30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب :
اذانِ خطبہ کے جواب اور اس کے بعد دُعا میں امام وصاحبین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا اختلاف ہے بچنا اولٰی ، اور کریں تو حرج نہیں ، یوں ہی اذانِ خطبہ میں نام ِپاك سن کر انگوٹھے چومنا اس کا بھی یہی حکم ہے لیکن خطبہ میں محض سکوت وسکون کا حکم ہے ، خطبہ میں نامِ پاك سن کر صرف دل میں درود شریف پڑھیں اور کچھ نہ کریں زبان کو جنبش بھی نہ دیں ، واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ١٤٠٥ : از قصبہ سرسی محلہ بوچڑ خانہ کلاں پرگنہ سنبھل ضلع مرا دآباد مسئولہ حافظ خدا بخش وشیخ عبدالعزیز یکم ذی القعدہ ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ فرقہ نجدیہ کے اشخاص جابجا گشت کرتے ہیں اور مومنین مومنات کو بہکاتے پھرتے ہیں ان کا بیان سننے کو کوئی نہیں ٹھہرتا ، تو انھوں نے اب یہ کید کیا ہے کہ بوقت خطبہ جمعہ اغوا شروع کرتے ہیں اور اس کا نام خطبہ رکھتے ہیں ، یہ فرقہ کیا حکم رکھتا ہے ار خطبہ جمعہ دراصل اردو میں جائز بھی ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب :
وہابیہ کفار مرتدین ہیں جیسا کہ علمائے حرمین شریفین کے فتوے “ حسام الحرمین “ سے ظاہر ہے ، ان کا خطبہ باطل ، ان کی نماز باطل ، ان کے پیچھے نماز باطل محض جیسے کسی ہندو یا نصرانی کے پیچھے ، اور اردو میں خطبہ پڑھنا سنت متوارثہ کا خلاف اور بہت برا ہے ، اور وہابیہ کے طور پرتو اصل ایمان میں خلل انداز ہے کہ بدعت ہے اور ان کے نزدیك ہر بدعت اصل ایمان میں خلل انداز اگر چہ اُن کے پاس سرے ہی سے نہیں واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ١٤٠٦ : ازاوجین گوالیار مرسلہ مولوی یعقوب علی خاں ١٥جمادی الآخرہ١٣٠٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید ایك قصبہ میں نسلًا بعد نسلٍ مسند قضا پر بحکم حاکم واتفاقِ جماعتِ مسلمانان مامور ہے اور امامت وخطابت اور نماز عیدین بلکہ تمام کاروبار متعلقہ عہدہ قضا کرتا ہے اور سوائے زید کے شوہرِ ہندہ نے تمام عمر امامت وخطیبی نہ کی باوجود ان وجوہات کے ہندہ نے بعد وفاتِ شوہر اپنے کے بشرارت چند کس زید کو بلاوجہ خدمتِ مذکور سے علیحدہ کرکے عمر و داماد اپنے کر بحکم حاکم قائم مقام زید کیا چاہتی ہے ، ہندہ چچی زید ہے تو باجازت واعانت عورت بلا استرضا کے اقوام اہل اسلام عمر وامامت وخطابت کرسکتا ہے یا نہیں ؟ بسند کتاب بیان فرمائیں .
الجواب :
عورت کہ سلطنت نہ رکھتی ہو اورا سی طرح سلطانِ اسلام یا اس کے نائب ماذون کے سواکسی حاکم کا کسی شخص کو خطیب یا امام جمعہ مقرر کرنا اصلًا معتبر نہیں ، نہ ایسے شخص کے خطبہ پڑھتے یا نماز پڑھانے سے جمعہ ادا ہوسکے کہ اس میں اذنِ سلطانِ اسلام شرط ہے جسے اس نے مقرر کیایا اس کے مقرر کئے ہوئے نے اذن دیا وہی خطیب وامام ہو سکتا ہے دوسرا نہیں ، درمختار میں ہے :
الجمعۃ شرط لصحتھا السلطان اومامورہ باقامتھا قالوا یقیمھا امیر البلد ثم الشرطی ثم
صحتِ جمعہ کے لئے سلطان یا اس کے مامور برائے اقامتِ جمعہ کا ہونا ضروری ہے فقہاء نے فرمایا
القاضی ثم من ولاہ قاضی القضاۃ [1] اھ ملتقطا
کہ جمعہ امیر یا شہر قائم کرے اس کے بعد محاسبہ پھر قاضی پھر وہ شخص جسے قاضی القضاۃ نے مقرر کیا ہو اھ اختصارًا (ت)
پس اگر آباء واجداد زید سلطنت اسلام سے اس عہدہ پر از جانبِ سلاطین اسلام مقرر تھے اور وہ خطباء و ائمہ یکے بعد دیگرے اپنی اولاد میں ایك دوسرے کو نائب کرتے آئے یہاں تك کہ یہ نہایت زید تك پہنچی تو زید خود سلاطین اسلام کی طرف سے اس عہدہ پر مامور گناجائے گا اوراس کے ہوتے ہوئے اگر تمام اہل شہر بے اس کے اذن کے دوسرے کوامام یا خطیب مقرر کرنا چاہیں گے ہرگز جائز نہ ہوگا نہ بغیر اس کی اجازت کے کسی کی خطبہ خوانی یا امامت صحیح ہوگی ، ردالمحتار میں ہے :
الاذن من السلطان انما یشترط فی اول مرۃ فاذا اذن باقامتھا لشخص کان لہ ان یأذن لغیرہ وذلك الغیرلہ ان یأذن لاخر وھلم جرا ولاتصح اقامتھا الا لمن اذن لہ السلطان بواسطۃ او بدونھا اما بدون ذلك فلا[2]اھ ملخصا
سلطان کا اذن پہلی دفعہ شرط ہے جب سلطان کسی شخص کو اقامت جمعہ کا اذن جاری کر دے تو وہ شخص کسی دوسرے کو اجازت دے سکتا ہے اسی طرح وہ آگے ایسا کرسکتا ہے ، اقامتِ جمعہ وہ قائم کرسکتا ہے جس کو اذنِ سلطان حاصل ہو خواہ بلاواسطہ اذن ہو یا بالواسطہ ۔ لیکن اگر اذن نہیں تو جمعہ قائم نہیں کرسکتا اھ تلخیصًا (ت)
اور اگر ایسا نہیں یعنی اس کے اجداد جانبِ سلاطین اسلام سے مامور نہ تھے یا س کی انھوں نے نائب نہ کیا تاہم جبکہ یہ خود باتفاق مسلمین امامت وخطابت پر مامور ہے تو ہمارے اعصار وامصار میں بلاریب امام وخطیب صحیح شرعی ہے کہ جہاں سلطان نہ ہو اس امر کا اختیار عامہ مسلمین کے ہاتھ ہوتا ہے وہ جسے مقرر کردیں اسی کا تقرر ٹھیك ہے ، درمختار میں ہے :
نصب العامۃ الخطیب غیر معتبر مع وجود من ذکر امامع عدمعھم فیجوز للضرورۃ [3]۔
عوام کا خطیب کو مقرر کرنا مذکورہ افراد کے ہوتے ہوئے معتبر نہیں اور اگر ان میں سے کوئی نہ ہو تو ضرورت کی وجہ سے جائز ہوگا (ت)
تواس صورت میں بھی دوسرا کوئی شخص بغیر اذن زید کے امامت وخطابت کا مجازنہیں کہ آخر یہ خطیب شرعی ہے اور خطیب شرعی کے بے اجازت دوسرا امامت یا خطابت نہیں کرسکتا ، ردالمحتار میں ہے :
قولہ لوصلی احد بغیر اذن الخطیب لایجوز ظاہرہ ان لاخطیب خطب بنفسہ والاخر صلی بلا اذنہ ومثلہ مالو خطب بلااذنہ لما فی الخانیۃ وغیرھا خطب بلا اذن الامام والامام حاضر لم یجز [4] اھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع