دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

(٣)جن اہل اسلام صاحبان سے یہ فعل مذکورہ بالاظہور میں آیا حکمًا یا عملًا مشیر ، ان کے ہے شرعًا کیا حکم ہے؟

(٤) بقیہٖ اہل اسلام کو فاعل مذکوربالا سے کیاعمل درآمد کرنا چاہئے؟

الجواب :

جبکھ اس مسجد جدید کو مسلمانوں نے مسجد کرلیا یہ بھی مسجدہوگئی ، مسجد اول کی اور اس کی دونوں کی حفاظت و آبادی فرض ہے ، مسجد اول کو منہدم کرکے تعمیر دنیاوی تعمیر دینی میں ہی میں شامل کر دینا حرام حرام سخت حرام ہے ، جنھوں نے ایسا کیا ہو اور جو اس میں مشیر ہوں اور جو اسے جائز رکھیں سب اس آیہ کریمہ کے تحت میں ہیں :

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآىٕفِیْنَ۬ؕ-لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(۱۱۴) [1]

اُن سے بڑھ کر ظالم کون جو اﷲ کی مسجدوں کو اُن میں اﷲ کا نام لئے جانے سے روکیں اور اُن کی ویرانی میں کوشاں ہو انھیں تو مسجدوں میں قدم رکھنا روانہ تھامگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں رسوائی اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ہے۔

فرض فرض فرض قطعی فرض ہے کہ مسجد اول کو بھی بدستور مسجد رکھیں ، اور اگر اُس کی دکانیں کرلی گئی ہوں فرضِ قطعی ہے کہ فورًا فورًا اُن دکانوں کو منہدم کرکے بدستور مسجد کا اعادہ کریں ورنہ عذاب عظیم کے مستحق ہوں گے ، جو نہ مانیں اور قرآن عظیم کی مخالفت پر اڑے رہیں مسلمانوں کو ان سے اجنتاب لازم ہے ، ان کے پاس بیٹھنا منع ہے۔

قال اﷲ تعالٰی وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۶۸) [2]۔

اﷲ تعالٰی نے فرمایا : اگر کبھی شیطان بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو مسجد ویران کر کے اس کا دکانیں کرلے وہ لوگ اگر مخالف خدا سے باز نہ آئیں تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ کوشش کرکے مسجد منہدم کو پھر مسجد کرلیں ۔ واﷲ تعالٰی اعلم

مسئلہ١١٣٨ :       از چھاونی بنمچہ توپ خانہ ٹین نزد مسجد حافظ محمد عبدالرؤف خاں پیش امام مسجد

مسجد بنانا فرض ہے یاواجب یامستحب ؟ اور برا ہے وہ پیسہ جو خرچ ہو گارے پتھر میں ، اس واسطے کہ امام اعظم   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کی خدمت میں چند آدمی حاضر ہوئے عرض کیا ، یا امام ! ہم ایك مسجد بنواتے ہیں کچھ آپ تبرکات عنایت فرمائے کہ برکت ہو ، امام صاحب نے پہلے چہرہ سائلین کی طرف سے پھیر کر خراب منہ بنایا اور ایك درہم نکال کر دے دیا دوسرے روز وہ شخص آئے اور درہم واپس دے کر کہنے لگے کہ حضرت ! لیجئے یہ درہم کوٹھا ہے اس کو بازار قبول نہیں کرتا ۔ امام صاحب نے وہ درہم لے کر رکھ لیا اور فرمایا خوش ہوکر کہ : خراب ہے وہ پیسہ جو گارے پتھر میں خرچ ہووے۔

الجواب :

یہ شیطانی خیال ہیں اور سیّدنا امام اعظم   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے جو حکایت نقل کی وہ محض کذب ، دروغ اور شیطانی گھڑت ہے ۔ ہر شہر میں ایك مسجد جامع بنانا واجب ہے اور ہر محلہ می ایك مسجد بنانے کا حکم ہے۔ حدیث شریف میں ہے :

امر رسول اﷲ ببناء المساجد فی الدور و ان تنظف [3]۔

رسول اﷲ (  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  ) نے فرمایا کہ ہر محلے میں مسجدیں بنوائی جائیں اور یہ کہ وہ ستھری رکھی جائیں ۔

بنائے مسجد میں جو مال صرف ہوتا ہے وہ گارے پتھر میں صرف نہیں ہوتا بلکہ رضائے رب اکبر میں ۔ اﷲعزوجل فرماتاہے :  فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ [4] محلوں میں مسجدیں بلند کرنے کا اﷲ نے اذن دیا ہے۔ رسول اﷲ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  فرماتے ہیں :

من بنی اﷲ مسجدا بنی اﷲ لہ بیتا فی الجنۃ زاد فی روایۃ من در ویاقوت[5]۔  واﷲتعالٰی اعلم ۔

جو اﷲکے لئے مسجد بنائے اﷲاس کے لئے جنت میں موتیوں اور یاقوت کاگھر بنائے گا۔

 

مسئلہ١١٣٩ :       از قطب پور ڈاکخانہ پیر گنج ضلع رنگ پور مسئو لہ رحمت اﷲ صاحب                      ٥رمضان ١٣٣٩ھ

چہ می فرمایند علمائے دین کہ ایك مسجد قدیم کو از مال حلال تیارکیا گیا تھا اوروقف بھی کیا گیا اس وقت ایك سود خور کے سود کا مال اور حلال مال دونوں مخلوط ہوگئے ، دونوں میں تمیز نہیں ہو سکتی کہ کون حرام کو ن حلال ہے مسجد قدیم کو تعمیر کیا یعنی گھر کو ٹین دیا در صحن مسجد کو اینٹ سے پختہ کیا اور مصلیوں کے وضو کے واسطے کنواں بنوادیا۔ اب عرض یہ ہے کہ ایسی مسجد میں نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں ؟ بینو اتواجروا

 



[1]    القرآن ٢ /  ١١٤ و ١١٥

[2]    القرآن ۶ /  ۶۸

[3]    سنن ابوداؤد باب اتخاذلمساجد فی الدور مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہو ص٦٦ ، سنن ابن ماجہ باب تطہیرالمساجد وتطییبہا مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۵

[4]    القرآن ، ٢٤ /  ۳۶

[5]    الصحیح للمسلم کتاب المساجد مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ١ /  ٦٠١ ، کتاب الزہد ٢ /  ٤١١ ، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد باب بناء المساجد مطبوعہ دارالکتاب بیروت ٢ /  ٧

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن