے فرمایا : تلاوت قرآن اولٰی  ہے ، فضلاء کے ہاں یہی مختار ہے۔ (ت) 

ردالمحتار میں فیض سے ہے : الاحوط السکوت وبہ یفتی [4] (سکوت ہی احوط ہے اور اسی پر فتوٰی  دیا جائے گا ۔ ت)

رابعًا بعض علماء کا گمان ہے کہ ہمارے امام کے نزدیك بھی صرف کلامِ دنیوی ممنوع ہے دعاء و ذکر مطلقًا جائز حتی کہ عین حالتِ خطبہ میں بھی ، اگر چہ صواب اُس کے خلاف ہے کما تقدم عن الدر ( جیسا کہ در کے حوالے سے گزرا ۔ ت ) عبدالغنی نابلسی حدیقہ میں فرماتے ہیں :

اما تامین المؤذنین علی دعاء الخطیب والترضی عن الصحابۃ والدعاء للسلطان بالنصر

خطیب کی دعاء پر مؤذنین کا آمین کہنا ، صحابہ کے نام سن کر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کہنا ، بادشاہ کے لئے دعا

فلیس ھذا من الکلام العرفی بل ھو من قبیل التسبیح ونحوہ فلا یکرہ فی الاصح [5]الخ وبینا علی ھامشھا ان ھذا من اشتباہ عرض لہ رحمہ اﷲ تعالٰی  من تصحیح النھایۃ والعنایۃ بلفظ لتجویز الکلام الاخروی وانما کلامھا فیما قبل شروع الخطبۃ و بعدھا لاحالھا ثم ھو ایضالا یخلو عن نظر کما یظھر بمراجعۃ ماعلقنا علی ھامش ردالمحتار والاصح الاحوط اطلاق المنع کم افادہ الزیلعی لذالم یمش علیہ فی عامۃ الکتب المعتمدہ کالبحر والنھر والدر ورد المحتار۔                                             

یہ کلام عرفی نہیں بلکہ ازقبیل تسبیحات وغیرہ ہے لہذا اصح قول کے مطابق یہ مکروہ نہیں الخ ، ہم نے اس کے حاشیہ میں تحریر کیا کہ علامہ   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   کو یہ اشتباہ نہایہ اور عنایہ کی تصحیح سے عارض ہوا کیونکہ انھوں نے کلام اُخروی پر محمول کیا ہےحالانکہ ان کا کلام خطبہ سے پہلے یا بعد پر محمول ہے نہ کہ درمیان میں ، پھر وہ بھی محلِ نظر ہے جیسا کہ حاشیہ ردالمحتار کی طرف مراجعت سے ظاہرہوگا اصح اور احوط مطلقًا منع ہے جیسا کہ زیلعی نے فرمایا ہے یہی وجہ ہے کہ عامہ کتب معتمدہ میں اس مسلك کو اختیار نہیں کیاگیا مثلًا بحر ، نہر ، در اور ردالمحتار (ت)

اور مذاہب دیگر پر نظر کیجئے تو حد درجہ کی توسیعیں ہیں حتّی کہ محیط میں تو یہاں تك منقول کہ :

من العلماء من قال السکوت علی القوم کان لازما فی زمن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم اما الیوم فغیر لازم [6] اھ ونقلہ عنہ القھستانی۔

بعض علماء نے کہا کہ لوگوں پر سکوت رسالت مآب   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   کی ظاہری حیات میں لازم تھا اب لازم نہیں رہا اھ اسے قہستانی نے نقل کیاہے ۔ (ت)

 



[1]    درمختار باب الجمعہ  مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /  ۱۱۳

[2]    ردالمحتار  باب الجمعہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /  ۶۰۶

[3]    الحدیقۃ الندیۃ نوع ٣٣۳۳  الکلام فی حال الخطبۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضوریہ فیصل آباد ٢۲ /  ٣٠۳۰۷

[4]    ردالمحتار  باب الجمعۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر  ١۱ /  ٦٠۶۰۶

[5]    حدیقۃ الندیۃنوع ۳۳٣ الکلام فی حال الخطبۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲٢ /  ٣٠۳۰۹

[6]    جامع الرموز بحوالہ المحیط فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبدقاموس ایران ١۱ /  ٢٦۲۶۷٧

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن