دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

اس جائے پر بروز جمعہ بین الخطبتین کے جلسہ میں ہاتھ اٹھا کر دُعا آہستہ مانگی جاتی ہے اور بعض لوگ اس کو مکروہِ شدید وحرام وبدعتِ سیئہ وشرك قرار دے کر اس فعل کو منع کرتے ہیں ، لہذا التماس یہ ہے کہ اس کے جوابِ باصواب سے جو دافع جدال ہو تحریر فرماکر رفعِ خصومت بین المسلمین فرمائیں ۔

الجواب :

امام کے لئے تو اس دُعا کے جواز میں اصلًا کلام نہیں ، جس کے لئے نہیِ شارع نہ ہونا ہی سند کافی ، ممنوع وہی ہے جسے خدا رسول منع فرمائیں جل جلالہ و  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   ، بے اُن کی نہی کے ہر گز کوئی شے ممنوع نہیں ہوسکتی خصوصًا دُعا سی چیز جس کی طرف خود قرآنِ عظیم نے بکمال ترغیب وتاکید علی الاطلاق بے تحدید وتقیید بلایا اور احادیث شریفہ نے اسے عبادت ومغزِ عبادت فرمایا ، پھر یہاں صحیح حدیث کافحوی الخطاب اُس کی اجازت پر دلیل صواب کہ خود حضور پر نور سید عالم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   کا عین خطبہ میں دست مبارك بلند فرماکر ایك جمعہ کو مینہ برسنے اور دوسرے کو مدینہ طیبہ پر سے کُھل جانے کی دُعا مانگنا ، صحیح بخاری ومسلم وغیرہا میں حدیثِ انس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے مروی  حالانکہ وہ قطعِ خطبہ کو مستلزم ، تو بین الخطبیتن بدرجہ اولٰی  جواز ثالث ، لاجرم علمائے کرام نے شروحِ حدیث وغیرہ کتب میں صاف اُس کا جواز افادہ فرمایا ، مولٰنا علی قاری مکی حنفی   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں زیرِ حدیث یخطب ثم یجلس فلا یتکلم ( امام خطبہ پڑھے پھر بلا گفتگو بیٹھ جائے۔ ت) فرماتے ہیں :

لایتکلم ای حال جلوسہ بغیر الذکر اوالدعاء اوالقراءۃ سرا و الاولی القراءۃ لروایۃ ابن حبان کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم یقرأ فی جلوسہ کتاب اﷲ [1] الخ

نہ گفتگو کرے یعنی بیٹھنے کی حالت میں آہستہ ذکر یا قراءۃ کے علاوہ بات نہ کرے ، قراءت اولٰی  ہے کیونکہ ابنِ حبان کی روایت ہے کہ رسول اﷲ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   بیٹھنے کی حالت میں کتاب اﷲ کی تلاوت فرماتے تھے الخ (ت)

حافظ الشان شہاب الدین احمد ابن حجر عسقلانی شافعی   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   فتح الباری شرح صحیح بخاری شریف میں اسی حدیث کی نسبت فرماتے ہیں :

واستفید من ھذ ان حال الجلوس بین الخطبتین لاکلام فیہ لکن لیس فیہ نفی ان یذکر اﷲ او یدعوہ سرا[2] ۔

اس کا مفاد یہ ہے کہ دونوں خطبوں کے درمیان بلاکلام بیٹھنا ہے لیکن اس سے اس بات کی نفی نہیں کہ آہستہ آہستہ اﷲ کا ذکر اور دُعا بھی کی جائے ۔ (ت)

علامہ زرقانی مالکی   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   شرح مواہب لدنيہ ومنح محمدیہ میں فرماتے ہیں :

ثم یجلس فلا یتکلم ( جھرافلا ینافی روایۃ ابن حبان انہ کان یقرأفیہ ای الجلوس وقال الحافظ مفاده[3]) الی اخرمامر۔

پھر خطیب گفتگو کے بغیر بیٹھ جائے ( یعنی بلند آواز سے گفتگو نہ کرے یہ بات روایت ابن حبان کے منافی نہیں کہ رسول اﷲ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   اس ( جلوس) میں قراءت فرماتے ہے اور حافظ نے کہا اس کا مفاد وہ جو پہلے بیان ہوچکا ہے ۔ (ت)

بلکہ صحیح حدیث حضور سید المرسلین   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   ومتعدد اقوال صحابہ وتابعین کی رو سے یہ جلسہ اُن اوقات میں ہے جن میں ساعتِ اجابت جمعہ کی امید ہے ، صحیح مسلم شریف میں بروایت حضرت ابی موسٰی  اشعری   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے مروی کہ حضورِ اقدس   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   نے دربارۂ ساعتِ جمعہ فرمایا :

ھی مابین ان یجلس الامام الی ان تقضی الصلٰوۃ [4]۔

امام کے جلوس سے نماز ختم ہونے تك ساعت جمعہ ہے ۔ (ت)

دوسری حدیث میں آیا حضور پرنور صلوات اﷲ وسلامہ علیہ نے فرمایا : شروع خطبہ سے ختم خطبہ تك ہے رواہ ابن عبدالبرعن ابن عمر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا   (اسے ابن عبدالبر نے حضرت عبداﷲ ابن عمر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا    سے روایت کیا ہے ۔ ت) اِنہی ابن عمر و ابو موسٰی    رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  سے مروی کہ خروج امام سے ختمِ نماز تك ہے ۔ یونہی امام عامر شعبی تابعی سے منقول رواہ ابن جریر الطبری (اسے ابن جریر طبری نے روایت کیا ہے ۔ ت) انھی شعبی سے دوسری روایت میں خروجِ امام سے ختم خطبہ تك اس کا وقت بتایا رواہ المروزی (اسے امام مروزی نے روایت کیا ۔ ت) اسی طرح امام حسن بصری سے مروی ہوا رواہ ابن المنذر (اسے ابن المنذر نے روایت کیا ۔ ت) ابن عباس   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  نے اذان سے نماز تك رکھا رواہ حمید بن زنجویہ ( اسے حمید بن زنجویہ نے روایت کیا ۔ ت) بہر حال یہ وقت بھی ان میں داخل ، تو یہاں دُعا ایك خاص ترغیب شرح کی مورد خصوصًا حدیث دوم پر جبکہ کسی مطلب خاص کے لئے دُعا کرنی ہو جسے خطبہ سے مناسبت نہ ہو تواس کے لئے یہی جلسہ بین الخطبتین کا وقت متعین بلکہ علامہ طیبی شارح مشکوٰۃ نے بالتعیین اسی وقت کو ساعتِ اجابت بتایا اور اُسے بعض شراح مصابیح سے نقل فرمایا بلکہ خود ارشاد اقدس مابین ان یجلس الامام ( امام کے بیٹھنے سے لے کر ۔ ت) سے یہی جسلہ مراد رکھا ، اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ میں ہے :

می گفت آنحضرت   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   درشان ساعۃ الجمعۃ کہ آں ساعت میان نشستن امام ست برمنبر تا گزاردن نماز ، طیبی ازجلوس ، نشستن میان دو خطبہ مراد داشتہ [5] الخ

حضور   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   نے جمعہ کی ساعت کے بارے میں فرمایاکہ وہ گھڑی امام کے منبرپر بیٹھنے سے لے کر نماز ادا کرنے تك ہوتی ہے ، علامہ طیبی نے جلوس سے مراد دو خطبوں کے درمیان بیٹھنا لیا ہے الخ (ت)

 



[1]    مرقاۃ شرح مشکوٰۃ  باب الخطبہ والصلٰوۃ الخ مطبوعہ مکتبہ امداد یہ ملتان ٣٣ /  ٢٧٠

[2]    فتح الباری شرح البخاری  باب القعدۃ بین الخطبتین یوم الجمعۃ  مطبوعہ مصطفی البابی مصر ٣ /  ٥٧

[3]    شرح الزرقانی علی المواہب  الباب الثانی فی ذکر صلوتہ   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   الجمعۃ  مطبوعہ دارالمعرفت بیروت ۷ /  ۳۸۵

[4]    صحیح مسلم شریف کتاب الجمعۃ  مطبوعہ نورمحمد اصح المطا بع کراچی ١ /  ٢٨۱

[5]    اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ  کتاب الجمعۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر  ۲ /  ۵۷۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن