30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا ارشادفرماتے ہیں :
(١) ہندوستان کے شہروں میں جمعہ ادا ہوتاہے یا نہیں اور جمعہ ادا کرنے کے بعدظہر احتیاطی واجب ہے یا مستحب یا مکروہ؟
(٢) کیا ایك وقت میں دو نمازیں فرض ہیں اور کیا جمعہ ادا کرنے سے ظہر ساقط نہیں ہوتی۔
(٣) ہندوستان کے جن شہروں میں جامع مسجد کا امام باتفاق مقرر کیا گیا ہے کیا وہ اقامت وادائیگی جمعہ کے لئے کافی ہے یا بادشاہِ اسلام یا نائبِ بادشاہ کی ضرورت ۔ مختصر اولہ حوالہ کتب کے ساتھ جواب مرحمت ہو۔
الجواب :
(١) ہندوستان کے شہروں میں جمعہ صحیح ہے اور ظہر احتیاطی صرف خواص کو مناسب ہے۔ درمختارمیں ہے :
نصب العامۃ غیم معتبر مع وجود من ذکر۔ امامع عدمھم فیجوز للضرورۃ [1]۔
جب مذکور اشخاص موجود ہوں تو عوام کا مقرر کرنا معتبر نہیں اور مذکورہ افراد نہ ہوں تو ضرورت کے پیش نظر تقرر جائز ہوگا ۔ (ت)
اس مسئلہ کی تحقیق وتفصیل ہمارے فتاوٰی اور ہمارے رسالہ لوامع البھا میں ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
(٢) ایك وقت میں دو فرض ہر گز نہیں اور جمعہ جب ادا ہوجائے گا ظہر ساقط ہوجائے گی ایسے ہی خیالوں سے بچنے کو علماء نے عوام کو ظہر احتیاطی کا حکم نہ دیا۔ ردالمحتار میں ہے :
ولذا قال المقدسی نحن لا نامر بذلك امثال ھذہ العوام بل ندل
ہم ایسی اشیاء کا حکم عوام کو نہیں دیتے بلکہ خواص کو بتاتے ہیں اگر چہ خواص عوام کی
عليہ خواص ولو بالنسیۃ الیھم [2] ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
نسبت سے ہوں ۔ (ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(٣) وہ امام کافی ہے اگر صحیح العقیدہ ، صحیح القرائۃ ، صحیح الطہارۃ ، جامع شرائط صحت ہو ، ابھی درمختار سے گزرا : یجوز للضرورۃ ( ضرورت کے لئے جائز ہے ۔ ت) واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ١٣٩٥ : از پیلی بھیت محلہ پنجابیاں مسئولہ محمد یونس صاحب ٢٧ شعبان١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مقام پر دریا شہر میں واقع ہے اور ایك آگبوٹ یہاں مدام کھڑا رہتا ہے اور جہاز والے چند جہازوں کو اس آگبوٹ میں لاکر جوڑ تے ہیں مال اور سواریاں جہازوں کی آگبوٹ اُتارتے ہیں اور آگبوٹ کے اگے ایك پُل لوہے کا بنا ہوا ہے سواریاں شہر کواسی پُل سے پار ہوکر جاتی ہيں اور اس آگبوٹ اور جہازوں میں تین گز کا فاصلہ ہے اور جہازوں والے بوجہ خوف چوری کے شہر میں جاکر نماز ادا کرنے سے منع کرتے ہیں توازرُوئے شرع نماز ان کی جائز ہوتی ہے یا نہیں ؟
الجواب :
دریا میں نماز جمعہ وعیدین نہیں ہوسکتی ، اگر سمندر ہے جب تو ظاہر ہے کہ وہ حکم دارالحرب میں ہے اور دارالحرب میں جمعہ وعیدین باطل ۔ ردالمحتار میں ہے :
فی حاشیۃ بی السعود عن شرح النظم الھاملی سطح البحرلہ حکم دارالحرب [3]۔
حاشیہ ابوسعود میں شرح النظم الہاملی کے حوالے سے ہے کہ سطح سمندر کا حکم دارالحرب کا ہے (ت)
اسی میں دُرمنتقی شرح الملتقی سے ہے : البحر الملح ملحق بدارالحرب [4]( نمکین سمندر ، دارالحرب سے ملحق ہے ۔ ت)) اور اگر دریا ہو تو دریا نہ مصر ہے نہ فنائے مصر ، یہاں تك کہ شہر کے دوحصے کہ اس کے دو پہلوں پر آباد ہوں دوشہر کے مثل ہیں کہ دریا ایك جداومستقل چیز بیچ میں فاصل ہے۔ فتح القدیر میں ہے :
اصلہ عندابی حنیفہ لایجوز تعدد ھافی
اس کی اصل امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے نزدیك یہی ہے
فی مصر وکذاروی اصحاب الاملاء عن ابی یوسف انہ لا یجوز فی مسجد ین فی مصر الا ان یکون بینھا نھر کبیر حی یکون کمصرین وکان یامر بقطع الجسر ببغداد کذلك [5]۔
کہ ایك شہرمیں متعدد جگہ جمعہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح اصحاب الاملاء نے امام ابویوسف سے روایت کیا کہ شہر میں دومساجد میں جمعہ نہیں ہوتا ، ہاں جب ان کے درمیان بڑی نہر ہو تو وہ اس وقت دوشہروں کی طرح ہوجائیں گے ، اسی لئے انھوں نے بغداد میں پل ختم کرنے کا حکم جاری فرمایا تھا ۔ (ت)
ظاہر ہے کہ فنا تابع ہے نہ کہ قاطع ، اور جمعہ وعیدین نہیں ہوسکتے مگر مصر یا فنائے مصر میں ، یہ سب اس صورت میں ہے کہ خوف صحیح ہو اترنا متعذر ہو ورنہ نماز پنجگانہ ووتر وسنت فجر بھی ان جہازوں میں نہیں ہوسکتے کہ ان کا استقراء پانی پر ہے اور ان نمازکی شرطِ صحت استقرار علی الارض مگر بحال تعذر ، فتح القدیر میں ہے :
[1] درمختار باب الجمعۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١١٠
[2] ردالمحتار باب الجمعۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ١ / ٩٧ ۔ ٥٩٦
[3] ردالمحتار باب استیلاء الکفار مطبوعہ مصطفی البابی مصر ٢ / ٦٧ ۔ ٢٦٦
[4] ردالمحتار باب استیلاء الکفار مطبوعہ مصطفی البابی مصر ٢ / ٦٧ ٢
[5] فتح القدیر باب صلٰوۃالجمعہ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ٢ / ٢٥
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع