دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 8 | فتاوی رضویہ جلد ۸

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۸

خطبہ خود وعظ وپند ہے مگر اس میں غیر عربی زبان کا خلط مکروہ وخلاف سنتِ متوارثہ ہے اگر چہ نفس فرض خطبہ خالص دوسری زبان سے ادا ہوجائے گا صحابہ کرام نے عجم کے ہزاروں شہر فتح فرمائے اور ان میں منبر نصب کئے اور خطبے پڑھے اور ان کی زبانیں جانتے تھے ان سے گفتگو کرتے تھے مگر کبھی منقول نہیں کہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں خطبہ فرمایا یا غیر زبان کو ملایا :

فھو کف والکف متبع قال صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھورد [1]۔

یہ فعل سے رکنا ہے اور رکنے میں اتباع کی جائے گی ، حضور اکرم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   نے فرمایا جس نے ہمارے کسی معاملہ میں اختراع کی حالانکہ وہ اس میں سے نہ تھی تو وہ مردہ ہوگی ۔ ت)

درمختار میں ہے :

صح لو شرع بغیر عربیہ وشرطا عجزہ وعلی ھذا الخلاف الخطبۃ[2]۔

صحیح ہے اگر اس نے نماز کی تکبیر غیر عربی میں شروع کی اور صاحبین کے نزدیك بشرطیکہ وہ عاجز ہو ، یہی اختلاف خطبہ کے بارے میں ہے ۔ (ت)

ردالمحتار  میں غرر الافکار شرح دررالبحار سے ہے :

کرہ الدعاء بالعجمیۃ لان عمر رضی اﷲ تعالٰی  عنہ نھی عن اطاعۃ الاعاجم [3] ۔

دعا عجمی زبان میں مکروہ ہے کیونکہ حضرت عمر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے عجمی لوگوں کی پیروی سے منع فرمایا ہے ۔ (ت)

اسی میں ولوالجیہ سے ہے :

التکبیر عبادۃ اﷲ تعالٰی  لایحب غیر العربیۃ [4] ۔

تکبیر ، اﷲ تعالٰی  کی عبادت ہے اور اﷲ تعالٰی  غیر عربی کو پسند نہیں کرتا ۔ (ت)

ہاں اگر اثنائے خطبہ میں مثلًا کسی ہندی کو کوئی فعل ناجائز کرتے دیکھا جیسے خطبہ ہونے کی حالت میں چلنا یا پنکھا جھلنا ، اور وہ عربی نہیں سمجھتا تو اردو میں اسے منع کرے کہ یہ حاجت یونہی رفع ہوگی ۔ واﷲ تعالٰی  اعلم

مسئلہ١٤٠١ تا١٤٠٣ :        از بھاجی بازار شہر مسئولہ مظہر حسین صاحب آزادپرائیویٹ سیکریٹری                 ٨شوال١٣٣٩ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں :

(١) قاضی وخطیب شہر گورنمنٹ کا خطاب یافتہ ہے اور اس کے متعلق اس کو معاش ، زمانہ شاہی سے ملی ہوئی ہے اس نے ذاتی رنجشوں عداوتوں کی وجہ سے خطا ب وغیرہ ترك موالات کے سلسلہ میں واپس نہیں کئے ، ویسے خلافت کاہمدرد اور قولًا فعلًا امداد کی اور کرنے کو تیار ہے ، بوجہ خطیب ہونے کے عیدیں میں خطبہ پڑھتا ہے کیا شرعًا ایسے شخص کا خطبہ سُننا جائز ہے؟

(٢) جامع مسجد اور عیدگاہ میں ایك شخص حافظ قاری جو دو حج بھی کرچکا  ہے اور خطاب یافتہ نہیں ہے منجانب قاضی وخطیب مذکور امامت کے لئے عرصہ دراز سے مقرر ہے اس کی امامت میں نماز جائز ہے یا نہیں ؟

(٣) ایك شہر میں دو خطاب یافتہ مسلمان ہیں خلافت کمیٹی بھی قائم ہے ، اس کمیٹی نے ایك خطاب یافتہ کی جانبداری اختیار کر رکھی ہے اس کو خطاب وغیرہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کرتی اور اس کی تولیت میں جو مسجد ہے اور اس میں اسی خطاب یافتہ کی جانب سے امام مقرر ہے ، اس کا خطبہ سُننا اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز قرار دیا ہے اور دوسرے خطاب یافتہ کا خطبہ سُننا اور اس کے مقرر کردہ امام کے پیچھے نماز پڑھنا ناجائز قراردیا ہے ، کیا کمیٹی کا یہ فعل فتاوٰی  علمائے کرام احکامِ خدا ورسول   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   ہے اور احکام شرعیہ میں کوئی تفرقہ ہے یا سب مسلمانوں کے لئے یکساں اور عام ہیں ؟ بینوا توجروا

الجواب :

(١) جو زمانہ شاہی سے منصب خطبہ وامامت پر منصوب ہے بلاوجہ شرعی اس کے خطبہ سُننے کو ناجائز بتانے والا شریعتِ مطہرہ پرا فتراء کرتا ہے ، خطاب واپس نہ کرنا کوئی ایسا جرم نہیں جس کے سبب اس کا خطبہ سننا منع ہوجائے اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ(۱۱۶) [5]( بلاشبہ وہ لوگ جو اﷲ تعالٰی  پر افتراء باندھتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہ ہوں گے ۔ ت)

(٢) جائز ہے اگر اس میں کوئی مانع شرعی نہ ہو اگر چہ خطاب یافتہ ہو.

(٣) یہ تفرقہ محض جہالت اور افتراء بر شریعت ہے۔ واﷲ تعالٰی  اعلم

مسئلہ ١٤٠٤ :      از ایرایان ضلع فتحپور سادات مسئولہ سید صغیر حسین صاحب نائب مدرس مڈل اسکول ١٢شوال ١٣٣٩ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جمعہ کے روز جب امام منبر پر خطبہ پڑھنے کو آجائے اور اذان کہی جائے تو کلمات اذان کا جواب دینا اور بعد ازاں دعائے اذان پڑھنی چاہئے یا نہیں ؟ اور حضور اقدس   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   کے نام پاك پر اذان میں انگوٹھا چومنا یا خطبہ میں آں حضرت کے نام پر انگوٹھا چومنا چاہئے یا نہیں ؟

 



[1]    صحیح البخاری باب اذا اصطلحوا علی صلحٍ جورٍ فہو مردود مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ /  ٣٧١

[2]    درمختار فصل واذا ارادالشروع فی الصلٰوۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ /  ٧٤

[3]    ردالمحتار مطلب فی الدعاء بغیر العربیۃ  مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ /  ٣٨٥

[4]    ردالمحتار مطلب فی الدعاء بغیر العربیۃ  مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ /  ٣٨٥

[5]    القرآن  ١٦ /  ١١٦

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن