30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(٤) الوداع کہ رائج ہے نہ کوئی شرعی حکم ہے نہ اس سے منع شرعی ، ہاں علماء اس کا التزام نہ کریں ، کبھی ترك بھی کریں کہ عوام واجب نہ سمجھنے لگیں ، او ر سچی الوداع قلب سے ہے کہ رمضان شریف کے آنے سے خوش ہو اور جانے سے غمگین ، اور اگر یہ حالت ہو کہ آنا بار تھا اور جا نے کے لئے گھڑیاں گنیں تو جو جھوٹی الوداع ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ١٣٨٢ : از جانب انجمن اہلسنت وجماعت سہسوانی ٹولہ بریلی ١٠محرم الحرام ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك فرد یا ایك گروہ حنفی المذہب اہلسنت والجماعت کا جو کہ حتی الامکان مشرکوں بدعتیوں وہابیوں اور خصوصا رافضیوں سے مجتنب ہے اور ان سے عمل ترك موالات جائز رکھتا ہے لیکن شرکتِ نماز جماعت اور خـصوصا نمازجماعت کثیرکا شائق ہے اس جانکاہ وجگر خراش ہنگامہ محرم الحرام کے موقع پر یہ دیکھتے ہوئے کہ جمعہ کا روزعشرہ کا دن نماز جماعت اور عیدگاہ کا موقع ہے جس کا انتظام بریلی کے حنفی المذہب اہل سنت والجماعت انجمنوں کی مشترکہ کوششوں سے ہوا ہے مگر اس ہنگامہ میں تعزیہ دار بدعتی وغیر ہم شامل ہیں نیز اس گروہ کثیر کا اجتماع محض تعزیہ داری وتخت بینی کی وجہ سے ہواہے کیا اس نماز جماعت میں شریك ہوسکتا ہے اور اس کو نماز کا اس قدر ثواب جتنا کہ اتنی بڑی جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے سے حاصل ہونا چاہئے حاصل ہوگا اور یہ بھی کہ آمد وشد میں اس کی نظر تخت و تعزیہ وغیرہ اور ان اشخاص پر پڑے کہ جو خوشی ومیلہ سمجھ کر اس موقع پر جمع ہوئے ہیں تو اس کے مطمحِ نظر کو دیکھتے ہوئے اس کے ثواب نماز جماعت وجمعہ میں فرق آتا یا اس کا گناہگار ہونا تو لازم نہ ہوگا۔
الجواب :
جبکہ جماعت کا انتظام سنی حنفی اصحاب نے کیا اور امام سنی حنفی جامع شرائط امامت ہوگا تو اس میں بلاشبہہ جماعتِ کثیر کا ثواب ملنے کی امید واثق ہے ، تعزیہ داری ایك بدعت عملی ہے وہ اس حد تك نہیں کہ اس کے مرتکب معاذاﷲ رافضی وہابی وغیر ہم خبثاء کی مثل ہوں یا معاذ اﷲ ان کی جماعت جماعت نہ ہو یا ان سے اجتناب ایسا ہی فرض ہو جیسا ان خبیثوں سے ضروریات دین بالائے سر ، وہ عقائد ضروریہ اہلسنت کے بھی منکر نہیں ، نہ محبوبان خدا کی معاذ اﷲ تو ہین کرتے ہیں ، نہ کسی محبوب بارگاہ سے معاذاﷲ دشمنی رکھتے ہیں ، پھر ان خبیثوں کوان سے کیا نسبت ، یہ عقیدۃً ہم میں سے ہیں اور جو کچھ کرتے ہیں پیش خود محبت محبوبانِ خدا کی نیت سے کرتے ہیں ، براہ جہالت ونادانی اس میں لہو ولعب وافعال ناجائز شامل کرتے ہیں لہذا ان کی جماعت پر حکم جماعت نہ ماننا محض ظلم ہے اور جب اس کی نیت تماشا دیکھنے کی نہیں نماز باجماعت کثیر کی نیت ہے تو راستے میں ان چیزوں پر نگاہ پڑنے کا اس پر الزام نہیں جیسا کہ زمانۂ عرس میں آج کل مزارات طیبہ کی حاضری۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ١٣٨٤ : ازعیش آرا ضلع میمن سنگھ پوسٹ کالوہا خندہ کار معظم علی صاحب ١٠محرم الحرام ١٣٢٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں مسئلہ رحمکم اﷲ تعالٰی فی الدارین کہ اس دیار میں چند علماء جاہلوں کو یہ دھوکا دے رہے ہیں کہ گاؤں میں جمعہ درست نہیں اور پڑھنے والاگنہگار ہوگا کیونکہ جمعہ جبکہ درست نہیں تو اس سے فرض ظہر کا ساقط نہیں ہوا بہت جگہ کے جمعہ کو ایسے ویران کردیا اور عیدین کی نماز بھی منع کرتا ہے اور خود بھی نہیں پڑھتا ہے ، اور یہ بھی کہا کرتا ہے کہ جو شخص گاؤں میں نماز جمعہ و نماز عید ادا کرتا ہے وہ گناہ کبیرہ کا اصرار کرتا ہے اور گناہ کبیرہ کا اصراركرنے والا کافر ہے ، آیا ایسے عالم جو نمازین مومنین کو کافر کہتا ہے کے لئے کیا حکم ہے ؟
الجواب :
دیہات میں نماز جمعہ وعیدین مذہبِ حنفی میں جائز نہیں مگر جہاں ہوتا ہے اسے بند کرنا جاہل کا کام ہے
قال اﷲ تعالٰی اَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ یَنْہٰی ۙ﴿۹﴾ عَبْدًا اِذَا صَلّٰی ﴿ؕ۱۰﴾[1] اﷲ تعالٰی کا فرمان ہے : کیا آپ نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو نماز پڑھنے سے روکتا ہے (ت)
اور جو انھیں کافر کہتا ہے گمراہ وبددین ہے نہ وہ کبیرہ ہے لاختلاف الائمۃ (ائمہ کے درمیان اختلاف کی وجہ سے ۔ ت) نہ کبیرہ پر اصرار اہلسنت کے نزدیك کفر۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ١٣٨٤تا ١٣٨٥ : جملہ اہل اسلام قصبہ بیرہٹہ ریاست سوامی جے پور معرفت حامد محمد مدرس فارسی اسکول بیراہٹہ بذریعہ ڈاك خانہ تھانہ غازی ریاست الور۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ :
(١) ایك قصبہ میں قاضی اور خطیب مسجد جامع سندی پادشاہی رہتے ہیں اور وہ دونوں حسب ونسب میں برابر اور برادر ہیں اور علم فارسی ومسائل میں حسب لیاقت خود ہیں الّا قاضی کہ بزعم قضایت ونفسانیت ونقیض باہمی ، یہ کہتا ہے کہ نماز جمعہ پڑھانے کا میرا حق ہے اور خطیب مسجد جامع کہتا ہے کہ میں قاضی نہیں الاّ خطیب سندی پادشاہی ہوں میں نماز جمعہ پڑھانے کا مستحق ہوں یا مجھ سے اجازت لے کر آپ قاضی صاحب یا دیگر جوافضل ہوں وہ پڑھائیں لیکن قاضی صاحب بوجوہات مندرجہ بالا کے اجازت ناگوار سمجھتے ہیں اور اسی چھوٹے قصبہ میں جامع مسجد پادشاہی کو چھوڑ کر دوتین آدمیوں میں سے دیگر مسجد میں علیحدہ جمعہ پڑھتے ہیں اور مسجد جامع درمیان قصبہ کہ جہاں گردنواح میں قومِ ہنود آباد ہے ایسے مقام پر اہل اسلام کی جماعت کی نماز ہونا زینت وشوکت اسلام میں داخل ہے پھر جماعت اسلام میں خلل انداز ہوکر جامع مسجد کو چھوڑ کر دیگر مسجد میں علیحدہ جمعہ پڑھتے ہیں اس حالت میں جمعہ کون پڑھا نے کا مستحق ہے خطیب مسجد جامع یا قاضی صاحب یا دیگر اور جازت بھی خطیب سے لینا واجب ہے یانہیں ، اور جمعہ کون سی مسجد میں ہونا واجب ہے ، اور اس چھوٹے قصبہ میں دو جمعہ بوجوہات مندرجہ بالا جائز یا ناجائز؟ از روئے شرع شریف مع تشریح کے جواب سے مطلع فرمائیں ۔
(٢) ایك قصبہ میں زید نامی شخص کہ جو نابینا اور مرض بھگندر یعنی ناسور دائمی میں مبتلا ہے کہ جس کی وجہ سے جسم وجامہ کی پاکی وناپاکی مشتبہ رہتی ہے کہ جن کا پاك ہونافرائض نماز میں سے ہے او زید بھی کہتا ہے کہ مجھ پر سے جمعہ ساقط ہوچکا پھر کیا وجہ ہے کہ عید و جمعہ کی امامت بخواہش نفسانی خود کرتا ہے اگر اس سے کہا جاتا ھے کہ بقول آپ کے جمعہ ساقط آپ پر ہوچکا ہے اور آپ معذور ہیں پھرامامت آپ کی کس طرح جائز اور درست ہوسکتی ہے ، زید نے کوئی ثبوت اس بارہ میں نہیں دیا آیا زید کی امامت جائز ہے یا ناجائز؟ اس لئے مکلف خدمت بابرکت میں ہیں کہ دونوں سوالات کے جواب بالتشریع حوالہ کتب ائمہ مجتہدین وآیات شریف واحادیث شریف تحریر فرمائیں ۔
الجواب :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع