دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

اس قول پر تو بالخصوص اسی وقت کی دعا شرعا اجل المندوبات واجب مرغوبات سے ہے پھر اس قدر میں اصلًا شك نہیں کہ جب بغرضِ تقویت رجاء جمع احادیث واقوال علماء چاہئے ، جو امثال بابِ مثل لیلۃ القدر وغیرہا میں ہمیشہ مسلك محققین رہا ہے ، تو بقیہ اوقات کے ساتھ اس وقت بھی دعا ضرور درکار ہوگی اور اس کے نیك ومستحسن ماننے سے چارہ نہ ہوگا ، لاجرم صاحب عین العلم نے کہا جواکابر علمائے حنفیہ سے ہیں صاف تصریح فرمائی کہ اس جلسہ میں مستحب ہے ، اسی طرح امام ابن المنیر نے افادہ استحسان جمع فرمایا ، طرہ یہ کہ یہ قول امام مدوح حضرات منکرین کے امام شوکانی نے نیل الاوطار شرح ملتقی الاخبار میں نقل کیا اور مقرر ومسلم رکھا

حیث قال فی عدالا قوال ،  الثلاثون عند الجلوس بین الخطبتین حکاہ الطیبی [1] الخ ثم قال قال ابن المنیر یحسن جمع الاقوال فتکون ساعۃ الاجابۃ واحدۃ منھا لابعینھا فیصادفھا من اجتھد فی الدعاء فی جمعیھا  [2] اھ

یہاں انھوں نے تیسواں قول شمار کرتے ہوئے کہاکہ دوخطبوں کے درمیان بیٹھنے کے وقت ، اسے طیبی نے نقل کیا ہے الخ پھر کہا کہ ابن منیر نے کہا تمام اقوال احسن ہے ساعتِ قبولیت تو ایك ہی ہے اسے وہی پائے گا جو تمام وقت دعا میں رہے گا۔ (ت)

یہ حکم امام کاہے ، رہے مقتدی ان کے بارے میں ہمارے ائمہ کرام   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  مختلف ، امام ثانی عالمِ ربانی قاضی الشرق والغرب حضرت امام ابویوسف رحمۃ ا ﷲ تعالٰی  علیہ کے نزدیك انھیں صرف بحالتِ خطبہ سکوت واجب ، قبل شروع وبعد ختم وبین الخطبیتن دعا وغیرہ کلامِ دینی کی اجازت دیتے ہیں ، اور امام الائمہ مالك الازمہ حضرت امام اعظم   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  خروجِ امام سے ختم نماز تك عند التحقیق دینی ودنیوی ہر طرح کے کلام یہاں تك کہ امر بالمعروف وجوابِ سلام بلکہ مخل استماع ہر قسم کے کام سے منع فرماتے ہیں اگر چہ کلام آہستہ ہو اگر چہ خطیب سے دوربیٹھاہو کہ خطبہ سُننے میں نہ آتا ہو ، امام ثالث محررالمذہب محمد بن الحسن   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   بین الخطبتین میں امام اعظم اورقبل وبعد میں امام ابو یوسف کے ساتھ ہیں ، درمختار میں ہے :

اذاخرج الامام من الحجرۃ والافقیامہ للصعود شرح المجمع فلا صلٰوۃ ولا کلام الی تمامہا ولو تسبیحا او رد سلام اوامرا بمعروف بلا فرق بین قریب وبعید وقالا لاباس بالکلام قبل الخطبۃ وبعدھا واذاجلس ،  عند الثانی والخلاف فی کلام

جب امام حجرہ سے نکلے ورنہ وہ جب منبر پر چڑھنے کے لئےکھڑا ہو ، شرح المجمع ، تو اس وقت سے اختتام تك نہ نماز ہے نہ کلام اگرچہ وہ ایك تسبیح یا سلام کا جواب یا امر بالمعروف ہو ، قریب اور بعید بیٹھنے والے میں کوئی فرق نہیں ، صاحبین کے نزدیك خطبہ سے پہلے اور بعد اور امام ابویوسف کے ہاں جب خطیب درمیان میں بیٹھے

١یتلق بالاٰخرۃ اماغیرہ فیکرہ اجماعا [3]اھ ملتقطا

گفتگو میں کوئی حرج نہیں ، لیکن یہ اختلاف اس گفتگو کے بارے میں ہے جو آخرت سے متعلقہ ہو اس کے علاوہ گفتگو بالاتفاق مکروہ ہے ۔ (ت)

تحقیق یہی ہے ، اگر چہ یہاں اختلاف نقول ، حداضطراب پر ہے کہ سب کو مع ترجیح وتنقیح ذکر کیجئے تو کلام طویل ہو ، اس تحقیق کی بنا پر حاصل اس قدر کہ مقتدی دل میں دعا مانگیں کہ زبان کو حرکت نہ ہو توبلاشبہ جائز کہ جب عین حالتِ خطبہ میں ، وقت ذکر شریف حضور پرنور سید عالم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   دل سے حضور پردرود بھیجنامطلوب ، توبین الخطبتین کہ اما م ساکت ہے دل سے دعابدرجہ اولٰی  روا ، ردالمحتار میں ہے :

اذا ذکر النبی صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم لایجوز ان یصلوا علیہ بالجھربل بالقلب وعلیہ الفتوی رملی [4]۔

جب سرور عالم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   کا مبارك ذکر آئے تو بالجہر کی بجائے دل میں درود شریف پڑھ لیا جائے ، اسی پر فتوٰی  ہے ۔ رملی (ت)

اور زبان سے مانگنا امام کے نزدیك مکروہ ، اور امام ابی یوسف کے نزدیك جائز ، اور مختار قول امام ہے ، تو بیشك مذہب منقح حنفی میں مقتدیوں کو اس سے احتراز کا حکم ہے نہ  کہ  اس بنائے فاسد پر جو مبنائے جہالات وہابیہ ہے کہ عدمِ ورود خصوص ، ورودِ عدم خصوص ہے ، وہ بھی خاص حقِ جواز میں ، منع کے لئے ممانعت خاصہ خدا ورسول کی کچھ حاجت نہیں کہ یہ تو محض جہل وسفہ وتحکم ہے بلکہ اس لئے کہ اذا خرج الامام فلا صلٰوۃ ولاکلام ( جب امام نکل آئے تو نہ کوئی نماز ہے نہ کلام ۔ ت) پس غایت یہ کہ جو لوگ اس مسئلہ سے ناواقف ہوں انھیں بتادیا جائے نہ کہ معاذا ﷲ بدعتی گمراہ حتی کہ بلاوجہ مسلمانوں کو مشرك ٹھہر ایا جائے ، کیا ظلم ہےجب ان اشقاء کے نزدیك اﷲ عزوجلّ کو پکارنا بھی شرك ہوا تو مگر شیخ نجدی یعنی ابلیس لعین کا پکارنا توحید ہوگا حاش ﷲ( اﷲ ہی کے لئے پاکیزگی ہے ۔ ت) یہ اُن بدعقلوں کی بدزبانیاں ہیں جن کا مزہ آخرت میں کھلے گا ، جب لا الٰہ الا اﷲ مسلمانوں کی طرف سے اُن بیباکان پُر سرف سے جھگڑنے آئے گا ،

وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠(۲۲۷) [5]

اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے ۔ (ت)

قول ارجح ممانعت سہی پھر بھی ان دعا کرنے والوں کے لئے خود ہمارے مذہب وکتب مذہب میں متعدد راہیں تجویز واجازت کی ہیں :

اوّلًا یہی قول اما م ابویوسف   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  جو اس تر خیص کے ساتھ اس جہالت نجدیہ کا بھی علاج کافی ہے کہ وہ اس وقت تسبیح بالتصریح جائز بتاتے ہیں حالانکہ بہ لحاظ خصوص وقت ورود اس کابھی نہیں ۔

 



[1]    نیل الاوطار شرح منتقی الاخبار باب فضل الجمعۃ وذکر ساعۃ الاجابۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ٣ /  ٢٧٥

[2]    نیل الاوطار شرح منتقی الاخبار باب فضل الجمعۃ وذکر ساعۃ الاجابۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ٣ /  ٢٧٧

[3]    درمختار باب الجمعۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ /  ١١۳

[4]    ردالمحتار  باب الجمعۃ  مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /  ۶۰۶

[5]    القرآن  ۲۶ /  ۲۲۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن